Showing posts with label Ejaz Tawakkal. Show all posts
Showing posts with label Ejaz Tawakkal. Show all posts

Roshni dety gumanon ki tarah hota hai


روشنی دیتے گمانوں کی طرح ہوتا ہے
حسن بھی آئینہ خانوں کی طرح ہوتا ہے

ہجر وہ موسمِ ویرانیِ دل ہے جس میں
آدمی اجڑے مکانوں کی طرح ہوتا ہے

مات ہو سکتی ہے چالوں میں کسی بھی لمحے
عشق شطرنج کے خانوں کی طرح ہوتا ہے

وہ جو آتا ہے تیری یاد کے رخسار تلک
اشک تسبیح کے دانوں کی طرح ہوتا ہے

تجھ کو ہاتھوں سے گنوایا تو یہ محسوس ہوا
پیار بھی جھوٹے فسانوں کی طرح ہوتا ہے

بعض اوقات محبت کے دنوں میں اعجازؔ
ایک لمحہ بھی زمانوں کی طرح ہوتا ہے

Janay waloon se pyar mat karna


جانے والوں سے پیار مت کرنا
اب میرا انتظار مت کرنا

مدتوں بعد مسکرایا ہوں
اب مجھے سوگوار مت کرنا

جو بظاہر دکھائی دے خاموش
ایسے دریا کو پار مت کرنا

میری جانب نکلنے والا کوئی
راستہ اختیار مت کرنا

بے یقینی میں مبتلا ہوں میں
اب میرا اعتبار مت کرنا
۔

Mujhe yaksar bhulana chahta tha


مجھے یکسر بھلانا چاہتا تھا
وہ خود کو آزمانا چاہتا تھا

غرور اس شوخ کو کرنا تھا آخر
اسے سارا زمانہ چاہتا تھا

تعلق توڑ کے خوش ہوں کے وہ بھی 
بچھڑنے کا بہانہ چاہتا تھا

خبر یہ ہے کہ وہ بے درد مجھ پر
بہت سے ظلم ڈھانا چاہتا تھا

ملاقاتیں ضروری ہو گئیں تھیں
میں رنگوں میں نہانا چاہتا تھا

تیری تصویر تھی جس کو چھپا کر
میں کمرے میں لگانا چاہتا تھا
۔

Bicharnay per mujhe uksa rahi hai


بچھڑنے پر مجھے اکسا رہی ہے
وہ اب کتنا بدلتی جا رہی ہے

کسی کی یا د میری چشم تر کو
مسلسل رتجگے پہنا رہی ہے

سنبھالوں کیسے اس ریشم بدن کو
وہ ہاتھوں سے پھسلتی جا رہی ہے

محبت میں خسارے کر رہا ہوں
مجھے تاریخ پھر دہرا رہی ہے

میری تصویر اس کے سامنے ہے
وہ لڑکی کس قدر شرما رہی ہے

ہوائے سرد دل کے ساحلوں پر
محبت کے ترانے گا رہی ہے

بچایا تھا جسے مشکل سے میں نے
وہی تصویر اب دھندلا رہی ہے
   

jhilmilate hoye taroon ki tarha lagta hai


جھلملاتے ہوئے تاروں کی طرح لگتا ہے
تو مجھے اجلے نظاروں کی طرح لگتا ہے

ڈال دیتے ہیں کئی درد کٹاؤ اس میں
دل بھی دریا کے کناروں کی طرح لگتا ہے

بے یقینی ہے کہ رہتے ہیں سراب آنکھوں میں
فائدہ مجھ کو خساروں کی طرح لگتا ہے

زندگی جس نے گزاری ہو خوشی میں ساری
اسکو اک غم بھی ہزاروں کی طرح لگتا ہے

بعض اوقات محبت کی تپش میں مجھ کو
عشق بھی جلتے چناروں کی طرح لگتا ہے

مل گئی قرب مسلسل میں طبیعت اس سے
اب مجھے ہجر بھی یاروں کی طرح لگتا ہے

Roti hoi aankhon ki rawani mein maray hein


روتی ہوئی آنکھوں کی روانی میں مرے ہیں
کچھ خواب میرے عین جوانی میں مرے ہیں

روتا ہوں میں ان لفظوں کی قبروں پہ کئی بار
جو لفظ میری شعلہ بیانی میں مرے ہیں

کچھ تجھ سے یہ دوری بھی مجھے مار گئی ہے
کچھ جذبے میرے نقل مکانی میں مرے ہیں

اس عشق نے آخر ہمیں برباد کیا ہے
ہم لوگ اسی کھولتے پانی میں مرے ہیں

کچھ حد سے زیادہ تھا ہمیں شوق محبت
اور ہم ہی محبت کی گرانی میں مرے ہیں

قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اتارو
ہم لوگ محبت کی کہانی ہیں مرے ہیں
   

Main ne jab vassl ka sawal kia



میں نے جب وصل کا سوال کیا
اس نے اس بات کا ملال کیا

خوش رہے یا خدا وہ جس نے مجھے
رونے والوں میں بے مثال کیا

ایک مدت کے بعد پھر میں نے 
درد سے را بطہ بحال کیا

رو رہی ہیں ہوائیں گلیوں میں
کس کے جذبوں نے انتقال کیا

شعر میرے رُلا گئے اس کو
کل تو لفظوں نے بھی کمال کیا

سانس لینے سے جسم ٹوٹتا ہے
ہجر نے کس قدر نڈھال کیا

Koi hijar mere visaal se hai bindha hua

کوئی ہجر میرے وصال سے ہے بندھا ہوا
کہ یہ سلسلہ مہ و سال سے ہے بندھا ہوا

تیرا کل بھی ہو گا میری وفاؤں کی قید میں
تیرا ماضی بھی ہے میرے حال سے ہے بندھا ہوا

میری جیت بھی کسی ہار سے ہے جڑی ہوئی
سو عرو ج میر ا زوال سے ہے بندھا ہوا

تیرے خد و خال کی نزاکتوں سے خبر ہوئی
کہ تو آپ اپنی مثال سے ہے بندھا ہوا

میرا دل بھی ہے تیری چاہتوں کے حصار میں
میرا عشق بھی تیری شال سے ہے بندھا ہوا

وہ غرو ر کرتی ہے کتنا اپنے جمال پر
کہ شکاری اپنے ہی جال سے ہے بندھا ہوا

مجھے بے سبب تو پکارتی نہیں نیند میں
تیرا خواب میرے خیال سے ہے بندھا ہوا
۔