Showing posts with label Haneef Tareen. Show all posts
Showing posts with label Haneef Tareen. Show all posts

Narazgi bharay yeh sawal choriye


 ناراضگی بھرے یہ سوالات چھوڑئیے
 یا مجھ سے بد گماں ہیں تو پھر بات چھوڑئے
دکھائیں جو دل مرا
 وہ عادات چھوڑئیے
 آج کل کی خرافات کم نہیں
 آپ لکھنا مقالات چھوڑئیے
بیساکھیوں کے ساتھ کہاں تک چلیں گے آپ
 منزل ہے میری دور مرا ہات چھوڑئیے
 نہیں دیتے جو ثمر
 وہ باغات چھوڑئیے
 کوشش کے باوجود نہ جب مسئلے ہوں حل
 تو وقت ہی کے ہاتھ میں حالات چھوڑ ئیے
 ہر شعرمیں ضرور اک بات چھوڑ ئیے
 حیرانیوں کا نام نہیں شاعری حنیف
 جو منتشر کریں وہ خیالات چھوڑئیے

Jo bhok se larty raein woh shad kya abad kia


جو بھوک سے لڑتے رہیں وہ شاد کیا آباد کیا
ان کے لئے اس دہر میں ہے داد کیا فریاد کیا
کہتی ہیں میری فکر کی نا داریاں 
ان کے بنا ہو زندگی اب شاد کیا
معتوب دنیا میں ہوئے
فرعون کیا شداد کیا
دنیا مری تخلیق کی بے مثل ہے
اپنے شعورِ فن سے لوں میں داد کیا
جو دائروں میں بند ہیں ان سے یہ کہہ دو حنیف
ہے شاعری بس شاعری ، پابند کیا آزاد کیا

fursat kahaan ke roein tere intazar mein


فرصت کہاں کہ روئیں تیرے انتظار میں
ہم کھو گئے ہیں دشت ِ غم روز گار میں 
دل بھی نہیں رہااب اختیار میں
تومیرے لہو میں ہے موجزن
یا نائو ہے ایک آبشار میں
جب اپنی زندگی بھی لگے بھیک کی طرح
میں کیا کہوں کہ کیا ہے میرے اختیار میں
نکلا ہوں جب بھی اپنی انا کے حصار سے
کتنی ہی منزلیں تھیں میرے انتظار میں
کبھی آسکا نہ وقت
ہمارے شمار میں
میں نے نبی ؐ کے نام سے طوفان سر کے
بیٹھا میں نا خدائوں کے کب انتظار میں

Tu kis ke liye maghmom hai



تو کس لئے مغموم ہے
منزل مجھے معلوم ہے
جو کچھ لکھا ہے آج تک اس کی جہاں میں دھوم ہے
ہر قصۂ دنیا مرا، اک منظرِ منظوم ہے
مٹی میں ملنا ہے تو پھر
کیوں آدمی مغموم ہے
کمزور ملکوں کے لئے جو ایک خطرہ بن گیا
اس حکم نامے کے سبب دنیا بہت مغموم ہے
اپنی اَنا کو بیچ کر
حاکم خود اک محکوم ہے
جس پر فدا کون و مکاں
مومن ہے وہ معصوم ہے

Soch per pehray lagay hein paon mein zanjeer hai


سوچ پر پہرے لگے ہیں،پائوں میں زنجیر ہے
 کیا ہمارے خواب آزادی کی یہ تعبیر ہے

دل نشیں جذبات کی تفسیر ہے
شاعری نازک بدن تصویر ہے

زندہ رہنے کی ہوس لے آئی ہے مجھ کو وہاں
خوف کی سر پر جہاں لٹکی ہوئی شمشیر ہے

درد میں ڈوبے ہوئے ہیں حرف و لفظ 
غم زدہ کیا صاحب تحریر ہے

جو بھی چاہے آزما کر دیکھ لے
عزمِ دل نا قابلِ تسخیر ہے

وہ طلسم زندگی سے کیسے الجھے گا حنیفؔ
کاکل پیچاں کی جس کے پائوں میں زنجیر ہے

Jo dard o gham mein roo dia


جو درد و غم میں رو دیا
خوشی کو اسی نے کھو دیا
ثمر ہمارے ضبطِ غم نے جو دیا
نئے اُفق میں بیج اس کا بو دیا
سراب دشت کے تقاضے جب بھی سخت ہو گئے
تو میں نے اپنے زندگی کو دھوپ میں بھگو دیا
امینِ زندگی تجھے تم تو کس لئے حسیں دنوں کو ہجتوں میں کھو دیا
سرورِ ذات کو بھی خود
سراب میں ڈبو دیا
بھنور بھنور سے جو خراج لیتا حنیف اُسے
کنارے کی نحیف موج نے کہاں ڈبو دیا

Hawaon ke tevar badalty rahein gay


ہوائوں کے تیور بدلتے رہیں گے
چراغ اُن کی یادوں کے جلتے رہیں گے

تغیّر کے خواہاں ہیں جو اہل دانش وہی دیکھ لینا 
نئی تاب و تب دے کے دنیائے فن کو بدلتے رہیں گے

ظفر یاب ہوں گے وہ اک دن
جو کانٹوں پہ چلتے رہیں گے

وہی قابلِ فخر کہلائیں گے اس جہاں میں
جو دشوار راہوں میں گر کرسنبھلتے رہیں گے

نشیمن وہ محفوظ ہوگا جو اب بجلیوں سے سجے گا
مگر پھوس کے گھر ہمیشہ جلے اور جلتے رہیں گے

حنیفؔ اپنا ذوق تجسس سلامت رہا تو
فن و فکر اور رستے نکلتے رہیں گے