Showing posts with label Bismil Azimabadi. Show all posts
Showing posts with label Bismil Azimabadi. Show all posts

Na apne zabt ko ruswa karo sata ke mujhe


نہ اپنے ضبط کو رسوا کرو ستا کے مجھے
خدا کے واسطے دیکھو نہ مُسکراکے مجھے

سوائے داغ ملا کیا چمن میں آکے مجھے
قفس نصیب ہو آشیاں بنا کے مجھے

ادب ہے میں جھکائے ہوئے آنکھ اپنی
غضب ہے تم جو نہ دیکھو نظر اٹھا کے مجھے

الہٰی کچھ تو ہو آساں نزع کی مشکل
دمِ اخیر تو تسکین دے وہ آکے مجھے

خدا کی شان ہے میں جن کو دوست رکھتا تھا
وہ دیکھتے بھی نہیں اب نظر اُٹھا کے مجھے

مری قسم ہے تمہیں رہروان ملک عدم
خدا کے واسطے تم بھولنا نہ جا کے مجھے

ہمارا کون ٹھکانہ ہے ہم تو بسمل ؔ ہیں
نہ اپنے آپ کو رسوا کرو ستا کے مجھے

Rukh pe gesu jo bikhar jaein gay


رُخ پہ گیسو جو بکھر جائیں گے
ہم اَندھیرے میں کدھر جائیں گے

اپنے شانے پہ نہ زلفیں چھوڑو
دل کے شیرازے بکھر جائیں گے

یاد آیا نہ اگر وعدے پر
ہم تو بے مَوت کے مر جائیں گے

اپنے ہاتھوں سے پلا دے ساقی
رند اک گھونٹ میں تر جائیں گے

قافلے وقت کے رفتہ رفتہ
کسی منزل پہ ٹھہر جائیں گے

مُسکرانے کی ضرورت کیا ہے
مرنے والے یونہی مر جائیں گے

ہو نہ مایوس خدا سے بسملؔ
یہ بُرے دن بھی گذر جائیں گے

Khezan ke janay se ho ya bahar aane se


خزاں کے جانے سے ہو یا بَہار آنے سے
چمن میں پھول کھلیں گے کسی بہانے سے

وہ دیکھتا  رہے مُڑ مُڑ کے سوئے در کب تک
جو کروٹیں بھی بدلتا نہیں ٹھکانے سے

اُگل نہ سنگِ ملامت خدا سے ڈر ناصح
ملے گا کیا تجھے شیشوں کے ٹوٹ جانے سے

زمانہ آپ کا ہے اور آپ اس کے ہیں 
لڑائی مول لیں ہم مُت کیوں زمانے سے

خدا کا شکر  سویرے سے ہی آگیا قاصد
میں بچ گیا شبِ فرقت کے ناز اٹھانے سے

میں کچھ کہوں نہ کہوں کہہ رہی ہے خاکِ جبیں
کہ اس جبیں کو ہے نسبت اِک آستانے سے

قیامت آئے قیامت سے میں نہیںڈرتا
اُٹھا تو دے کوئی پردہ کسی بہانے سے

خبر بھی ہے تجھے آئینہ دیکھنے والے
کہاں گیا ہے دو پٹّہ سرک کے شانے سے

یہ زندگی بھی کوئی زندگی ہوئی بسملؔ 
نہ رو سکے نہ کبھی ہنس سکے ٹھکانے سے
٭٭٭

Sari umeed rahi jati hai


alone-beautiful-boy-boys-city-Favim.com-442375-1.jpg (604×453)
ساری امیدرہی جاتی ہے
ہائے پھر صبح ہوئی جاتی ہے

نیند آتی ہے نہ وہ آتے ہیں
رات گذری ہی چلی جاتی ہے

مجمع حشر میں رودادِ شباب
وہ سنے بھی توکہی جاتی ہے

داستاں پوری نہ ہونے پائی
زندگی ختم ہوئی جاتی ہے

وہ نہ آئے ہیں تو بے چین ہے روح
ابھی آتی ہے ابھی جاتی ہے

زندگی آپ کے دیوانے کی
کسی صورت سے کٹی جاتی ہے

غم میں پروانوں کے اک مدت سے
شمع گھلتی ہے چلی جاتی ہے

آپ محفل سے چلے جاتے ہیں
داستاں باقی رہی جاتی ہے

ہم تو بسملؔ ہی رہے خیر ہوئی
عشق میں جان چلی جاتی ہے
...

Kahaan aaya hai dewanon ko tera kuch qarar ab tak

u-nus-g-2499569.jpg (500×333)
کہاں آیا ہے دیوانوں کو تیرا کچھ قرار اب تک
ترے وعدے پہ بیٹھے کر رہے ہیں انتظار اب تک

خدا معلوم کیوں لوٹی نہیں جا کر بہار اب تک
چمن والے چمن کے واسطے ہیں بے قرار اب تک

بُرا گلچیں کو کیوں کہئے بُرے ہیں خود چمن والے
بھلے ہوتے تو کیا منہ دیکھتی رہتی بہار اب تک

چمن کی یاد آئی دل بھر آیا آنکھ بھر آئی
جہاں بولا کوئی گلشن میں باقی ہے بَہار اب تک

سبب جو بھی ہو صورت کہہ رہی ہے رات جاگے ہو
گواہی کے لئے باقی ہے آنکھوں میں خمار اَب تک

قیامت آئے تو ان کو بھی آتے آتے آئے گا
وہ جن کو تیرے وعدے پر نہیں ہے اعتبار اب تک

سلامت میکدہ تھوڑی بہت ان کو بھی دے ساقی
تکلف میں جو بیٹھے رہ گئے کچھ بادہ خوار اَب تک

خدارا دیکھ لے دُنیا کہ پھر یہ بھی نہ دیکھے گی
چمن سے جاتے جاتے رہ گئی ہے جو بہار اب تک

قفس میں رہتے رہتے ایک مدت ہو گئی پھر بھی
چمن کے واسطے رہتی ہے بلبل بے قرار اب تک

خبر بھی ہے تجھے میخوار تو بدنام ہے ساقی
دَبا کر کتنی بوتل لے گئے پرہیز گار اب تک

ارے دامن چھڑا کر جانے والے کچھ خبر بھی ہے
ترے قدموں سے ہے لپٹی ہوئی خاکِ مزار اب تک

یہ کہنے والے کہتے ہیں کہ توبہ کر چکے بسملؔ
مگر دیکھے گئے ہیں میکدے میںبار بار اَب تک

Tang aa gaye hein kya karin is zindagi se hum


تنگ آگئے ہیں کیا کریں اس زندگی سے ہم
گھبرا کے پوچھتے ہیں اکیلے میں جی سے ہم

مجبوریوں کو اپنی کہیں کیا کسی سے ہم
لائے گئے ہیں ، آئے نہیں ہیں خوشی سے ہم

کمبخت دل کی مان گئے ، بیٹھنا پڑا
یوں تو ہزار بار اُٹھے اس گلی سے ہم

یارب! بُرا بھی ہو دلِ خانہ خراب کا
شرما رہے ہیں اس کی بدولت کسی سے ہم

دن ہی پہاڑ ہے شب غم کیا ہوکیا نہ ہو
گھبرا رہے ہیں آج سرِ شام ہی سے ہم

دیکھا نہ تم نے آنکھ اٹھا کر بھی ایک بار
گزرے ہزار بار تمہاری گلی سے ہم

مطلب یہی نہیں ہے دلِ خانہ خراب کا
کہنے میں اس کے آئیں گذر جائیں جی سے ہم

چھیڑا عدو نے روٹھ گئے ساری بزم سے
بولے کہ اب نہ بات کریں گے کسی سے ہم

تم سن کے کیا کرو گے کہانی غریب کی
جو سب کی سن رہا ہے کہیں گے اُسی سے ہم

محفل میں اس نے غیر کو پہلو میں دی جگہ
گزری جو دل پہ کیا کہیں بسمل کسی سے ہم

Sochnay ka bhi nahin waqt mayassar mujh ko


سونچنے کا بھی نہیں وقت میسّر مجھ کو
اِک کشش ہے جو لئے پھرتی ہے در در مجھ کو

اپنا طوفاں نہ دکھائے وہ سمندر مجھ کو
چار قطرے نہ ہوئے جس سے میسر مجھ کو

عمر بھر دیر و حرم نے دئیے چکر مجھ کو
بے کسی کا ہو بُرا لے گئی گھر گھر مجھ کو

شکر ہے رہ گیا پردہ مری عُریانی کا
خاک کُوچے کی تِرے بن گئی چادر مجھ کو

چُپ رہوں میں تو خموشی بھی گلہ ہو جائے
آپ جو چاہیں وہ کہہ دیں مِرے منہ پر مجھ کو

خاک چھانا کئے ہم قافلے والوں کے لئے
قافلے والوں نے دیکھا بھی نہ مُڑکر مجھ کو

آپ ظالم نہیں، ظالم ہے مگر آپ کی یاد
وہی کمبخت ستاتی ہے برابر مجھ کو

انقلابات نے کچھ ایسا پریشان کیا
کہ سوجھائی نہیں دیتا ہے ترا درمجھ کو

جُرأت شوق توکیا کچھ نہیں کہتی لیکن
پائوں پھیلانے نہیں دیتی ہے چادر مجھ کو

مل گئی تشنگی شوق سے فرصت تا عمر
اپنے ہاتھوں سے دیا آپ نے ساغر مجھ کو

اب مرا جذبۂ توفیق ہے اور میں بسملؔ
خضر گم ہو گئے رَستے پہ لگا کر مجھ کو

Sab dam bakhud hein nabz ki raftar dekh kar



سب دَم بخود ہیں نبض کی رفتار دیکھ کر
تم ہنس رہے ہو حالتِ بیمار دیکھ کر

سودا وہ کیا کرے گا خریدار دیکھ کر
گھبرا گیا جو گرمی بازار دیکھ کر

اللہ تیرے ہاتھ ہے اب آبروئے شوق
دم گھٹ رہا ہے وقت کی رفتار دیکھ کر

دیتا کہاں ہے وقت پڑے پر کوئی بھی ساتھ
ہم کو مصیبتوں میں گرفتار دیکھ کر

آتے ہیں میکدے کی طرف سے جناب شیخ
سرگوشیاں ہیں لغزشِ رفتار دیکھ کر

غیروں نے غیر جان کے ہم کو اُٹھا دیا
بیٹھے جہاں بھی سایۂ دیوار دیکھ کر

آتے ہیں بزمِ یاران میں پہچان ہی گیا
میخوار کی نگاہ کو میخوار دیکھ کر

اس مدھ بھری نگاہ کی اللہ رے کشش
سو بار دیکھنا پڑا ایک بار دیکھ کر

تم رہنمائے وقت سہی پھر بھی چند گام
چلنا پڑے گا وقت کی رفتار دیکھ کر

وقتِ سحر گذر گئی کیا کیا نہ پوچھئے
گردن میں ان کی سوکھے ہوئے ہار دیکھ کر

تلچھٹ مِلا کے دیتا ہے رندوں کو ساقیا
ساغر پٹک نہ دے کوئی ہشیار دیکھ کر

بسملؔ کو کیا ہے چادرِ رحمت رسولؐ کی
سائے میں لے ہی لے گی گنہگار دیکھ کر

تنگ آگئے ہیں کیا کریں اس زندگی سے ہم

تنگ آگئے ہیں کیا کریں اس زندگی سے ہم
گھبرا کے پوچھتے ہیں اکیلے میں جی سے ہم

مجبوریوں کو اپنی کہیں کیا کسی سے ہم
لائے گئے ہیں ، آئے نہیں ہیں خوشی سے ہم

کمبخت دل کی مان گئے ، بیٹھنا پڑا
یوں تو ہزار بار اُٹھے اس گلی سے ہم

یارب! بُرا بھی ہو دلِ خانہ خراب کا
شرما رہے ہیں اس کی بدولت کسی سے ہم

دن ہی پہاڑ ہے شب غم کیا ہوکیا نہ ہو
گھبرا رہے ہیں آج سرِ شام ہی سے ہم

دیکھا نہ تم نے آنکھ اٹھا کر بھی ایک بار
گزرے ہزار بار تمہاری گلی سے ہم

مطلب یہی نہیں ہے دلِ خانہ خراب کا
کہنے میں اس کے آئیں گذر جائیں جی سے ہم

چھیڑا عدو نے روٹھ گئے ساری بزم سے
بولے کہ اب نہ بات کریں گے کسی سے ہم

تم سن کے کیا کرو گے کہانی غریب کی
جو سب کی سن رہا ہے کہیں گے اُسی سے ہم

محفل میں اس نے غیر کو پہلو میں دی جگہ
گزری جو دل پہ کیا کہیں بسمل کسی سے ہم
*****

سونچنے کا بھی نہیں وقت میسّر مجھ کو

سونچنے کا بھی نہیں وقت میسّر مجھ کو
اِک کشش ہے جو لئے پھرتی ہے در در مجھ کو

اپنا طوفاں نہ دکھائے وہ سمندر مجھ کو
چار قطرے نہ ہوئے جس سے میسر مجھ کو

عمر بھر دیر و حرم نے دئیے چکر مجھ کو
بے کسی کا ہو بُرا لے گئی گھر گھر مجھ کو

شکر ہے رہ گیا پردہ مری عُریانی کا
خاک کُوچے کی تِرے بن گئی چادر مجھ کو

چُپ رہوں میں تو خموشی بھی گلہ ہو جائے
آپ جو چاہیں وہ کہہ دیں مِرے منہ پر مجھ کو

خاک چھانا کئے ہم قافلے والوں کے لئے
قافلے والوں نے دیکھا بھی نہ مُڑکر مجھ کو

آپ ظالم نہیں، ظالم ہے مگر آپ کی یاد
وہی کمبخت ستاتی ہے برابر مجھ کو

انقلابات نے کچھ ایسا پریشان کیا
کہ سوجھائی نہیں دیتا ہے ترا درمجھ کو

جُرأت شوق توکیا کچھ نہیں کہتی لیکن
پائوں پھیلانے نہیں دیتی ہے چادر مجھ کو

مل گئی تشنگی شوق سے فرصت تا عمر
اپنے ہاتھوں سے دیا آپ نے ساغر مجھ کو

اب مرا جذبۂ توفیق ہے اور میں بسملؔ
خضر گم ہو گئے رَستے پہ لگا کر مجھ کو

سب دَم بخود ہیں نبض کی رفتار دیکھ کر

سب دَم بخود ہیں نبض کی رفتار دیکھ کر
تم ہنس رہے ہو حالتِ بیمار دیکھ کر
سودا وہ کیا کرے گا خریدار دیکھ کر
گھبرا گیا جو گرمی بازار دیکھ کر
اللہ تیرے ہاتھ ہے اب آبروئے شوق
دم گھٹ رہا ہے وقت کی رفتار دیکھ کر
دیتا کہاں ہے وقت پڑے پر کوئی بھی ساتھ
ہم کو مصیبتوں میں گرفتار دیکھ کر
آتے ہیں میکدے کی طرف سے جناب شیخ
سرگوشیاں ہیں لغزشِ رفتار دیکھ کر
غیروں نے غیر جان کے ہم کو اُٹھا دیا
بیٹھے جہاں بھی سایۂ دیوار دیکھ کر
آتے ہیں بزمِ یاران میں پہچان ہی گیا
میخوار کی نگاہ کو میخوار دیکھ کر
اس مدھ بھری نگاہ کی اللہ رے کشش
سو بار دیکھنا پڑا ایک بار دیکھ کر
تم رہنمائے وقت سہی پھر بھی چند گام
چلنا پڑے گا وقت کی رفتار دیکھ کر
وقتِ سحر گذر گئی کیا کیا نہ پوچھئے
گردن میں ان کی سوکھے ہوئے ہار دیکھ کر
تلچھٹ مِلا کے دیتا ہے رندوں کو ساقیا
ساغر پٹک نہ دے کوئی ہشیار دیکھ کر
بسملؔ کو کیا ہے چادرِ رحمت رسولؐ کی
سائے میں لے ہی لے گی گنہگار دیکھ کر