Showing posts with label Dilawar Figar. Show all posts
Showing posts with label Dilawar Figar. Show all posts

Mosiqi Aur Elaj



اک محقق نے نئی تحقیق فرمادی ہے آج
فن موسیقی سے بھی ممکن ہے جسمانی علاج
سچ ہے یہ دعویٰ تو رخصت اے اطبائے کرام
مصطگی کو بندگی قرص ملین کو سلام
اب تو نوٹنکی ہی میں ہوگا علاج سامعین
الفراق اے عود شیریں ، الوداعِ اے نسپلین
اب دوا کے بد لے گانوں کو کیا جائے گاچوز
گل نفشہ کی جگہ ہوگا گل نغمہ کا یوز
اب اطبا بھی نظر آئیں گے شہنائی بدست
ان کا میوزک سنتے ہی ہو جائے گا بیمارمست
ڈاکٹر صاحب پڑھیںگے جب پیا نورپر غزل
پھر تو گھوڑے کی طرح دوڑے گا بیمارِ ازل
تھر ما میٹر کی جگہ منہ میں لگا کر بانسری
ڈاکٹر دیکھے گا کیا حالت ہے اب بیمار کی
موت بھی اس شخص تک آتے ہوئے گھبرائے گی
جس کے سر پر نزع میں ڈفلی بجائی جائے گی
ایسے الفاظ اب نظر آئیں گے سائن بورڈ پر
مطرب رنگیں نوامس ناز لیڈی ڈاکٹر 
مستند قوال پورے ڈاکٹر ہوجائیں گے
صرف ساز ندے جو ہیں کمپونڈر ہوجائیں گے
شمع محفل خوف کرے گی جب دوا کا انتظام
بعض پروانوں کو ہو جائے گا مصنوعی زکام
اس کو کہتے ہیں خدا کی دین، یہ ہوتی ہے دین
اب سول سرجن بنے گا جانشین تان سین
چوں کہ نسخوں میں سفارش ہوگی کچھ اشعار کی
صرف شاعر کو جگہ دی جائے گی عطار کی
روز اخبار میں شائع ہوںگے ایسے اشتہار
جملہ امراض نہانی کی دوا طلبہ ستار
قبض کے مارے ہوئے بیمار کو کردوخبر
ایک ٹھمری میں ہے اطر یفل زمانی کا اثر
جملہ امراض خصوصی کی دوا ئے کار گر
نغمہ ساحر بہ آواز لتا منگیشکر
اختلاج قلب کی یہ بھی دوا ہے آج کل 
بیکل اتساہی سے سنئے اے مری جانِ غزل
ضعف معدہ ہے تو مس کجن کی قوالی سنو
خشک کھانسی ہے تو نظم حضرت حالی سنو
اس طرح نسخہ لکھے گا چارہ ساز نبض بیں
دادر ادس بار ٹھمری دوعدد، اک بھیرویں
نثر سے لازم ہے دوری ورنہ رک جائے گی نبض
شعر فرما نا ضروری ورنہ ہو جائے گا قبض
جا بجا مثل شکیلہ جشن قوالی کنند
خاک ِقبرِ مشتری بائی بوقت شب خورند

Wattan walo! yeh masnoi garani dekhty jao



وطن والو! یہ مصنوعی گرانی دیکھتے جائو 
کہ سستا ہے لہو، مہنگا ہے پانی دیکھتے جائو

جنہیں روٹی نہیں ملتی وہ دس بچوں کے والد ہیں
یہ افلاس اور یہ جوش جوانی دیکھتے جائو

ہر اک والد یہاں مثل مصورہم سے کہتا ہے
کہ بعد نقش اول نقش ثانی دیکھتے جائو

وہ شے جس کے لئے جنت کو ٹھکرا یا تھا آدم نے
وہ شے پھر ہوگئی خلد آشیانی دیکھتے جائو

غریبوں کے لئے عسرت ،امیروں کیلئے عشرت
مگر مارے گئے ہم درمیانی دیکھتے جائو

فگار اس دور میں بی طنزیہ اشعار کہتاہے
تم اس شاعر کی آشفتہ بیانی دیکھتے جائو