Showing posts with label Badr Mohammadi. Show all posts
Showing posts with label Badr Mohammadi. Show all posts

Ghum tere pass main ho jaon aandhera kar de


گم ترے پاس میں ہوجائوں اندھیرا کردے
زلف کا سایہ ذرا اور گھنیرا کردے

ہو چکا ختم کھڑا پائوں پہ ہونے کا چلن
ہو سکوں جس پہ کھڑا ہاتھ وہ میرا کردے

میرا سایہ بھی بکھر جائے اجالا بن کر
مہر مصروفیت اک ایسا سویرا کردے

زہر سے کھیلنا بھی سہل ہے فکر زر میں
پیسہ وہ شے ہے کہ انساں کو سپیرا کردے

شام ہوجائے اگر جل گیا دن بھر سورج
رات بھر شمع جو جل جائے سویرا کردے

خواب سے پہلے ہی تعبیر مرے سامنے ہو
ایسا اے بدر مجھے جاگنا میرا کردے

Woh chahta nahin mujhe itni kami to hai


وہ چاہتا نہیں مجھے اتنی کمی تو ہے
میں چاہتا ہوں اس کو محبت یہی تو ہے

محرومیٔ حیات میں زندہ دلی تو ہے
زندہ ہوں میں کہ مجھ میں غمِ زندگی تو ہے

گو آنکھ میری تر نہیں لیکن نمی تو ہے
سوکھی ہوئی ندی ہی سہی پر ندی تو ہے

چھائی ہوئی ہے دھند مگر روشنی تو ہے
دے یا نہ دے دکھائی نگہ دیکھتی تو ہے

قائم ابھی جہاں میں ہے نسبت کا سلسلہ
اس کی خدائی اور مری بندگی تو ہے

ٹھہرا سراپا اس کا مری ذات کا بدل
کچھ اور بدر ہو کہ نہ ہو سادگی تو ہے

Khob roh woh shakhs kuch aisa laga


خوبرو وہ شخص کچھ ایسا لگا
پھر کوئی چہرہ نہیں اچھا لگا

اس کے جیسا دوسرا کوئی نہیں
آخرش مجھ کو وہی یکتا لگا

پائوں کے نیچے زمیں پھسلی مگر
سر کے اوپر آسماں ٹھہرا لگا

ٹیڑھی شاید منزل مقصود ہے
اپنا اپنا راستہ سیدھا لگا

رو لیا اتنا زیادہ خود پہ میں
رونے والا بھی مجھے ہنستا لگا

وہ نظر آیا بجا کچھ اس طرح
بدر کچھ کہنا مرا بے جا لگا

Go nahin is se khoon ka rishta


گو نہیں اس سے خون کا رشتہ
کم ہے کیا یہ جنون کا رشتہ

میں زمیں ہوں جو آسمان ہے وہ
ہم میں ہے بے ستون کا رشتہ

نیک ہے یا ہے بد خدا جانے
آپ سے یہ شگون کا رشتہ

ہو رہی ہے نباہ شورش سے
کون ڈھونڈے سکون کا رشتہ

سرخ ہے وقت شام مہر افق
وہ بھی رکھتا ہے خون کا رشتہ

ابن افکار بدر ہر شاعر
چاہے بنت فنون کا رشتہہ

ik inayat hai berukhi teri


اک عنایت ہے بے رخی تیری
خوبیٔ دلبری یہی تیری

شخصیت گرچہ اجنبی تیری
جان پہچانی دل کشی تیری

آسمان نظر کا چاند ہے تو
ارض دل پر ہے چاندنی تیری

کب رہی تجھ سے دشمنی مجھ کو
کیوں نہیں مجھ سے دوستی تیری

اپنے دل میں تو قید کرلے مجھے
میں چراتا ہوں دل کشی تیری

ہے مخاطب تو خوبروئوں سے
خوب ہے بدر شاعری تیری

khas hikmat se bani ek bolti tasveer ho


خاص حکمت سے بنی اک بولتی تصویر ہو
یعنی سلجھاکر لکھی الجھی ہوئی تحریر ہو

طوق گردن پر پڑے یا پائوں میں زنجیر ہو
ہاتھ میں میرے مگر اس کا کف گلگیر ہو

میں تمہارے پانے کی تدبیر کوئی کیوں کروں
گو کہ ہو روٹھی ہوئی لیکن مری تقدیر ہو

قیس پر گزری قیامت یاد آتی ہے ہمیں
تم جو بندھوائے ہمارے پائوں میں زنجیر ہو

جو گزرتی ہے قیامت تم کو ہے معلوم سب
کیسے کرتے ہو گوارا اور کچھ تاخیر ہو

ہو کسی زلفِ معنبر کے اسیر اے بدر تم
شاعری میں تو نہیں ہاں عاشقی میں میر ہو

Meri duniya se bilkul mukhtalif jahan iska


میری دنیا سے بالکل مختلف جہاں اس کا
ہے زمیں میری دشمن دوست آسماں اس کا

بے زبان یہ بندہ ٹھہرا رازداں اس کا
اس لئے نہیں ہوتا راز کچھ عیاں اس کا

اس قدر مرے گھر سے دور ہے مکاں اس کا
بس خیال ہی تنہا آسکے یہاں اس کا

مہرباں وہ اوروں پر میرے حق میں محرومی
بخشش خدا گویا پیکر بتاں اس کا

ہائے کیا قیامت ہے خود کو غیر لگتا ہوں
اپنے آپ پر جس دم ہوتا ہے گماں اس کا

آدھی جاں اسے دے دی اور پاس ہے آدھی
ٹھہرا حصہ دار ایسا بدر نیم جاں اس کا

Sab kuch iski aata se likhta hoon


سب کچھ اس کی عطا میں لکھتا ہوں
بس خدا کو خدا میں لکھتا ہوں

گو کہ مجرم ہوں میں مگر منصف
آپ اپنی سزا میں لکھتا ہوں

شور برپا ہے دل کے صحرا میں
شہر کو بے صدا میں لکھتا ہوں

سن بڑے تجربے کی بات ہے یہ
خود کو بے تجربہ میں لکھتا ہوں

ہے پرانی کتابِ زیست مگر
اک نیا تبصرہ میں لکھتا ہوں

بدر کو کچھ تو آپ بھی لکھئے
شاعر خوش نوا میں لکھتا ہوں