Showing posts with label Abdul Alim Aasi. Show all posts
Showing posts with label Abdul Alim Aasi. Show all posts

چھیڑ وہ نغمہ اے جنوں جس سے ہو روح مشتعل


چھیڑ وہ نغمہ اے جنوں جس سے ہو روح مشتعل
مستِ نشاط ہو، دماغ، ولولہ آفریں ہو دل

پھونک دے اے جمال یار ، خرمن آرزو مرا
اپنا مجھے دکھا مگر، جلوہ کیف مستقل

اس کے حریم ناز کا پایہ بہت بلند ہے
کم نہیں اپنا بھی مگر، حوصلہ جبینِ دل

اس کی عنایتیں نہاں ، اس کے ستم میں ہیں مگر
ہو جو نگاہ جلوہ سنج، ہو جو ادا شناس دل

تیرے نشاط درد کی چاہئے ایک لہر، بس 
پھر نہ یہ جان ہو ملول، پھر نہ یہ دل ہو مضمحل

جس کا ہر اک ذرہ ہے رقص گہ جمال قدس
ہے وہی آستاں مرا، سجدہ گہہ نیاز دل

ہے وہ شرارِ معنوی ذرہ خاک میں مرے
جلوۂ روح قدسیاں، جس سے ہے پست و منفعل

ٹھکانا مل گیا، دار و رسن سے ہم کو منزل کا



ٹھکانا مل گیا، دار و رسن سے ہم کو منزل کا
وفور شوق میں ورنہ خدا جانے کہاں جاتے

بڑی مشکل سے سنگِ آستاں سے بچ کے ہم نکلے
جبینِ شوق سے سجدوں کو دھلوانے کہاں جاتے

عنایت ہے یہ طوفاں کی اسی نے آبرو رکھ لی
سفینہ اپنا ہم ساحل سے ٹکرانے کہا ں جاتے

وفا کی شان الفت سے ہے اپنی آبرو باقی
وگرنہ ہم چمن میں آج پہچانے کہاں جاتے

بہاریں ہی نہیں بلکہ خزاں بھی رنگِ قدرت ہے
یہ دنیا گرچمن ہوتی تو ویرانے کہا ں جاتے

عروسِ غم کا احسان کم نہیں ہے حضرت آسیؔ
نہ ہوتی یہ تو اپنے دل کو بہلانے کہاں جاتے