Showing posts with label Baqar Abbas Faez. Show all posts
Showing posts with label Baqar Abbas Faez. Show all posts

ہمیں تو دل تمہارا چاہیے، بس


ہمیں تو دل تمہارا چاہیے، بس
کہ جینے کا سہارا چاہیے بس

یہ دل کی نائو بھی پاگل ہے کتنی
اسے طوفاں کا دھارا چاہیے، بس

تھکا ڈالا ہے موج دل نے اتنا
طبیعت کو کنارہ چاہیے، بس

جلاسکتا ہے دل یہ ساری دُنیا
اسے تو اک شرارہ چاہیے، بس

نگائوں سے سما جائیجودل میں
کوئی ایسا نظارہ چاہیے، بس

مرے مالک ہے اتنی عرض مری
زمیں پر اک ستارہ چاہیے، بس

میں قرباں جان بھی کردوں گا فائیز
تمہارا اک اشارہ چاہیے، بس

کیسا عجیب شہر کا منظر ہے کیا کہوں


کیسا عجیب شہر کا منظر ہے کیا کہوں
ہر شخص ہاتھ میں لئے پتھر ہے کیا کہوں

ہر سمت لُوٹ مار کا بازار گرم ہے
سیدھا نشانے پر ہی میرا گھر ہے کیا کہوں

شاید کہ مرے خواب کی تعبیر ہی نہیں
کتنا غریب میرا مقدر ہے کیا کہوں

گزری رفاقتوں کا یہ اچھا انعام ہے
وہ آج ہاتھ میں لئے خنجر ہے کیا کہوں

ارمان دل میں ہائے سلگ کر ہی رہ گئے
شعلوں میں جل چکا جو مرا گھر ہے کیا کہوں

کیسے قفس سے نکلوں ہے تاریک اس قدر
فائیز دکھائی دیتا نہیں در ہے کیا کہوں

شہر وفا میں حسن کا بازار دیکھنا


شہر وفا میں حسن کا بازار دیکھنا
کتنے ہیں ایک دل کے خریدار دیکھنا

نظریں بتائیں عشق کی باتیں تو اور بات
خود سے مگر نہ کیجیو اظہار دیکھنا

تم ہاتھ مرا تھام کے چلنا نہ راہ میں
باتیں کریں گے شہر میں اغیار دیکھنا

اپنا خیال رکھنا ہماری قسم تمہیں
ہونا نہ اپنے آپ سے بیزار دیکھنا

نادم نہ ہونے پائیں وہ اپنے سلوک پر
رکھنا خیال اے دلِ بیمار دیکھنا

جانا بدل کے وقت کو ہرروز اس طرف
اک دن ضرور ہوئیگا دیدار دیکھنا

وہ جن کو رتی بھر بھی ہمارا نہیں خیال
فائیز انہی کے ہم ہیں طلبگار دیکھنا

ہے التجا یہ تم سے پہلا سا پیار دے دو


ہے التجا یہ تم سے پہلا سا پیار دے دو
کھوئے ہوئے سرُوں کو نغمے ہزار دے دو

اک بار پھر سے آکر سیراب مجھ کو کردو
برسات اُلفتوں کی پھر بے شمار دے دو

بھولا نہیں ہوں اب تک منظر وہ قربتوں کے
پھر سے سجادو گلشن مہکی بہار دے دو

پھر تا ہوں مضطرب میں تھمتے نہیں ہیں آنسو
بے چین کب سے دل ہے اس کو قرار دے دو

ہے عشق جرم میرا، اُلفت میں قید کرلو
بانہوں کا اپنی مجھ کو ایسا حصار دے دو

موسم ہزار بدلیں، تم جام بھرتے جائو
میں ہوش میں نہ آئوں ایسا خمار دے دو

مالا جپے یہ ہر دم بس نام کی تمہارے
فائیز کی زندگی کو وہ اعتبار دے دو