Showing posts with label Perween Kumar Ashk. Show all posts
Showing posts with label Perween Kumar Ashk. Show all posts

Musafiron se mazaq essa kyun kia is ne


مسافروں سے مذاق ایسا کیوں کیا اس نے
 پتہ بتا کے ٹھکانہ بدل لیا اس نے

کتاب لے کے محبت کی گھر سے نکلا تھا
سیاستوں کا سبق کیسے پڑھ لیا اس نے

میں آنسوئوں سے اُگاتا تھا پیڑ خوشبو کے
غزل کے دشت میں مجھ کو بسا دیا اس نے

خطوط لکھنا تو پہلے ہی کر چکا تھا ترک
کبوتروں کو بھی چھت سے اڑا دیا اُس نے

مرے مکاں میں کوئی سانپ چھپ کے بیٹھا تھا
کواڑ کھولے تو دہلیز پر ڈسا اُس نے

مری کشادہ دلی کا کچھ اعتراف کیا
ہر ایک زخم مرے نام کر دیا اس نے

وہ ننگی قبر پہ رویا کچھ اس طرح آکر
مرے مزار کو پھولوں سے ڈھک دیا اس نے

تمام زخمی پرندے پناہ لیتے تھے
بس اس خطا پہ مرا گھر جلا دیا اُس نے

صحیفے ہو گئے ناراض اشک سب مجھ کو
یہ مجھ کو کون سا کلمہ پڑھا دیا اس نے

Chand bardar ho gya hoon



چاند بردار ہو گیا ہوں میں
دیکھو! فنکار ہو گیا ہوں میں

تجھ کو سوچا ہے اس قدر میں نے
تیرا کردار ہو گیا ہوں میں

درد کا پائوں دل پہ پڑتے ہی
کتنا ہموار ہو گیا ہوں میں

قبر میں گھر بنا لیا میں نے
ہاں ! زمیں دار ہو گیا ہوں میں

شوق سے کھا رہا ہے عشق مجھے
ذائقے دار ہو گیا ہوں میں

میرے سب کار کر رہا ہے وہ
کتنا بے کار ہو گیا ہوں میں

سوکھے موسم کا  بین سنتے ہی
 میگھ ملہارہو گیا ہوں میں

اک کمینے کی روٹیاں کھا کر
سخت بیمار ہو گیا ہو گیا ہوں میں

میرے سائے میں زخم پلتے ہیں
مثلِ دیوارہو گیا ہوں میں

پھول جب سے ہوئے ہیں قتل مرے
اشک تلوار ہو گیا ہوں میں

Dil ki kitaab se sukha phool uthata hoon


دل کی کتاب سے سوکھا پھول اٹھاتا ہوں
رو رو کے  خوشبو خوشبو چلاتا ہوں

مجھ کو زندہ رہنے کی بیماری ہے
مر جاتا ہوں تو اچھا ہو جاتا ہوں

شہر دعا کو رستہ کہاں سے مُرتا ہے
نقشہ دے یہ نکتہ میں سمجھتا ہوں

ہاتھ مری کشتی کا پکڑ کر چلتا ہے
میں دریا کو ساگر تک لے جاتا ہوں

ہر دیوار کے پیچھے سو دیواریں ہیں
کتنی دیواریں میں روز گراتا ہوں

بچپن کس دہلیز پہ مجھ کو چھوڑ گیا
یہ کہہ کر ٹھہرو!! میں کھلونے لاتا ہوں

خوشبو کو ناراض نہیں میں کر سکتا
پھول کو ڈرتے ڈرتے ہاتھ لگاتا ہوں

اس سے زیادہ میرا اس سے کیا رشتہ
وہ دکھ دیتا ہے میں شکر مناتا ہوں

اک دن اس کے سامنے اشک میں رویا تھا
اپنے کئے پر آج تلک پچھتاتا ہوں

falak khanjar zameen talwaar wali


فلک خنجر زمیں تلوار والی!
مرا کوئی نہیں سرکار !!  والی!!

تری بندوق کیا مارے گی مجھ کو!
کہیں سے تیغ لا کر دار والی!!

میں سب سامان چھوڑے جاتا ہوں!
کہ گاڑی مل گئی اس پار والی!!

خوشی اک بے وفا لڑکی ہے پیارے!
یہ شئے گھر میں نہ رکھ بازار والی!!

ہے اک اک گھر اکیلا! مر چکی ہے
روایت مشترک دیوار والی!!

یہ سارے شور بن جائیں گے سرگرم!
وہ اک آواز دے گا پیار والی!!

جدا ماں سے رہا سائے کا بچہ!
کہانی کیا کہوں دیوار والی!!

سجا تو لی ہے سر پر اشکؔ دستار
میاں وہ آبرو ! دستار والی!!

woh peesh rubaru hai magar rasta nahi deta



وہ پیش رو ہے مگر راستا نہیں دیتا
بزرگ ہو کے بھی دیکھو دعا نہیں دیتا

مجھے یہ کیسا سمندر صدائیں دیتا ہے
جو مجھ کو ڈوبنے کا حوصلہ نہیں دیتا

کسی کسی کو تھماتا ہے چابیاں گھر کی
خدا ہر ایک کو اپنا پتا نہیں دیتا

وہ میرے پھول مری تتلیاں کہاں دے گا
جو ننگی شاخ کو پتہ ہرا نہیں دیتا

وہ اپنا روپ مجھ کس طرح عطا کردے
کہ جب تلک میری صورت مٹا نہیں دیتا

جدید کپڑے اُسے کیا جوانیاں دیں گے
جو بوڑھی سوچ کو چہرہ نیانہیں دیتا

مکان کاسۂ غربت میں ہو گئے تبدیل
دروں پر اب کوئی سائل صدا نہیں دیتا

میان میں کہاں رکھے گا تیغ وہ جب تک
زمیں کو خون کا دریا بنا نہیں دیتا

دکھائی دے گا ہمیں کیسے اشک عید کا چاند
ہماری آنکھوں کو جب تک بجھا نہیں دیتا