Showing posts with label Ahmad Ali Barqi Aazmi. Show all posts
Showing posts with label Ahmad Ali Barqi Aazmi. Show all posts

mera josh-e-junoon walihana hua


میرا جوشِ جنوں والہانہ ہوا،تلخ پھر زندگی کا فسانہ ہوا
اُس سے بچھڑے ہوئے اک زمانہ ہوا،جس کے تیرِ نظر کا نشانہ ہوا

اپنی فطرت سے مجبور ہوں اس لئے،سرکشی سے ہمیشہ گریزاں رہا
کرسکا میں تجاوز نہ حد سے کبھی،اس کا جو وار تھا جارحانہ ہوا

کام آیا نہ کچھ میرا سوزِ دروں،وہ بڑھاتا رہا میرا جوشِ جنوں
مرغِ بسمل کی صورت مرا حال تھا،جذبۂ عاشقی قاتلانہ ہوا

تھا وہ صیاد ہردم مری گھات میں،کررہا تھا تعاقب جو برسات میں
دامِ تزویر میں اُس کے میں آگیا،دشمنِ جاں مرا آب و دانہ ہوا

تھی سکونت نہ اُس کی کبھی دیرپا،آمد و رفت کا وقت کوئی نہ تھا
کوئی رہتا نہیں ہے جہاں مستقل،دل مرا ُس کا مہمان خانہ ہوا

خواب میں میرے اکثر وہ آتا رہا،ویسے مجھ سے وہ نظریں چراتا رہا
اُس کے ناز و ادا تھے حیات آفریں،جو بھی سرزد ہوا غائبانہ ہوا

امجد اسلام امجدؔ کا رنگِ سخن،عہدِ حاضر میں ہے مرجعِ اہلِ فن
دلنشیں اُن کا اسلوب اس بحر میں، اِس غزل کا میری شاخسانہ ہوا

کھا رہا تھا میں اُس کا فریبِ نظر،خانۂ دل کے تھے منتظر بام ودر
کام آئی نہ کچھ سادہ لوحی مری،کارگر اُس کا برقیؔ بہانہ ہوا

mohsin-e-insaniyat per kar rahe hein jo bhi waar


محسنِ انسانیت پر کررہے ہیں جو بھی وار
ہم تو کیا فطرت کرے گی اُن کو اک دن سنگسار

اُن سے بڑھ کر کون ہوگا امنِ عالم کا نقیب
جن کے دامن کو یہ ظالم کررہے ہیں داغدار

چشمِ عالم نے نہ دیکھا ہوگا ایسا خوبرو
جس کی زلفوں کی قسم کھاتا ہو خود پروردگار

نوعِ انساں کے دلوں پر حکمراں ہے جن کی ذات
ہیں وہی سارے جہاں کے درحقیقت تاجدار

گلشنِ اسلام ہے سرسبز اُن کی ذات سے
اُن کو حاصل ہے جہانِ آب و گِل میں اعتبار

مطلعِ انوارِ یزداں کون ہے اُن کے سوا
ہیںنظر کے سامنے شمش و قمر جن کی غبار

پا کے دو ٹکڑے ہوا ان کا اشارہ عرش پر
معجزہ شق القمر کا اس کا ہے آئینہ دار

سب سے افضل ہیں وہی کونین میں بعد از خدا
ہیں وہ صنّاعِ ازل کے ایسے برقی ؔ شاہکار