Showing posts with label Rafiq Sandeelvi. Show all posts
Showing posts with label Rafiq Sandeelvi. Show all posts

Andharay ke taqub mein kai kirnein laga de ga

اندھیرے کے تعاقب میں کئی کرنییں لگا دے گا
وہ اندھا داؤ پر ابکے میری آنکھیں لگا دے گا

مسلسل اجنبی چاپیں اگر گلیوں میں اتریں گی
وہ گھر کی کھڑکیوں پہ اور بھی میخیں لگا دے گا

فصیل سنگ کی تعمیر پر جتنا بھی پہرا ہو
کسی کونے میں کوئی کانچ کی اینٹیں لگا دے گا

میں اس زرخیز موسم میں بھی خالی ہا تھ لوٹا تو
وہ کھیتوں میں قلم کر کے میری با نہیں لگا دے گا

وہ پھر کہ دے گا سورج سے سوا نیزے پہ آنے کو
کٹے پیڑوں پہ پہلے موم کی بیلیں لگا دے

Gul hi nahin saleeb pe sara chaman charha

گل ہی نہیں صلیب پہ سارا چمن چڑھا
کن فرقتوں کی بھینٹ مرا تن بدن چڑھا

جو جیتے جی برہینہ ہیں ان کو لباس دے
قبروں پہ چادروں کے نہ رنگیں کفن چڑھا

مر جائے یوں نہ ہو ترے اندر کا آدمی
سوچوں کی سیڑھیوں پہ نہ اتنی گھٹن چڑھا

سرما کی رات گھر کے دریچے نہ بند کر
نخل بدن پہ چاند کی پہلی کرن چڑھا

Kha jaein na chelein hi beyaban mein aankhein

کھا جائیں نہ چیلیں ہی بیابان میں آنکھیں
رکھ لینا حفاطت سے قلم دان میں آنکھیں

خوشبو کی طرح پھیلی ہے کمرے میں بصارت
شب چھوڑ گیا کون یہ گل دان میں آنکھیں

نا بینا جنم لیتی ہے اولاد بھی اس کی
جو نسل دیا کرتی ہے تاوان میں آنکھیں

کس طرز کی کاٹیں گئیں فصلیں کہ نئے سال
گودام میں بازو ہیں تو کھلیان میں آنکھیں

گو میرے قدم شہر کی حد چھوڑ چکے ہیں
پھرتی ہیں ابھی تک ترے دالان میں آنکھیں
رفیق سندیلوی

Wapas na aaye phol se jismon ko cheer ke

واپس نہ آئے پھول سے جسموں کو چیرکے
جھوٹے تھے کتنے ربط کمانوں سے تیر کے

کھڑکی میں طشت تھامے ہوئے تھا کسی کا ہاتھ
ٹوٹے پڑے تھے کاسے گلی میں فقیر کے

کٹ جائے خیر ہی سے نیابت کا مرحلہ
شہزادگاں سے جلتے ہیں بیٹے وزیر کے

سوچو تو بے جواز تھیں کھیڑوں سے نفرتیں
کیدو نے سارے خواب بکھیرے تھے ہیر کے

کاغذ پہ ثبت کوئی تو ایسا پیام تھا
دشمن نے پاؤں کاٹ دئے ہیں سفیر کے