Showing posts with label Dr Javed Jamil. Show all posts
Showing posts with label Dr Javed Jamil. Show all posts

مرے سینے میں دھڑکتا دل_ بےقرار ہوتا


مرے سینے میں دھڑکتا دل_ بےقرار ہوتا
مجھے کاش آج تک بھی ترا انتظار ہوتا

تری یاد پر ہے جیسا مرا دائمی تسلط
تری دل کی دھڑکنوں پر یونہی اختیار ہوتا

مرا پیار پیار کب ہے، مرا پیار تو جنوں ہے
نہ جنوں سہی کم از کم ترا پیار پیار ہوتا

غلطی نہ تھی مری ہی، غلطی تھی کچھ تری بھی
تو جو شرمسار ہوتا، میں بھی شرمسار ہوتا

چڑھی دھوپ مشکلوں کی توجھلس گئی پلوں میں
بھلا ایسی دوستی پر کسے اعتبار ہوتا

مری حیات میں الفت کہاں سے آ جاتی


مری حیات میں الفت کہاں سے آ جاتی
تھا غم نصیب، مسرت کہاں سے آ جاتی

نہ ہوتا نفس تو چاہت کہاں سے آ جاتی
نہ ہوتا دل تو عقیدت کہاں سے آ جاتی

نہ ہوتی عقل تو حیرت کہاں سے آ جاتی
نہ ہوتی روح تو حکمت کہاں سے آ جاتی

ٹکا ہوا ہے یہ عالم کشش کے محور پر
کشش نہ ہوتو محبت کہاں سے آ جاتی

اسے پتہ ہے کہ وہ حسن کا ذخیرہ ہے
نہ جانتا تو نزاکت کہاں سے آ جاتی

حقارتوں نے سفر کر لیا ہے ہونٹوں تک
وگرنہ لہجے میں شدت کہاں سے آ جاتی

نہ ہوتی شام توآتی کہاں سے یہ ٹھنڈک
نہ ہوتی صبح تو حدت کہاں سے آ جاتی

قناعتوں کا اگر ہوتا غلبہ فطرت پر
ابھر کے لب پہ شکایت کہاں سے آ جاتی

یقین کا ابر مری روح پر بھی برسا ہے
وگرنہ دل میں صداقت کہاں سے آ جاتی

نہ کوئی نظم_ امارت نہ کوئی شوق_ جہاد
خدائے پاک کی نصرت کہاں سے آ جاتی

ہے زعم زن کو کہ مرد آیا بطن سے اس کے
نہ آتا مرد تو عورت کہاں سے آ جاتی

ترے مزاج میں ہوتی نہ شاعری جاوید
تو یہ لطیف نفاست کہاں سے آ جاتی

ہر شخص چاہتا ہے اسے آشیاں ملے


ہر شخص چاہتا ہے اسے آشیاں ملے  
اورآشیاں میں خلد_ بریں سا سماں ملے  

ہر تحفه خاص ہوتا ہے لیکن وہ خاص شخص 

اک پھول دے گیا تو لگا دو جہاں ملے

جی چاہتا ہے دیکھ لوں جی بھر کے پیار سے 
بچھڑے گا آج وہ تو نہ جانے کہاں ملے 

چلتے رہے تو آ گئے منزل کےآس پاس
رستہ میں لاکھوں ٹھہرے ہوئے کارواں ملے 

جو مردہ جسم و جان میں اک روح پھونک دے
تحریک کو نیا کوئی روح _ رواں ملے 

جس میں ہو صرف نور, اندھیرا چھپا نہ ہو
ایسی کہیں کوئی نئی اک کہکشاں ملے 

جاوید امتحان توآئیں گے بار بار 
مشکل خدا کرے نہ کوئی امتحاں ملے 

نہیں خود کوئی شے نکلے اندھیرے


نہیں خود کوئی شے نکلے اندھیرے
اجالے چھپ گئے، آئے اندھیرے

ہوئے رو رو کے پاگل سے اندھیرے
کسی کی یاد کے مارے اندھیرے

شفق نے آنکھ کھولی ہے ذرا سی
ادھر دوڑے ادھر بھاگے اندھیرے

اجالے چبھتے ہیں آنکھوں میں میری
مجھے لگنے لگے اچھے اندھیرے

مشقت کیجئے گا خوب دن بھر
لگیں گے رات بھر میٹھے اندھیرے

چلی سرگوشیاں ان سے سحر تک
نہ گونگے ہیں نہ ہیں بہرے اندھیرے

نہ چہرہ ہے نہ انکا عکس کوئی
بھلا دیکھیں گے کیا شیشے اندھیرے

کھلا آنکھوں کو رکھ پائیں گے کب تک
سلا کرکے ہی دم لینگے اندھیرے

ہیں جانے تجھ سے کیوں جاوید نالاں
کئے ہی جاتے ہیں شکوے اندھیرے

صداقتوں کو فروغ دینا، یہ نیک خو میری فکر کی ہے



صداقتوں
کو فروغ دینا، یہ نیک خو میری فکر کی ہے
رہ_خدا کے خطوط کیا ہیں، یہ جستجو میری فکر کی ہے
جوحق سے محروم ہیں جہاں میں، ہوں انکا ہمدم ہر اک قدم پر
قلم ہو میرا زبان_ خلقت, یہ آرزو میری فکر کی ہے
نہ لغو باتیں پسند لب کو، نہ فحش قصے عزیز دل کو
ہر ایک عنصر ہے پاک اسکا، یہ گفتگو میری فکر کی ہے
ہیں معرفت کے چراغ روشن بصیرتوں کے ہیں گل معطر
یہ شاعری میری زندگی ہے کہ آبرو میری فکر کی ہے
ہماری جیسی بھی سوچ ہوگی ہمارا ویسا ہی حال ہوگا
جو حالت_زار قوم کی ہے وہ ہو بہو میری فکر کی ہے
ہر ایک بستی ہر ایک وادی، ہر ایک جنگل، ہر ایک صحرا
پہنچ گئی ہے ہر ایک جا پر، شعاع_ ضو میری فکر کی ہے
نشان جاوید چند رب نے دکھا دئےعلم کے مجھے کیا
کمال یہ ہے کہ آج شہرت ہر ایک سو میری فکر کی ہے

قصّہ درد_دل سناتے کیا


قصّہ درد_دل سناتے کیا 

خوش تھی محفل بہت, رلاتے کیا

ایک طوفان سا تھا یادوں کا

چاہتے بھی تو روک پاتے کیا؟ 

آرزو کی ہے خو گلے پڑنا 

آرزو کو گلے لگاتے کیا 

انکا ہر جلوہ جان لیوا ہے 

ملتے رہتےتو جاں سے جاتے کیا؟ 

آخر_شب تھی شمع چپ چپ تھی 

اب اسے اور ہم جلاتے کیا

کر دیا ہم نے خم سر_تسلیم 

یہ نہ کرتے تو سر کٹاتے کیا ؟

غم کا رشتہ تھا دل کی دھڑکن سے 

اس سے پیچھا کبھی چھڑاتے کیا

صبح آنے میں دیر تھی جاوید

آپ تھے نیند میں اٹھاتے کیا  

محدود ہوں, نہیں ہوں کسی انتہا میں میں


محدود ہوں, نہیں ہوں کسی انتہا میں میں
مجھ میں خدا نہیں ہے, نہیں ہوں خدا میں میں   

دیکھ آج آ گئی مری پرواز عرش تک
کل تک دکھائی دیتا تھا غار_ حرا میں میں

بچے اگر ہوا میں تو میں آسمان پر
بچے اگر زمیں پہ تو تحت الثرا میں میں

مجھ پر برس رہی ہیں ہر اک لمحہ رحمتیں
رہتا ہوں والدین کی ہر اک دعا میں میں

جاوید جانتا ہوں شہادت کا مرتبہ
لونگا مزہ حیات کا جام_ قضا میں میں

بھٹکا نہ بھوکا پیاسا اکیلا کہاں کہاں


بھٹکا نہ بھوکا پیاسا اکیلا کہاں کہاں
دیوانہ وار تجھ کو نہ ڈھونڈھا کہاں کہاں   

سیمابیء مزاج نے آوارہ کر دیا
دن رات پھرتا رہتا ہوں تنہا کہاں کہاں

اچھا یہی ہے گھر میں رہیں امن و چین سے
باہررہیں گے محو تماشا کہاں کہاں  

زخمی ہوئے عوام کے جذبات آج پھر
ہو گا نہ جانے خون خرابا کہاں کہاں  

جا کر نہ جانے بیٹھا ہے کس آسمان پر
ڈھونڈھا نہیں ہے تجھ کو مسیحا کہاں کہاں

آخر میں نکلا دل ہی میرا رہنماے حق
اور میں پھرا نہ جانے بھٹکتا کہاں کہاں

میں ابر بن کے جاؤنگا جاوید ہر جگہ
اتنا بتا دے صرف ہیں صحرا کہاں کہاں

اگرچہ سب کو وہی ایک تھا ملا لمحہ


اگرچہ سب کو وہی ایک تھا ملا لمحہ 
حقیقتاً تھا سبھی کا جدا جدا لمحہ
 
ہوا کے دوش پہ دیکھو وہ چل پڑا لمحہ
وہ دیکھو برق روی سے گزر گیا لمحہ
 
عجیب طور سے ہر مرتبہ ملا لمحہ
کبھی مرض تو کبھی بن گیا دوا لمحہ
 
اداس اداس ہے منظر تو یاد_ جاناں کر
پلک جھپکتے ہی بن جاےگا حنا لمحہ
 
فساد، جنگ، تلاطم، مصائب و آلام
نہ جانے دیتا ہے کس کس کو کیا سزا لمحہ
 
ترا یہ فرض ہے اسکی کرے پذیرائی
جو تیرے ہاتھ یہ قسمت سے لگ گیا لمحہ
 
مجھے یقین ہے راہ_ سفر میں انساں کے
چراغ_ راہ بنیگا کوئی نیا لمحہ
 
عطا جو کرتا ہے دل کو متاع_ سوز و گداز
پلٹ کے آتا ہے اکثر وہ کرب کا لمحہ
 
خطا کرائی جو آدم سے، تھی خطا پہلی
خطا کے بعد کیا کرتا ہے خطا لمحہ 
 
ہر ایک زیست میں آے جو بن کے لمحہء شکر
خدا کرے کبھی آے وہ خوشنما لمحہ   
 
میں خوش گمان بھی ہوں بد گمان بھی جاوید
نہ جانے آےگا کیا لیکے سرپھرا لمحہ