Showing posts with label Afsanay. Show all posts
Showing posts with label Afsanay. Show all posts

Mashrqi Khirki


اس نے صبح کے دھندلکے
 میں اپنے گھر کی مشرقی کھڑکی کے پٹ کھول کر باہر 
دیکھنے کی کوشش کی تو اسے حد نظر سمندر اپنی وسعت میں سفید دھواں دار دھند کو اپنی لپیٹ میں لیئے ہوئےمحسوس ہوا ۔ گہری دھند کے باعث اسے سمندر کی سطح پر آبی پرندے بھی اڑتے دیکھائی نہیں دے رہے تھے ۔ صبا نے اپنے چہرے پر سمندر کی نمی ذدہ ہوا کومحسوس کیا تو اس نے ہوا کے نرم اور سرد احساس کو اپنے اندر جذب کرنے کے لیئے اپنی آنکھوں کو بند کرلیا اور کچھ دیر تک کھڑکی پر کھڑے رہ کر اس ہوا سے لطف اندوز ہوتی رہی ۔ گو کہ اسکا گھر گو نا گوں جمالیاتی پہلووں کو اپنے دامن میں سمیٹے سرد اور بے ضمیر انسانی رویوں کی چغلی کھارہا تھا مگر اپنی شان اور تعمیراتی فن کے باعث وہ اھل مکین کی خوشحالی اور مسرتوں کو اپنی ساخت اور بناوٹ کے حوالے سے بھی بہت کچھ کہ رہا تھا ۔ جبکہ تمام دنیاوی آسائشات کے باوجود صبا کا دکھ کم ہونے کا نام نا لیتا تھا ۔وہ ماضی کے دھندلکوں میں کھوئی ناصر سے اپنی آخری ملاقات شدت اور کرب کے ساتھ یاد کرنے لگی ۔ ٹھیک تین برس قبل اسی مقام پر اسکا ناصر سے عقد طے پایا تھا ۔ سرخ جوڑے، پھولوں کے گہنوں اور نوادرات سے سجی صبا خوشبو سے معطر اپنے کمرے میں زندگی کی انمول حسرت کو حقیقت کا روپ دھارتے ہوئے دیکھ کر حیا سے سرخ ہوئی جارہی تھی ۔ ایک طویل اور صبر آزما زندگی کے بعد راحت و سکون کے یہ قیمتی لمحات اس کی زندگی کے کل اثاثہ تھے ۔ اور وہ چاہتی تھی کہ یہ لمحے جو اسے ناصر کی رفاقت میں نصیب ہوئے ھیں کبھی مدھم نا ہوں ۔ دونوں نے ملکر زندگی کو حسین بتانے کے وعدے کیئے ۔ بچوں کی تعداد پر خوشگور تکرار نے ماحول کو اور پرفریب بنادیا تھا ناصر بضد تھے کہ چار ہونے چاہئے صبا کا اسرار تھا کہ دو بہتر ہیں پھرمتفقہ طور پر طے یہ پایا کہ تین عمدہ رہینگے یعنی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ۔ زندگی کے تین برسوں میں صبا کے ناصر سے تعلقات قابل دید تھے، رفاقت کے یہ برس لمحہ بہ لمحہ اسے یاد آتے رہے اور آنسووں کی لڑیاں اس کے دامن کو گیلا کرتی رہیں ۔ پھر وقت کی سیاہ آندھیوں نے پوری بساط پلٹ کر رکھدی ۔ موسم کہر ایسا چھایا کہ زندگی کے کئی برس اجلی دھوپ کو ترس کے رہ گئے ۔ نینوں میں کرب اور اذیت کے آنسووں نے ہمیشہ کے لئے بسیرا کرلیا ۔ اور موسم گل پر خزاں غالب رہی ۔ صبا فصل گل لالہ کی منتظر رہی اور خزاں کا جمود ایسا طاری رہا کہ اجڑے گلستاں نے بہار کا پلٹ کر منہ نا دیکھا ۔ اس کڑے پیچیدہ، اور تناو کے ماحول سے نکلنے کے لیئے صبا نے ایک نئے عزم اور ولولے سے اپنی زندگی کا آغاز کرنا چاہا مگر درد ایسا سنگین اور بے رحم تھا کہ اپنے حصار سے اسے نکلنے نا دیا ۔ اور وہ اس درد کی اسیر ہوکر بالکل محصور ہوکر رہ گئی ۔ آخر کارصبا گھر سے نکل کر باہر آئی اور سمندر کے کنارے پہنچ کر دیر تک لہروں کو دیکھتی رہی ۔ اسی اثنا صبا نے محسوس کیا کہ ایک اجنبی خوبرو فوٹوگرافرناریل کے درختوں کی اوٹ سے اسے مسلسل دیکھ رہا ہے ۔ دوںوں آہستہ آہستہ ایک دوسرے کے قریب آنے لگے اور انتہائی قریب پہینچ کر دونوں نے ایک دوسرے کو اپنی آنکھوں میں دیکھنا شروع کیا ۔ اور اس طرح بات چیت کے دور کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ دونوں دور تک ساتھ ساتھ سمندر کے کنارے چہل قدمی کرتے رہے۔ صبا اپنے سراپے، گھنے سیاہ بالوں، سفید رنگت، کے باعث اتنی پرکشش تھی کہ ہر آنکھ اب بھی اس کی طرف اٹھتی تھی ۔ وہ دونوں دور تک ایک دوسرے کے ساتھ چہل قدمی کرتے رہے ۔ اس اثنا میں دونوں نے ایک دوسرے کی تنہائی کے بارے میں دریافت کیا ۔ صبا نے اپنی تنہائی کا زکر کرتے ہوئے اس نوجوان کو بتایا کہ کس کرب میں اس نے یہ تین سال جدائی کے سہے ہیں اور اپنی بیٹی کی وفات پر اس کے کیا تاثرات تھے ۔ وہ چھ مہینے کی حاملہ تھی اور پہلے دردوں پر وہ کس قدر خوش تھی جسکا بیان اس کے بس سے باہر تھا ۔ اس دوران وہ اپنی ماں کے گھر پر مقیم تھی کیونکہ ناصرگھر سے کافی دور اپنی پیشہ وارانہ ذمے داریاں نبھاریے تھے ۔ ناصر اس کڑے وقت پر اس کے پاس نہیں تھے اور صبا کے کہنے کے باوجود وہ اس تک نا پہنچ سکے ۔ ڈاکٹرز کے مطابق ان لمحات میں اس کے شوہر کا صبا کے پاس ہونا بہت ضروری تھا ۔ تکلیف کے یہ مراحل ناصر کی آنکھوں میں دیکھ کر باآسانی گذر سکتے تھے ۔ زندگی میں یہ وہ لمحہ تھا جب صبا کو ناصر سے نفرت سی محسوس ہوئی اور یہ نفرت اس وقت حقارت میں بدل گئی جب اسکی بیٹی مردہ حالت میں پیدا ہوئی ۔ ناصر کی بعد میں آمد پر صبا نے ناصر سے ملنے سے انکار کردیا اور اسکا گھر چھوڑ کر اپنے آبائی گھر واپس آگئی ۔ صبا نے سرگوشی کے انداز میں نوجوان کو کہا کہ آج شام ناصر یہاں آرہے ہیں تاکہ طلاق کے معاملات اپنے انجام کو پہنچیں ۔ یہ کہہ کر صبا نے اس اجنبی سے رخصت لی اور گھر کی راہ ہولی ۔ ناصرشام کو تاخیر سے صبا کے پاس پہنچے اور ان سے تنہائی میں ایک ملاقات کی اجازت چاہی ۔ جس پر صبا نے اثبات میں جواب دیا ۔ ناصر کی آنکھیں غمزدہ تھیں وہ نحیف اور کمزور دیکھائی دے رہے تھے ۔ صبا میں بہت شرمندہ ہوں اور انتہائی تکلیف کے عالم میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں اور جو بدگمنایاں تمھارے دل میں میرے لیے ہیں اسے میں دور کرنا چاہتا ہوں ۔ صبا نے ناصر کی آنکھوں میں دیکھا تو اسے اپنا درد تیرتا ہوا نظر آیا اسے تین سالوں میں پہلی بار اپنا درد کم ہوتے محسوس ہوا اسے ایسا لگا کہ اس پر ڈھویا ہوا منوں وزن اتر چکا ہے ۔ صبا نے رندھی ہوئی آواز میں ناصر سے تمام گلے شکوے کردئے اور اپنے آپکو ہلکا محسوس کرنے لگی ۔ اسی دوران ناصر نے پوری سچائی سے اپنی پریشانیاں اور مجبوریاں صبا کے گوش گزار کردیں اور یوں وہ بھی اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرچکے ۔ کہر، دھند چھٹ چکی تھی ، اجلی دھوپ نے سارے منظر واضح، صاف، شفاف کردیے تھے، آبی پرندے اور انکی مدھر آوازیں صاف دیکھائی اور سنائی دے رہی تھیں ۔ صبا نے کمرے میں پھیلی خوشبو کو باہر نا نکلنے کے سہم سے کھڑکی کے پٹ مضبوطی سے بند کردئے ۔

Adhoory Loog


کشادہ مگر خوبصورتی سے سجا کمرا گہرے اندھکشادہ مگر خوبصورتی سے سجا کمرا گہرے اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ۔ وہ  ٹھنڈے 
فرش پر گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹے دروازے سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔شدت گریہ سے پورا چہرہ سرخ ہوگیا تھا۔پپوٹے بے تحاشہ سوج گئے تھے مگر آنکھیں اب بھی مسلسل بہہ رہی تھی۔ کچھ دیر پہلے ہی اسکے بہت اپنوں کی کی گئی زہریلی باتیں اب بڑے بڑے اژدھے بنکر اسکے نازک اور کمزور وجود کے گرد لپٹ کر اسکی ہڈیاں توڑ رہے تھے۔ یہ ٹوٹنے کا عمل کئی گھنٹوں سے جاری تھامگر پھر بھی روح اسکے جسم سے آزاد نہ ہوئی تھی۔وجود کے کسی کونے میں چھپی 
بیٹھی تھی۔
جب کہ وہ خود سوچوں کے گرداب میں بری طرح پھنسی تھی، چند گھنٹے پہلے کی ہی بات ہے جب سیاہ آسمان کے دامن پر روشنی کی پہلی لکیر نے قدم دھرے تو انہی لمحوں میں وہ تخلیق کے پر اذیت مرحلے سے گزرنے کے بعد ننھے فرشتے کو 
جنم دیکر سکون کا سانس بھی خارج نہ کر پائی تھی کہ دل دہلانے والے انکشاف نے اس کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی۔



ی آمد نے تو جیسے تہلکہ مچادیاتھا۔ قیامت سے پہلے قیامت برپا کرنے والا اپنی ننھی آ نکھیں کھولنے کی کوشش میں مگن تھا۔

اسے تو خبر بھی نہیں تھی کہ اس نے کن طوفانوں کو گھر کا راستہ دکھلادیا ہے۔

وہ عورت جسے کچھ دیر قبل ہی پہلی بارماں بننے کا درجہ ملا تھا جسکے قدموں تلے جنت بچھا دی گئی تھی وہ یوں رورہی تھی جیسے کوئی ماتم ہوگیا ہو۔ اسکی آہ وزاریوں اور آنسوؤں میں سب کچھ لٹ جانے کا درد تھا۔وہ اسے چومتی جا رہی تھی اور روتی جا رہی تھی ۔

اسے معلوم تھا کہ اب کیا ہوگا۔ اسکا شوہر اور اسکے سسرال والے کیا فیصلہ کریں گے وہ جانتی تھی کہ انکا ظرف اتنا بلند ہرگز نھیں کہ وہ ادھورے بچے کو اپنائیں۔۔ مگر وہ بھی فیصلہ کر چکی تھی کہ کسی صورت بھی وہ اپنے بچے کو خواجہ سراوؤں کے حوالے نہیں کرنے دے گی۔

اگر حمزہ مجھے طلاق بھی دے دیں تب بھی میں اس بچے کو خود سے الگ نہیں کرونگی۔صوفیہ نے دل میں پختہ ارادہ کرلیا تھا۔اس کے نزدیک آخری حد طلاق ہی تھی اور وہ اس کے لئے خود کو ذہنی طور پر تیار بھی کرچکی تھی۔ اسکی آنکھیں دروازے پر لگی تھیں ۔ اسکی ساس ،سسر،نند،دیور ،اسکی دیورانی جو اسکی بہن بھی تھی اور اسکا شوہر سب آگے پیچھے کمرے میں داخل ہوئے تھے۔ اس نے خوفزدہ ہو کر بچے کے گرد اپنی گرفت مزید مضبوط کرلی۔ اسکی آنکھوں میں حراس پھیلا ہوا تھا۔

آپ سب لوگ یہاں سے چلے جائیں میں اپنا بچہ کسی کے حوالے نہیں کرونگی ۔کسی کے کچھ بولنے سے پہلے ہی وہ چیخ اٹھی۔ ایسی عورت جو کچھ وقت پہلے ہی تخلیق کے کڑے مرحلے سے گزری تھی اس لمحے زرا بھی کمزور محسوس نہ ہوئی۔سب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔سب سے پہلے اسکی بہن اسکے قریب آئی ۔

دیکھئے آپا یہ صدمہ صرف آپ کے لئے ہی نہیں ہمارے لئے بھی بہت گہرا ہے، ہم سب جانتے ہیں کہ بچے کو خود سے الگ کرنا دنیا کا مشکل ترین اور اذیت بھرا عمل ہے مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسکی آواز بھرا گئی اور وہ اپنا جملہ بھی مکمل نہ کرسکی۔

دفع ہو جاؤ میری نظروں سے تمھیں کیا لگتا ہے کے تمہاری اس تقریر کا مجھ پے کوئی اثر ہوجائیگا؟ ہرگز نہیں تم سب چاہے جتنے بھی حربے استعمال کرلو میں اپنا بچہ نہیں دونگی۔ وہ ضدی اور غصیلے لہجے میں بولی۔

تو پھر ٹھیک ہے اس ہجٹرے کو تم اپنے سینے سے لگا کر رکھو مگر طلاق کے بعد۔ تم سے ایک مکمل بچہ بھی پیدا نھیں کیا گیا۔اور خود کو عورت کہتی ہو لعنت ہے تم پر۔ اسکی کم عمر نند نے بھی اپنا حصہ ڈالنا ضروری سمجھا۔

ہاں چلی جاؤ گی میں۔وہ بستر سے اٹھنے کی کوشش کرنے لگی

؂کہاں جاوگی۔اپنے ماں باپ کے گھر ؟ ا ن سے پہلے ہی ہماری بات ہوچکی ہے۔ وہ ہمارے اس فیصلے میں ہمارے ساتھ ہیں۔ اوراگر تم گھر چھوڑتی ہو تو وہ بھی تمھیں قبول نہیں کریں گے۔ ساس کی بات سن کر ساتوں آسمان جیسے اس کے سر پر گرے تھے۔ وہ بری طرح چکرا کر رہ گئی۔

ہاں آپی،اماں ابا کا بھی یہی فئصلہ ہے کہ اس مصیبت سے جلد از جلد چھٹکارا پا لیا جائے۔ اگر محلے میں کسی کو خبر ہو گئی کہ صوفیہ کا بچہ۔۔۔ کسقدر بے عزتی ہوگی اففف۔ جو بھی کرنا ہے آج ہی کرنا ہے۔ اسکی ماں جائی بھی ا سکے غم میں شریک نہ ہوئی۔ کتنی تیزی سے سب نے مشترکہ فیصلہ کر کہ اس معصوم کی زندگی کو برزخ میں دھکیلنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔کتنے ہی لمحے وہ ششدر سی اسے دیکھتی رہی۔اورپھر جب بولی تو اسکے لہجے میں چٹانوں کی سی سختی تھی،

مجھے کسی کا سہارا نھیں چاہئے ۔ خدا کی زمین بہت بڑی ہے میں کہیں بھی چلی جاؤں گی، اسکی تربیت کر کہ اسے حلال رزق کمانے کے قابل بنا سکتی ھوں ۔ مجھ میں اتنی ہمت ہر گز نھیں کہ اپنی پیدا کردہ اولاد کو خود اپنے ہاتھوں اس حال میں پہنچاؤں کہ وہ اپنا پیٹ پالنے کہ لیے زنانہ لباس پہن کر ، میک اپ سے لتھڑاچہرہ لے کر دردر جائے اور بھیک مانگے ، روٹی کے حصول کہ لئے جسم فروشی کا کام کرے۔

حمزہ اگر مجھے طلاق دینا چاہتے ہیں تو وہ یہ بھی کر کے دیکھ لیں ۔ مین کسی دھمکی سے ڈرنے والی نہیں۔ آخر میں اسکی نگاہیں حمزہ کے چہرے پر ٹہر گئیں۔جواسکے آخری جملے پر ٓاگ بگولہ ہو گیا۔

تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں اتمہیں اتنی آسانی سے طلاق دیدونگا؟؟ اپنی اور اپنے خاندان کی بے عزتی کروانے کے لئے آزاد چھوڑ دوں گا؟؟ ہر گز نہیں ۔ میں تمہیں آزاد چھوڑ دوں تاکہ تم اس ہیجڑے کی پرورش کر کہ ایک مہان عورت کا روپ دھار لو اور لوگوں سے ہمدریاں وصولتی پھرو۔ لوگ تمھیں پوجنے لگیں کہ تم نے اس نامکمل بچے کی خاطراپنا بسا بسایا گھر چھوڑ دیا؟؟ اب وہ اس پر نفساتی دباؤ ڈال رہا تھا۔ وہ حق دق رہ گئی۔

تم اسی گھر میں رہو گی میری بیوی بن کر۔اور اس منحوس کا بندوبست بھی ہوجائے گا کچھ ہی دیر میں ۔ تمہارے پاس صرف ایک گھنٹہ ہے۔ اس سے جتنا پیار کرنا ہے کرلو۔ آج کے بعد بھول جانا کہ تم نے کسی کو جنم دیا تھا۔ وہ سفاکی کی انتہاؤں کو پار کر گیا۔ صوفیہ کے کانوں میں جیسے کسی نے پگھلا ہوا سیسہ انڈیل دیا تھا۔ حمزہ نے تو اسے ایک بند گلی میں لاکھڑا کیا تھا۔اسکی خالی التجا آمیز نگاہیں اپنے شریک حیات کے چہرے سے لپٹ گئیں۔ مگر اسے کوئی فرق نہ پڑا۔ سب ایک ایک کر کے کمرے سے نکل گئے۔

حمزہ۔ اس نے پھر سے اسے پکارا ۔ حمزہ نفی میں سر ہلاتا کمرے سے باہر جانے لگا۔

حمزہ ۔ تم تو اس بچے کے باپ ہو۔ تم ہی۔۔۔ بات درمیاں میں ہی رہ گئی حمزہ نے اچانک ہی اپناآخری قدم بھی کمرے سے باہر نکال کر دروازے کو ایک جھٹکے سے بند کردیا۔کمرے کا دروازہ بند ہونے پر اسے ہوش ٓایا تھا۔ اپنی تمام ہمت مجتمع کرکے وہ بستر سے اٹھی اور لڑکھڑاتے ہوئے وہ دروازے تک آئی ۔ یہ احساس ہی روح فرساں تھا کہ اسے قید کردیا گیا ہے۔کیا اب و ہ اپنے بچے کہلئے کچھ کر پائیگی؟؟ایک بڑا سوالیہ نشان آنکھوں کے سامنے ناچنے لگا۔۔

مت کرواتنا ظلم میرے بچے کو جانے دو۔۔۔ تمہیں خدا کا واسطہ ہے رحم کرو۔۔۔۔

میں مر جاؤں گی اسکے بغیر۔۔۔۔

اسے برباد مت کرو۔۔۔۔

وہ زورزور سے چلا کر کہ رہی تھی ۔اسکی ٓاہ و زاریاں دیواروں سے ٹکرا کراپنآ اپ بے مول کر چکی تھیں۔وہ زور زور سے دروازہ پیٹنے لگی۔ اسکے کمزور ہاتھوں میں بے پناہ طاقت آگئی تھی۔ بہت دیر تک وہ اپنے ٹوٹے وجود کو جوڑ کر احتجاج کرتی رہی۔ پھر وہ کسی کانچ کی طرح ٹوٹ کر فرش پر بکھرتی چلی گئی۔ ساری توانائی نچڑ کر رہ گئی تھی۔ وہ وہیں بیٹھ کر زار زار رونے لگی۔

اے اللہ میری مدد کر ۔۔۔۔ اس نے آنکھیں بند کر کے اپنے تخلیق کار کو شدت سے پکارا تھا۔ میرے بچے کو اس ظالم دنیا سے بچالے۔ وہ ہولے ہولے بڑبڑانے لگی۔ بہت سی کہانیاں اسکے دماغ میں جھکڑوں کی مانند چل رہی تھیں ۔

کل کو میرا بچہ بھی ایسے ہی کسی گھٹیہ کردار کے ساتھ ذلت بھری زندگی گذار ے گا۔ وہ مستقبل کی اذیتوں کو اپنی انگلیوں کی پوروں میں اترتے محسوس کر رہی تھی۔ اپنے بچے کی رونے کی ٓاواز سن کر وہ حال میں لوٹی۔ اپنی جگہ سے بمشکل اٹھ کر اس نے بند دروازے کی چٹخنی چڑھائی۔ اس ذرا سے فاصلے کو طے کرنے میں ہی ہزاروں برس کی تھکن سے اسکا وجود ٓاشنا ہوا تھا۔

صوفیہ نے بچے کو اپنی گود میں بھرا اور اسے دیکھنے لگی۔ اسکی نگاہوں میں محبت کی گہرائی سات سمندر وں جیسی تھی۔اسکے وجود کا معصوم اور پاک حصہ اس سے الگ ہو کر بے یارومددگار ہوگیا تھا۔ وہ اسے تڑپتی نگاہوں سے دیکھتی رہی۔ ٓانکھیں تھیں کہ اسکے دیدار سے سیراب نہ ہوتی تھیں ۔ کب وقت گزر گیا اسے خبر بھی نا ہوئی۔وہ تو بس اس معصوم کے چہرے کے ایک ایک نقش پر اپنی محبت کی مہر ثبت کر رہی تھی۔کوئی اسے دیکھ لیتا تو پاگل سمجھتا۔ دروازے کے پار قدموں کی چاپ ابھری۔ چاپ سن کر وہ سہمی ہرنی کی طرح چوکنا ہو گئی۔

صوفیہ دروازہ کھولو۔ بہت دیر تک دروازہ بجانے کے بعد بھی جب کوئی جواب نہ ملا تو حمزہ دھاڑ کر بولا۔

میں دروازہ نہیں کھولوں گی۔ وہ روتے ہوئے بولی ۔اور بچے کو اور زور سے خود میں بھینچ لیا۔دروازہ دھڑدھڑانے اور دھمکیوں سے بھرے جملے کسی پتھر کی طرح اسکی سماعتوں پر برس رہے تھے۔

میں کیا کروں میرے مالک۔ مجھے کوئی راستہ دکھا میری مدد فرما۔ بچہ اسکی پرزور گرفت میں مچل رہا تھا۔ اسکے مچلنے کااسے احساس ھی نھیں ہوا جبکہ وہ خود خوفزدہ نگاہوں سے دروازے کو دیکھ رہی تھی۔

دروازے پر جیسے مکوں کی بارش ہوگئی تھی۔ لگتا تھا کسی بھی آن دروازہ ٹوٹ کر نیچے گر جایے گا اور یہی ہوا۔ دو مردوں کی طاقت سے دروازہ ٹوٹ گیا تھا ۔ انہیں اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر صوفیہ بجلی کی سی تیزی سے اٹھی تھی۔

صوفیہ اس تماشے کا کوئی فائیدہ نہیں ۔ بچہ میرے حوالے کردو۔ حمزہ ٓاہستگی سے اسکے قریب ٓاتے ہوئے بولا وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے پیچھے ہوتی گئی۔ بچے کو اب بھی اس نے خود میں بھینچ رکھا تھا۔ حمزہ کے بڑھتے قدم اسکی سانسیں روک رہے تھے۔ وہ زور زور سے چیخنے لگی

میں اسے کسی صورت تمھارے حوالے نہیں کروں گی ۔ چاہے کچھ بھی ہو جائے ۔ حمزہ اسکے سرپر پہنچ گیا ۔ اور بچہ چھیننے لگا ۔

صوفیہ نے اپنی پوری طاقت لگا کر اسے دھکا دیا اور بھاگنے کی کوشش کرنے لگی مگر حمزہ نے اسکا بازوپکڑ کر اسے اپنی جانب جیسے ہی کھنچا تو بچہ صوفیہ کے ہاتھ سے پھسل کرپلک جھپکتے فرش پر گر گیا۔ صوفیہ کے حلق سے بیساختہ چیخ بلند ہوئی تھی۔حمزہ بھی لمحے بھر کے لئے ٹھٹھک گیا۔

دونوں تیزی سے بچے کے پآس آئے تھے۔

حمزہ حیرت سے ششدر رہ گیا تھا۔ بچہ فرش پر گرا تھا مگر اسکے حلق سے ایک آواز بھی نہ نکلی ۔ اس نے ایک نگاہ ساکت کھڑی صوفیہ پر ڈالی جو کسی انہونی کے ہو جانے کے خوف سے ایک قدم بھی آگے نہ بڑھا پائی۔ اسنے بے حس پڑے بچے کو گود میں بھرا۔

بچہ فرش پر گرنے سے پہلے کا مرچکا ہے۔ اسکی حیرت میں ڈوبی ٓاواز صوفیہ کے کانوں میں اتری تھی۔بچہ دم گھٹنے سے مرا تھا۔اس بات کا احساس ہوتے ہی وہ بیجا ن ہوتے وجود کے ساتھ فرش پر بیٹھتی چلی گئی۔اسکے بہتے ٓانسوں تھم گئے تھے۔خدا نے اسکے بچے کو اس ظالم دنیا سے بچا لیا تھا۔۔

ختم شُد

Jo Kiya Soo Paya


Mujhay Dhoond Shehar E Muash Main


jiyen hum kiske liye......?





چَٹاکاشاخِ اِشتہا کا

   

اِسے قریب نظری کا شاخسانہ کہیے یا کچھ اور کہ بعض کَہانیاں لکھنے والے کے آس پاس کلبلا رہی ہوتی ہیں مگروہ اِن ہی جیسی کسی کَہانی کو پالینے کے لیے ماضی کی دُھول میں دَفن ہو جانے والے قِصّوں کو کھوجنے میں جُتا رہتا ہے۔ تو یُوں ہے کہ جِن دِنوں مجھے پُرانی کَہانیوں کا ہَوکا لگا ہوا تھا ‘ مارکیز کا ننھّا مُنَا نیا ناول میرے ہاتھ لگ گیا ۔ پہلی بار نہیں ‘دوسری بار۔ اگرمیرے سامنے مارکیز کا یہ مختصر ناول دُوسری بار نہ آتا تو شاید میں اَپنے پاس مکر مار کر پڑی ہوئی اِس جنس میں لتھڑی ہوئی کَہانی کو یوں لکھنے نہ بیٹھ گیا ہوتا ۔ 
مارکیز کے ناول کودُوسری بار پڑھنے سے میری مراد میمن کے اس اُردو ترجمے سے ہے جومجھے ترجمے کا معیار آنکنے کے لیے موصول ہوا تھا۔ یہ وہی ناول ہے جس کی خبر آنے کے بعد میںانگریزی کتابوں کی دکانوں کے کئی پھیرے لگا آیا تھا ۔ پھر جوں ہی اِس کتاب کا انگریزی نسخہ دستیاب ہواتو میں نے اسے ایک ہی ہلّے میں پڑھ ڈالا تھا۔ میں نے اَپنے تئیں اِس ناول کو پڑھ کر جو نتیجہ نکالا وہ مُصنِّف کے حق میں جاتا تھا نہ اس کتاب کے حق میں ۔ خدا لگتی کہوں گا میرا فیصلہ تھا ایک بڑے لکھنے والے نے بُڑھاپے میں جنس کے سستے وسیلے سے اس ننھّی مُنّی کتاب میں جھک ماری تھی ۔ 
ممکن ہے یہی سبب ہو کہ جب میمن کا ” اَپنی بیسواﺅں کی یادیں“ کے عنوان سے چھپا ہوا ترجمہ ملا تو میں خود کو اُسے فوری طور پر پڑھنے کے لیے تیار نہ کر پایااورپیپر بیک میں چھپا یہ مختصر سا ناول کہیں رَکھ کر بھول گیا۔ گزشتہ دِنوں کسی اور کتاب کی تلاش میں‘جب کہ میں بہت زِیادہ اُکتا چکا تھا‘ یہ ناول اچانک سامنے آگیا ۔ میں نے اَپنی مطلوبہ کتاب کی تلاش کو معطل کرکے اُکتاہٹ کو پَرے دَھکیلنا چاہا ۔ اِسی ناول کو تھامے تھامے اَپنے بیڈ تک پہنچا‘ جِسم کو پشت کے بَل بستر پر دَھپ سے گِرنے دِیا اور اسے یوں ہی یہاں وہاں سے دیکھنے لگا۔ جب میری نگاہ مارکیز کے ہاں بے باکی سے دَر آنے والے اُن ننگے لفظوں پرپڑی جنہیں مترجم نے ایسے دلچسپ الفاظ میں ڈھال لیا تھا جو فوری طور پر فحش نہیں لگتے تھے ‘ تو میں نے ناول کو ڈَھنگ سے پڑھنا شروع کر دیا۔ ناول کو اِس طرح پڑھنے کے دو غیر متوقع نتائج نکلے ۔ ایک یہ کہ میں جسے مارکیز کی کھاتے میں جھک مارنا سمجھ بیٹھا تھااُس میں سے میرے لیے معنی کی ایک مختلف جہت نکل آئی اور دوسرا یہ کہ مجھے اپنا کنّی کاٹ کرنِکل جانے اور پھر بھول جانے والا ایک کردارشکیل رہ رہ کر یاد آنے لگا۔ ایک ناول جس کے مرکزی کردار نے اَپنی نوے وِیں سالگرہ کی رات ایک باکرہ کے ساتھ گزارنے کا اہتمام کیا ‘ میرے لیے اِس میں سے زِندگی کے کیا معنی برآمد ہوئے‘ میں ٹھیک ٹھیک بتانے سے قاصر ہوں ۔ ہاں اتنا کَہ سکتا ہوں کہ بارِ دِگر پڑھنے پر نہ صرف اِس ناول کا جنس کا رَسیا مرکزی کردار میرے لیے ایک سطح پر قابلِ اِعتنا ہوا‘ میں اپنے ایک متروک کردار شکیل کے بارے میں بھی ڈَھنگ سے سوچنے پر مجبور ہوا.... اور یہ کوئی کم اَہم بات نہیں تھی۔ 
شکیل اور مارکیز کے ناول کے مرکزی کردار میں کوئی خاص مشابہت نہیں ہے ۔ بتا چکا ہوں کہ وہ نوّے برس کا ہے جب کہ میرا شکیل بھر پور جوانی لیے ہوے ہے ۔ وہ مردِ مجرد اَپنی مثالی بَدصورتی کی وجہ سے خاکہ اُڑانے والوں کا مرغوب ‘جب کہ جس شکیل کی میں بات کررہا ہوں وہ محض نام کا شکیل نہیں ہے اور یہ شادی شدہ اور بال بچے دار ہے ۔ تاہم ایک بات دونوں میں مشترک ہے کہ دونوں جنس زَدہ ہیں اور شکیل تو اِسی جنس زدگی کی وجہ سے دوستوں میں تضحیک کا سامان ہو گیا ہے ۔ ایک مُدّت کے بعدشکیل جیسے کردار کی طرف لوٹنے کا سبب مارکیز کے ناول کے بوڑھے کی وہ جنسی خر مستیاں ہیں جنہیں ناول میں بہت سہولت سے لکھ لیا گیا ہے؛ مگر ہمارے ہاں ایسی حرکتوں کو لکھنا چوں کہ فحاشی کے زمرہ میں آتا ہے؛ لہذا مجھے شکیل کو لکھنے کے لیے بار بار مارکیز کی طرف دیکھنا پڑ رہا ہے۔ ہاں تو میں مارکیز کے بوڑھے کی خر مستیوں کا ذِکر کر رہا تھااور بتانا چاہ رہا تھا کہ اس بوڑھے کی ہوس کارِیوں کے باب میںجہاں اس کی اُجڈ لارنڈھی والی ملازمہ کا ذِکر آتا ہے ‘ وہی عقب سے جانے کا‘ وہیں مجھے اس وقت کے شکیل کا ‘اس کریانہ اسٹور کے مالک کا شکار بننا یادآیا جس کے پاس اس شہر میں آکر وہ پہلے پہل ملازم ہوا تھا۔ جہاں ناول کے مرکزی کردار نے اَپنے پچاس سال کی عمر کو پہنچنے پراُن پانچ سو چودہ عورتوں کا ذِکر کیا ہے جن سے اُس کا جنسی تعلق قائم ہوا ‘اور اِس گنتی میں وہ بعدازاں مسلسل اِضافہ کیے جارہا تھا‘ تو میرے دھیان میں شکیل کی زِندگی میں آنے والی وہ چٹ پٹی لڑکیاں آگئیں جن کی وجہ سے وہ شہر بھر میں جنسی بلے کے طور پر مشہور ہو ا۔ تاہم جس لڑکی کی وجہ سے شکیل کو نظروں سے گرا ہوا اور بعد میں اُسے شہر چھوڑتے ہوے دِکھایا جانا ہے وہ بہ ظاہران چٹ پٹی لڑکیوں جیسی نہ تھی ۔ 
اوہ ٹھہرے صاحب ! مارکیز کے بوڑھے بَد صورت کردار طرح قابلِ قبول ہوجانے والے جواں سال شکیل کی کَہانی کو یوں شروع نہیں ہوناچاہیے ‘جیساکہ میں اِسے آغاز دے چکا ہوں ۔ اس کردار کو عجلت میں یا یہاں وہاں سے ٹکڑوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اِسے ڈھنگ سے لکھنے سے پہلے مجھے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو میں اَپنی اِس خفت سے آگاہ کرتا چلوں جو مجھے کسی جنس مارے آدمی سے مل کر اور اُس کی لذّت میں لتھڑی ہوئی باتیں سن کر لاحق ہو جایا کرتی ہے۔ اِسی خفت کا شاخسانہ ہے کہ مجھے اَپنا حوالہ جنس مارے کرداروں سے بھی کَھلنے لگتاہے ۔ شکیل جیسا کِردار میری دَست رَس میں رہا مگر اِسی خفت نے ہمارے دَرمیان بہت سے رَخنے رَکھ دِیئے تھے۔ حتی کہ میں نے یہ بھی بھلا دیا کہ شروع میں یہ کردار ایسا نہ تھا۔ یہ تو بہت بعد میں ہوا تھا کہ وہ نہ صرف لوگوں کی تضحیک کا سامان بنا میری نظروں سے بھی گر گیا تھا ۔ لیجئے اَب مارکیز کے بوڑھے نے مجھے بہلا پھسلا کر اس مردود کَہانی کے قریب کر ہی دیا ہے تو میں اسے شکیل سے اَپنی پہلی ملاقات سے شروع کرناچاہوں گا۔
شکیل سے میری پہلی ملاقات کسی تقریب میں ہوئی تھی۔ وہ وہاں دوسرے شاعروں کی طرح اَپنی غزل سنانے آیا تھا۔ صاف اور گورا رَنگ جو ناک کی پُھنگی ‘ کانوں کی لوﺅں اور چمک لیے نرم نرم گالوں سے قدرے شہابی ہوگیا تھا۔ مجھے اس کا ٹھہر ٹھہر کر شعر پڑھنا اور پڑھے ہوے مصرعے کو ایک اَداسے دُہرانا اَچھا لگا تھا۔ جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ وہ پہاڑیا ہے تو اور بھی اَچھا لگا کہ وہ اس کے باوجود نہ صرف ہر مصرع میں ٹھیک ٹھیک لفظ باندھنے کا اہتمام کر لایا تھا ان کی ادائیگی میں بھی کوئی غلطی نہیں کررَہا تھا۔ جو غزل اُس نے وہاں سنائی اس نے خوب سلیقے سے کہی تھی ۔ اس کی فنی مہارت کا میں یوں قائل ہو گیا تھا کہ ساری غزل ایک روندی ہوئی بحر میں مگر بہت عمدگی سے کہی گئی تھی۔ ا س میں ایک دو غیر شاعرانہ اور کھدرے لفظوں کو اِتنا ملائم بنا کر رَواں مصروں میں پیوست کردِیا گیا تھا کہ اَب وہ غزل کے ہی الفاظ لگتے تھے۔ اس سب پر مستزاد یہ کہ وہ لگ بھگ ہر شعر کے مصرع اُولی میں اَپنے خیال کی کچھ اِس طرح تجسیم کررہا تھا کہ ہر بار لہجہ کے نئے پن کا اِحساس ہوتا اور ایک ایسامُقدِمہ بھی بنتا تھا جس کی طرف سننے والے کا متوجہ ہونا لازم ہو جاتا۔
جب وہ شعر مکمل کرکے سانس لیتا تو بات بھی مکمل ہو جاتی۔
ذَرا گماں باندھیے کہ ایک نوخیز شاعر ہے۔ آپ اُس سے بالکل نئے لہجے کی غزل سُن رہے ہیں۔ ایک ایسا لہجہ‘ جس میں عصرِ موجود کا تناظر اُس کی اَپنی لفظیات کے ساتھ سامنے آرہا ہے۔ اس غزل میں اِس کا اِہتمام بھی ہے کہ کوئی لفظ فن پارے کے مجموعی مزاج میں اَجنبی نہیں لگتا۔ سلیقہ ایسا کہ ہر لفظ کی اَدائیگی کا مخرج ضرورت ِشعری کی وجہ سے کہیں بھی بَد لا نہیں گیا۔ ہرلفظ ٹھیک اَپنی نشست پر‘اور وہ بھی یوں کہ ایک لفظ کی صوتیات اَگلے لفظ کوٹہوکا دینے کی بہ جائے اس میں سما کر اُس کی اَپنی صوتیات میں منقلب ہو جاتیں ۔ سچ پوچھیے تو ایسی باریکی سے غزل کہنے والے کا گمان ہی باندھا جاسکتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ وہ میرے سامنے تھا اور پورے قرینے سے غزل کَہ رہا تھا۔ 
لہذا میں اس کے قریب ہو گیا۔ اتنا قریب کہ ہم دونوں کے درمیان سے سارا حجاب اُٹھ گیا۔ 
جب وہ اسی شہر میں رہ کرخُوب خُوب دَاد‘ بے پناہ حسد اور بہت ساری نفرت اور تضحیک سمیٹ چکا تو بھی میں اُس کے قریب رہا۔ پہلے پہل شکیل کے بارے میں شہر کے شاعروں نے یہ شوشا چھوڑا ‘ ہونہ ہو اُسے کوئی لکھ کر دِیتا ہے۔ جب لوگ تجسس سے پوچھنے لگے کہ وہ کون ہے جو اُسے لکھ کر دِیتا ہوگا تو ایک ایسے بزرگ شاعر کا نام چلا دِیا گیاجو کہنے کو شعر خوب سلیقے سے کہتے اور عادت ایسی پائی تھی کہ خُوِش شکل لونڈوں میں اُٹھنے بیٹھنے کو اِس گئے گزرے زمانے میں بھی چلن کیے ہوے تھے ۔ کسی کو ایسی باتوں پریوں یقین نہیں آرہا تھاکہ وہ حضرت زُبان کے روایتی اِستعمال تک محدود رہتے تھے اور اچھا اور پکا مصرعہ کہنے کے باوجود خیال کو نیا بنالینے پر قادر نہ تھے ۔ ایسا کیوں کر ہو سکتا تھا کہ کوئی خود تو فنی طور پر بے عیب مگر بوسیدگی کا اِحساس جگانے والا مصرعہ کہنے کو وتیرہ کیے ہو اور اَپنے لونڈے کو حرفِ تازہ سے فیض یاب کرے۔ جب شکیل ایک سے بڑھ کر ایک تازہ غزل لا نے لگا تو اُس کے خلاف فضا باندھنے والوں کی جیبھیں خود بخود اَپنے اَپنے تالو سے بندھ گئیں ۔ یہی وہ زمانہ تھا جب اُس نے اَپنے جیسے شاعروں سے آگے نکل کر حاسدین کا گروہ پیدا کر لیا تھا۔ جو لوگ شعر میں اُسے مات نہیں دِے سکتے تھے ‘ اُس کی شخصی کمزوریوں کو اُچھال کر تسکین پاتے تھے ۔
مجھے شکیل سے یہ شکایت تھی کہ آخر وہ اِس باب میں اُنہیں خُوب خُوب مسالا کیوں فراہم کر رہا تھا۔ وہ میری بات سنتا اور ڈِھٹائی سے ہنسی میں اُڑا دِیتا تھا۔ 
وہ بارہ کہو سے پَرے پہاڑوں کے اُدھر جس گاﺅں سے آیا تھا‘ اُس کانام تنگ گلی تھا جو بول چال میں مختصر ہو کرتنگلی ہو گیا تھا۔ جب و ہاںاُس نے دَس جماعتیں پڑھ لیں تو آگے کرنے کو کچھ نہ تھا۔ اُس کے باپ کے پاس جو تھوڑی سی موروثی زمین تھی‘ اُسے گزشتہ سال کی مسلسل بارشوں میں لینڈ سلائیڈ کھا گئی تھی۔ میٹرک کر لینے کے بعد اُس کے لیے دو ہی راستے تھے ۔ باپ کی طرح مری چلا جائے اور وہاں سیزن کھلنے پر ہوٹلوں میں بیرا گیری کرے یا اِدھر شہر میں کسی دکان پر سیلز مین ہوجائے ‘جیسا کہ اس کے گاﺅں کے کئی اور لڑکوں نے کیا تھا۔ اُس نے دوسرا راستہ اختیار کیا ۔ تنگلی کا ایک شخص دِل محمد ادھر شہر میں ایک کریانے کے اسٹور پر ملازم تھا۔ وہ بقرعید پر گاﺅں آیا تو شکیل کے باپ نے اُس سے بات کی ۔ اس نے فوری طور پرتواسے یہ کَہ کر مایوس کردیا کہ وہاں شہر میںکام کرنے کے خواہش مند لڑکے ہرروز آتے رہتے تھے جو کم اُجرت پر کام کرنے کو تیار ہو جاتے لہذا شکیل کو وہاں بھیجنا‘ لڑکے کو ایک لحاظ سے ضائع کرنا ہی ہوگا۔ اُس کے باپ نے دِل محمد کی نصیحت کو محض ٹالنے کا بہانہ سمجھا۔ وہ اَپنے مالک کو بڑاخسیس اور گھٹیا کَہ رہا تھا جوکم اُجرت دِیتا اور کام زِیادہ لیتا تھا۔ یہ سب کچھ درُست ہو سکتا تھا مگر دِل محمد کے گھر والوں کی گزربسر ٹھیک ٹھاک ہو رہی تھی لہذااُس نے خوب مِنّت سماجت کرکے اُسے مجبورکر لیا کہ وہ شکیل کو شہر لے جائے اور اَپنے مالک سے مِلادِے ‘آگے رہی اُس کی قسمت۔ دِل محمد نے جو کہا‘ وہ جھوٹ نہیں تھا ۔ اس کا مالک نام کا گل زَادہ تھا‘ نکلا پورا حرام زادہ۔ اُسے دیکھتے ہی اُس کی رَالیں ٹپکنے لگی تھیں ۔
شکیل نے پہلے روز اُس کی رَالیں نہیں دِیکھی تھیں کہ وہ تو اَپنی ضرورت اور اَپنی مجبوریوں کو دِیکھ رہا تھا۔
گل زادہ نے شکیل کی رہائش کا بندوبست دِل محمد کے ساتھ دکان کے پچھواڑے میں کرنے کی بہ جائے اُوپر والے فلیٹ میں اَپنے ساتھ کیا تھا۔ اُس نے اَپنے ساتھ اَپنے مالک کو یوں مہربان پایا تو اُس کے قریب ہوتا چلا گیا ۔ دوسری تنخواہ تک وہ اُس پرخوب مہربان رہا اور جب اس بار بھی تنخواہ کی رقم کا منی آڈر گھربھیج چکا تو ایک رات وہ اُس کے بستر میں گھس گیا۔ سردِیوں کے دِن تھے ‘پہلے پہل اُس کا یوں لحاف میں گھس آنا شکیل کو بُرا نہ لگا تھا تاہم رَفتہ رَفتہ شکیل اس حرام زادے کی نیت اور وہ خود کھلتے اور اُسے بھی کھولتے چلے گئے۔ بعد میں وہ یہ واقعہ اَپنے آپ کو اَذِیّت دینے کے لیے قہقہہ لگا کر سنایا کرتا ۔ تاہم وہ یہ بھی کہتا تھا کہ وہ جس مشکل میں پڑ گیا تھا اس سے ہمت کرکے نکل آیا تھا ۔ جب میں نے شکیل سے اس کا یہ قِصّہ سنا تھا تو بات ایک قہقہے پر نہیں رُکی تھی ۔ قہقہے کی آواز اَبھی معدوم نہیں ہوئی تھی کہ فوراً بعد اُس کے حلقوم میں ہچکیوں کی باڑھ اُمنڈپڑی تھی ۔ اُس نے اَپنی اِس کیفیت پر قابو پانے کے لیے اَپنے نچلے ہونٹ کو دانتوں تلے دِے کر کاٹ ہی ڈالا تھا۔ شکیل نے ذَراسنبھلنے کے بعد یہ بھی بتایا تھا کہ اُس کا مالک اس پرایسے میںکُھل رہا تھا جب وہ ان سہولتوں کا عادی ہوتا جارہا تھا جو اُس نے گاﺅں میں دِیکھی تک نہ تھیں۔ اُس کے باپ کے پاس بھی ایک معقول رقم پہنچنے لگی تھی۔ اس مختصر سے عرصے میں اس نے اپنے باپ کو اِتنی رقم بھیج دِی تھی ‘جتنی اُس نے کبھی اَپنے باپ کے پاس یک مُشت دِیکھی ہی نہ تھی ۔ اَپنے ہی باپ کا کفیل بننے میں اُسے لطف آنے لگا تھا ۔ یہی لطف تھا کہ جس نے اُسے فوری طور پر بے روزگار ہونے کے لیے تیار نہ ہونے دِیا۔ بعد میں جب راتیں مسلسل لذّت اور کراہت کے بیچ گزر نے لگیں تو اُس کا دِل شدّت سے اُلٹنے لگا۔ وہ وہاں ٹھہرا رہا‘ یہاں تک کہ وہ اپنے دِل کی گہرائیوں سے اُس شخص سے شدید نفرت محسوس کرنے لگا ۔ یہ نفرت اِتنی شدید تھی کہ ایک رات‘ جب کہ وہ اُوندھا پڑا اُس کاا ِنتظار کر رہا تھا‘ وہ چپکے سے باہر نکل آیا ۔
جس روز وہ گل زادہ کے فلیٹ سے باہر نکلا تھا‘اُس روز اُس نے صاف صاف ایک لذّیذسنسناہٹ کو اُس کی رِیڑھ کی ہڈّی سے دُمچی کی طرف بہتے ہوے پایا تھا ۔
مارکیز کا ناول دوسری بار پڑھنے کے بعد اَب اگر میں اُس دِن کی بابت سوچوں‘ جس روز شکیل نے مجھے اپنا یہ قصّہ سناتے ہوے قہقہہ لگایا اور فوراً بعد اَپنے دَم کوہچکیوں کا پھندالگا لیا تھا تو مجھے شکیل کی جگہ مارکیز کے ناول کی وہ باکرہ لڑکی یاد آجاتی ہے جسے نوّے سالہ بوڑھے نے دیلگدینہ کا نام دیا تھا۔ دیلگدینہ ‘ جو پانچ دسمبر کو محض پندرہ سال کی ہو رہی تھی مگر جسے اپنے گھر کے اخراجات چلانے کے لیے شہر سے باہر دِن میں دوبار بٹن ٹانکنے جانا پڑتا تھا۔ اُس لڑکی کو ایک دِن میں جب سوئی اور انگشتانے سے سو سو بٹن ٹانکنا پڑتے تو وہ اَدھ موئی ہو جاتی ۔ دیلگدینہ اور شکیل کو میں ایک ساتھ یوں دِیکھ رہا ہوں کہ دِن بھر اَپنے مالک گل زادہ کا کریانہ بیچتے اور گاہکوں کے نہ ٹوٹنے والے رَش سے نبٹتے نبٹتے شکیل بھی بالکل اس لڑکی کی طرح اَدھ موا ہو جاتا تھا۔ تاہم ان دونوں کو کَہانی کے اِس مرحلہ پر ایک جیسی مشقت میں پڑا دِکھانے کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ یہ دونوں کَہانی کے باقی مراحل میں بھی ایک جیسے ہوں گے۔ شکیل ‘جو اَپنے مالک کی دُمچی میں سنساہٹ چھوڑ کر نکل آیا تھا‘ بعد میں بہت خوار ہوا۔ تاہم ایک روز آیا کہ ایک دوسرے شخص نے نہ صرف اُسے اَپنے ہاں ملازمت دِی‘ اُس کے نکاح میں اَپنی بےٹی صفیہ بھی دِے دِی تھی۔ 
شکیل ملازمت کے لیے آیا اور گھر داماد ہوگیا تھا۔ 
وہ خوب رُوتھا اور سلجھا ہوا بھی ۔ ہمت کی بھی اُس میں کمی نہ تھی۔ وہ ضرورت مند تھا اور ایک لحاظ سے دیکھیں تو شرفُ اللہ بھی ضرورت مند تھا؛ اُس کی بیٹی کنواری رہ گئی تھی ۔ یہ ایسی ضرورت تھی‘ جس کے لیے شکیل کی کسی بھی ضرورت کو پورا کیا جاسکتا تھا۔ لہذا اس نئے گھر میں اُس کے بارے میں بھی ویسا ہی سوچا جانے لگا جیسا کہ ایک بیٹے کے بارے میں سوچا جا سکتا تھا۔ صفیہ ‘ شرفُ اللہ کی اکلوتی اولاد تھی ۔ اُس کے پاس جو کچھ تھا ‘اُسی کا تھا۔ دونوں کے بہتر مستقبل کے لیے ضروری سمجھا گیا کہ شکیل کالج میں داخلہ لے لے ۔ سال بھر کی ملازمت اور خواری کے بعد شکیل فوری طور پر مزید پڑھنے کی طرف راغب نہ ہوپایا۔ جب اسی کی بیوی صفیہ نے ایک شفیق ماں کی طرح اُس کا حوصلہ بڑھایا اور سسر نے یقین دِلایا کہ تعلیم پر اُٹھنے والے سارے اِخراجات وہ خود اٹھائیں گے تو اُس نے کالج میں داخلہ لے لیا ۔ 
یہیں وہ شاعری کی طرف راغب ہوا تھا ۔ 
جن دنوں میں شکیل کی طرف متوجہ ہوا اُس نے ایم اے کر لیا تھا اور ایک غیر سرکاری کالج سے وابستہ تھا۔ شام کو وہ اسی کالج میں چلنے والی اکیڈمی میں پڑھا کر خوب کما بھی رہا تھا؛ تاہم اس بارے میں مطمئن نہ تھا اور کچھ نیا کرنے کی بابت مسلسل سوچا کرتا۔ ان دِنوںاس شہر میں پراپرٹی کا کاروبار بہت عروج پر تھا ۔ اُس نے دو ایک ایسے سودے کمیشن کی بہ جائے ٹاپ یعنی پلاٹ نقداُٹھا کر بیچنے کی بنیاد پر کیے ۔ اِن سودوں نے اُسے اِتنا مارجن دِیا کہ وہ یکسوئی سے اس کاروبار میں جُت گیا۔ پھر تو ٹاپے پر ٹاپا اُترنے لگااور اس کے حالات بَد لتے چلے گئے۔ 
اس کے حالات ہی نہیں بَد لے؛ وہ خود بھی بَد لتا چلا گیا۔
شہر بھر کے اُن شاعروں نے سُکھ کا سانس لیا جو مشاعروں میں اُس کی ساری توجہ سمیٹ لینے پر اس سے نالاں رہتے تھے ؛کہ اَب وہ اِدھر آتا ہی نہیں تھا۔ ایسا نہیں ہوا کہ اُس نے تقاریب میں آنا یک دَم موقوف کر دیا تھا۔ پہلے پہل اس میں تعطل کے وقفے پڑے ۔ پھر جب کبھی وہ آتا تو مجھے بھی ساتھ اُچک کر باہر لے جاتا کہ اُسے سننے سنانے سے کوئی دِل چسپی نہ رہی تھی ۔ گاڑیاں بَد لنا اُس کا معمول ہوتا جارہا تھا کہ اِس کاروبار میں بھی اُس نے اچھی خاصی سرمایہ کاری کر رکھی تھی۔
یہ بَد لا ہوا شکیل دِیکھ کر میں اُس شکیل کی بابت سوچنے لگتا تھا جسے پہاڑوں سے آتے ہی مجبور پاکر گل زَادہ نے پچھاڑ لیا تھا ۔ 
شروع شروع میں‘ میں سمجھتا رہا تھا کہ وہ صفیہ سے شادِی کرکے مطمئن ہو گیا تھا۔ اُس کی زِندگی میں جس طرح آسائشیں آ رہی تھی ان کے جھانسے میں وہ خود بھی ایک مُدّت تک یوں ہی سمجھتا رہا تھا ۔ اس عورت کے بطن سے اُس نے ایک بےٹا اور دو بیٹیاں پیدا کیں۔ بقول اُس کے اُسے اَپنے بچوں سے بہت محبت تھی۔ یہ بعد کی بات ہے کہ اس نے گاڑیاں اور لڑکیاں بَد لنا مشغلہ بنا لیاتھا۔ اُن دِنوں اُس نے نہ صرف صفیہ کا بل کہ اَپنے تینوں بچوں کا ذِکر بھی چھوڑ دیا تھا۔ میں نے کہا نا کہ میں شکیل کے بہت قریب تھا۔ یہ بھی بتادوں کہ اُس کے بیوی بچے مجھ سے بہت مانوس ہیں؛ تاہم کہتا چلوں کہ جس تیزی سے وہ اُن سے دُور ہوا تھا ‘میں بھی انہیں ملنے سے کترانے لگا تھا۔ میں نے اَندازہ لگا لیا تھا کہ وہ شکیل کے سب لچھن جان گئے ہوں گے۔ میں نے اُن کے سامنے جاتا تو ممکن تھا کہ صفیہ ا س حوالے سے بات چھیڑ کر میری مدد مانگ لیتی ۔ میں جانتا تھا جس لذّت کی دَلدَل میں وہ اُتر چکا تھا کوئی بھی اُسے نکال نہیں سکتا تھا ۔ حتی کہ میں بھی ۔ میں اَپنے تئیں ایک آدھ بار بچوں اور صفیہ کا ذِکر کرکے اُسے اس دَلدَل سے نکالنا چاہا تھا ۔ بچوں کے نام پر تو وہ چپ ہو گیا مگر صفیہ کا ذِکر آتے ہی اُس نے ویسا ہی قہقہہ لگایا جیسا کہ وہ گل زَادہ کا نام آنے پر لگایا کرتا تھا۔ 
گل زادہ اور صفیہ میں اگر کوئی مشابہت ہو سکتی تھی تو وہ دونوں کا بھاری بھرکم وجود تھا جو تھل تھل کرتا تھا۔ 
ایک اور بات جو مجھے ہمیشہ اُلجھن میں ڈالتی رہی ہے ‘وہ شکیل کا صفیہ کے ذکر پر عجب طرح کا قہقہہ لگانا تھا‘ ایسا قہقہہ کہ بات محض اس مشابہت تک محدودنہ رہتی تھی ۔
صفیہ شکیل سے عمر میں نو دَس سال بڑی ہوگی۔ بچوں کی پیدائش کے بعد تووہ اُس کے مقابلے میں کہیں بوڑھی دِکھائی دِیتی تھی ۔ تاہم وہ اُس کے بچوں کی ماں تھی اور اس کا یوں اس کی توہین کرنا مجھے بہت کَھلتا ۔ جس روز وہ ایک قیمتی گاڑی پر آکر مجھے تقریب سے اُٹھا کر ایک ہوٹل لے گیا تھا‘ اس نے مجھے سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ اس کی عمر کے آدمی کے لیے ایک جوان عورت کے وجود کی کیا اہمیت تھی ؛ اُسی روز اُس نے اَپنے موبائل کے قدرے زِیادہ پکسل والے کیمرے سے لی گئی پانچ مختلف لڑکیوں کی تصاویر دِکھائی تھیں‘ جن میں سے ایک تصویر تو ایسی تھی جس میں وہ خود بھی موجود تھا ۔ موبائل کا ڈسپلے بڑا ‘ اور تصویریں خوب شوخ ‘ شفاف اور روشن تھیں ۔ جس تصویر میں وہ خود موجود تھا ‘ اُس کے آگے کو جھکے ہوے دَائیں کندھے سے میں نے اَندازہ لگایا کہ اسی سمت کے بازو کو آگے بڑھا کر یہ تصویر اس نے اپنے موبائل سے خود کھینچی تھی ۔ اس کے ساتھ ایک ایسی لڑکی تھی جس کی عمر ہو نہ ہو اُس کی اَپنی بڑی بیٹی سونیا جتنی تھی ۔ لڑکی اور وہ خود بھی‘ جہاں تک تصویر میں نظر آرہے تھے‘ لباس کی تہمت سے پاک تھے۔ اگر چہ تصویر میں سے لذّت اُبلی پڑ رہی تھی مگر سونیا سے اُس تصویر والی لڑکی کی مشابہت قائم کرتے ہوے میں سارا مزا کِرکِرا کر بیٹھا تھا۔ 
مجھے سونیا سے اُس لڑکی کا موازنہ نہیں کرناچاہیے تھا‘ جس کے ساتھ بقول شکیل کے؛ اس نے نوٹوں میں تولنے کے بعد ایک رات کی رفاقت پائی تھی۔ 
ماننا پڑے گا کہ مارکیز کی کَہانی کا بوڑھا عورتوں کی گنتی کے بارے میں کہیں آگے تھا۔ تاہم یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ان عورتوں پر خرچ کے معاملے میں)اگر فی کس عورت کے حساب سے خرچ کا تخمینہ لگایا جائے تو( شکیل کا کوئی مقابلہ نہ تھا۔ یہ بھی بجا کہ مارکیز کا بوڑھاصحافی‘ جسے چکلا چلانے والی روسا کبرکس ” اے میرے اسکالر“ کَہ کر مخاطب کرتی تھی‘ جس عورت سے بھی )اس ناول کے ترجمہ کار کی اصطلاح میں جفتی کا( تعلق بنانا چاہتا ‘ اُسے معا وضہ ضرور ادا کیا کرتا تھا‘ لیکن یہ بھی واقعہ ہے کہ وہ تھا پَرلے دَرجے کا کنجوس ۔ اگر آپ نے یہ ناول مکمل طور پر پڑھ رَکھا ہے تو آپ کی نظر میں اسی مرکزی کردار کا اعترافی بیان ضرور گزرا ہوگا جس کے مطابق وہ بخیل آدمی تھا۔ اس مَقام پر پہنچ کر تو ہو نہ ہو آپ کی ہنسی ضرور خطا ہو گئی ہوگی‘ جہاں اس جنس زدہ بوڑھے نے اَپنی نوے ویں سالگرہ کی رات ایک باکرہ کے ساتھ گزارنے کے لیے خرچ کا حساب چودہ پیسو لگایا تھا۔ یعنی اخبار سے ملنے والے پورے ایک ماہ کی کالم نویسی کے معاوضے کے برابر۔ پھر جس طرح اس بوڑھے نے پلنگ کے نیچے کے مخفی خانوں سے عین حساب کے مطابق ریزگاری نکالی تھی ‘ دوپیسو کمرے کا کرایہ‘ چار مالکہ کے لیے‘ تین لڑکی کے واسطے‘ پانچ رات کے کھانے اور اوپر کے خرچے کے لیے؛سچ پوچھیں تو یہ پڑھ کر میری ناف سے ہنسی کا گولا اُٹھا اورمیرے جبڑوں کو اِتنا دُور اُچھال گیا تھا کہ وہ بہت دیر بعد واپس اَپنی جگہ پرآپائے تھے ۔ میری کَہانی کا شکیل اُن لوگوں میں سے نہیں تھا جو اِس معاملے میں بھی گِن گِن کرخرچ کرتے ہیں۔ یہ جو اُس نے لڑکی کو نوٹوں میںتولنے کی بات کی تھی تو اِس سے قطعاً اُس کی یہ مراد نہیں تھی کہ اُسے اَپنا بہت سا روپیہ خرچ ہو جانے کا احساس تھا۔ 
وہ تو اُس لڑکی کے دَام بالا بتا کر اُس کی قدر وقیمت کا احساس دِلانا چاہتا تھا ۔
”اَپنی سوگوار بیسواﺅں کی یادیں“ نامی کتاب میں عین وہاں سے کَہانی جنس کا چلن چھوڑ کر محبت کی ڈگر پر ہو لیتی ہے ‘جہاںیہ بتایا گیا ہے کہ قحبہ خانے کے ایک اَہم گاہک کو پویلین کے پہلے کمرے میں کوئی چاقو مار کر قتل کرنے کے بعد فرار ہو گیا تھا۔ کَہانی کے بوڑھے اسکالر نے جب خُون سے لت پت بستر پر اُبلے ہوے مرغ کی طرح پیلے ہوجانے والے اُس لحیم شحیم آدمی کی لاش کو پڑے دِیکھا تھا تو اُس کے جسم پر کپڑے کی ایک دَھجی تک نہ تھی۔ کَہانی کا یہ حصّہ پڑھ کر پہلے تو میرے وجود میں سنسنی دوڑی مگر جب یہ بتایا گیا کہ اس ننگی لاش نے جوتے پہن رکھے تھے تو میری ایک بار پھر ہنسی چھوٹ گئی تھی۔ مارکیز نے کَہانی کے اس حصے میں جنس کا میٹھا اُس مُردے پر مَل کر اُسے لذّیذ بنا تے ہو ے بتایا ہے کہ مقتول کا جسم اَبھی اَکڑا نہیں تھا۔ اُس کی گردن پر ہونٹ کی شکل کے دو زخم تھے اور یہ کہ موت کے باعث اُس کے سکڑے ہوے عضو پر ایک کونڈم ہنوزچڑھا ہوا تھا۔ کَہانی لکھنے والے نے یہ وضاحت کرنا بھی ضروری جانا تھا کہ کونڈم غیر اِستعمال شدہ دِکھائی دِے رَہا تھا۔ 
یہاں مجھے مُترجِم سے اَپنی ایک شکایت ریکارڈ پرلانی ہے اور اُسے داد بھی دینی ہے۔ شکایت کا یہ موقع وہاں وہاں نکلتا رہا ہے جہاں اُس نے اُردو جملوں کو بھی ترجمہ کیے جانے والے مَتن کے قریب رَکھ کر اُنہیں پیچیدہ بنادِیا۔ ناول کے نام کے ساتھ بھی یہی روّیہ روا رکھا گیا ہے جب کہ اِسے تھوڑا سا بَد ل کر رَواں کرنے کے لیے ”اَپنی بیسواﺅں کی یاد میں “ کر دِیا جاتا تو زیاہ مناسب ہوتا۔ اور اَب مجھے بَرملا اس جرا ت اور سلیقے کی داد دینی ہے جس کو روبہ عمل لا کر اُس نے ان لفظوں کا ترجمہ کرلیا ہے ‘جو بالعموم ہمارے ہاں شائستگی کے تقاضے کے پیش نظر زُبان پر نہیں لائے جاتے ہیں۔ تاہم اِسے کا کیا کیجئے کہ کونڈم کا ترجمہ کرنا اُس نے ضروری نہیں سمجھا۔
شایداِس لفظ کا ترجمہ کرنا اُس کے بس میں تھا ہی نہیں ۔
یہاں شکیل سے متعلق دو واقعات کَہانی میں گھسنے کو بے تاب ہیں ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ پہلا واقعہ خود بخود آگے چل کر دوسرے واقعے سے جُڑ جاتا ہے ۔ پہلے واقعہ کا تعلق اُن دِنوں سے ہے‘ جن دِنوں اس کے اسکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب نے مڈل اسٹنڈرڈ اِمتحان کی تیاری کے لیے یونین کونسل مسیاڑی کے دفتر میںاضافی پڑھائی کا اِہتمام کیا تھا۔ امتحانوں تک اُسے اور اُس کے ہم جماعتوں کو وہیں رہنا‘ پڑھنا اور رات گئے وہیں سونا تھا۔ یہ قصّہ شکیل بہت مزے لے لے کر اور خُوب کھینچ تان کر سُنایا کرتا مگر مختصرا ً یوں ہے کہ جب ماسٹر صاحب چلے جاتے اور دِن بھر پَڑھ پَڑھ کر اُکتائے ہوے لڑکوں کو کچھ نہ سوجھتا ‘تو وہ ملحقہ کمرے میں منصوبہ بندی والی دواﺅں کے ساتھ پڑے ہوے چمکیلے لفافوں میں بند سفید غبارے چوری کرکے خُوب پُھلایا کرتے تھے ۔ یہ غبارے اَگرچہ اس طرح رنگین نہ تھے‘ جیسے تنگلی میں سُودے کی ہٹی پر مِلتے تھے مگر ان میں ایک ایسی خوبی تھی جو ان رنگین غباروں میں بھی نہ تھی کہ یہ ہوا بھرنے پر بہت پُھولتے تھے۔ اُن دِنوں دیہی علاقوں کے اس عمر کے بچوں کو معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ ان چِٹّے خمور غباروں کااصل مصرف کیا تھا ۔ وہ سب اس پرخُوِش تھے کہ اُن کے ہاتھ بہت سے غبارے لگ گئے تھے اور رات گئے ان میں اِس پر مقابلہ لگا رہتا تھا کہ کون انہیں سب سے زِیادہ پُھلائے گا ۔ شکیل کے مطابق اُن دِنوں اِن غباروں پر سفید رَنگ کا سفوف مَلا ہوتا تھا جس سے ان کے ہونٹ اور گال یوں ہو جاتے تھے جیسے اُن پر آٹا مَل دِیا گیا ہو۔ اِسی سفیدی نے اُن کی شرارتوں کا پول ہیڈ ماسٹر صاحب پر کھول دِیا تھا۔ ہیڈ ماسٹر صاحب کو پہلے تو غصہ آیا پھر کچھ سوچتے ہوے ہنس پڑے اور کہا ” نامعقولو! یہ ناپاک ہوتے ہیں کہ اِن میں بیمار پیشاب کیاکرتے ہیں ۔“ 
اَگلے روز ساتھ والے کمرے پر تالا نہ پڑ گیا ہوتا تو وہ ضرور تجربہ کرتے کہ اِن غباروںکو بیمار کیسے اِستعمال کرتے تھے کہ ہیڈ ماسٹر صاحب کی بات اُنہیں مزیداُلجھا گئی تھی ۔ 
اِسی شکیل نے‘ کہ جسے ہیڈ ماسٹر صاحب نے ایک زمانے میں اُلجھا دِیا تھا‘ اَب اس اُلجھن سے پوری طرح نکل آیا تھا۔ اُس نے مجھے لگ بھگ ویسے ہی کُھلے مُنّھ والے غبارے کی اپنے موبائل کے قدرے زیادہ پکسل والے کیمرے سے کھینچی ہوئی تصویر تب دِکھائی تھی‘ جب میں اجلاس سے اُٹھ کر اُس کے ساتھ ہوٹل آگیا تھا اور جب وہ اَپنی دوست لڑکیوں کی پانچوں تصویریں دِکھا چکا تھا ۔ مجھے اُس کا سنایا ہوا اوپر والا واقعہ عین اِس موقعے پر یوں یاد آیا تھا کہ تصویر میں بھی لگ بھگ ویسا ہی غبارہ تھا۔ تصویر والا غبارہ بالکل سفید نہ تھا‘ ایسی جلد کی رنگت لیے ہوے تھا جس میں چمک بھی آگئی تھی۔ میں نے کراہت کو اَپنے حلقوم تک آتے پاکر اُس کا موبائل اسے لوٹانا چاہا تو نہ چاہتے ہوے بھی پھسلتی ہوئی ایک نظر اُس غبارے پر ڈال لی۔ مجھے صاف دِکھ رہا تھا کہ اس میں کسی بیمار نے پیشاب تو نہ کیا تھا‘ تاہم کچھ تھا جس سے وہ ذرا سا پھول کر ایک طرف کو ڈھلک گیا تھا ۔ پھر یوں ہوا کہ رفتہ رفتہ وہ ساری لڑکیاں جن کی اس نے تصویریں بنا رکھی تھیں یا ان جیسی دوسری لڑکیاں جو کیمرے والا موبائل دیکھتے ہی بِد ک جاتی تھیں‘ ایک ایک کرکے اس کی زِندگی سے نکل گئیں اور ان سب کی جگہ عاتکہ لے لی تھی ۔ 
بتایا جا چکا ہے کہ مارکیز کے لذّت مارے بوڑھے کی دیلگدینہ پانچ دسمبر کو پندرہ برس کی ہوئی تھی اور کَہانی میں جب سالگرہ والی رات آتی ہے تو بوڑھے اسکالر کی حرکتیں پڑھ کر گمان سا ہونے لگتا ہے کہ جیسے اُسے اس لڑکی سے محبت ہو گئی ہو گی؛ مگر واقعہ یہ ہے کہ وہ اسے پورا گانا سنا کر اور اس کے پورے بَد ن پر بوسے دے کر ایک بے قابو مَہک کو جگانا چاہتا تھا ۔
اُس روز وہ اس بے قابو مہک کو جگا کر اور خوب تھک کر سو گیا تھا۔
اس کی محبت تو تب جاگی تھی جب قتل والی رات کے بعد دیلگدینہ اور اُس کا مِلنا ایک عر صے تک ممکن نہ رہا تھا۔ اس کے بعد کے صفحات بوڑھے اسکالر کی اس لڑکی کی محبت میں تڑپ کا احوال سمیٹے ہوے ہیں۔ شکیل کی کَہانی میں عاتکہ لگ بھگ اِسی طرح کی تڑپا دینے والی محبت کے لیے موزوں ٹھہرتی ہے جس طرح کی محبت مارکیز کے مرکزی کردار کو اس پندرہ سالہ لڑکی سے تھی ‘ تاہم اتنی ساری مشابہتوں کے باوجود شکیل کی کَہانی بہت مختلف ہو جاتی ہے ۔ 
عاتکہ کو لے کر شکیل نے یہ شہر چھوڑ دیا تو مجھے اُس کی اِس حرکت پر شدید صدمہ پہنچا۔ 
جس خاندان نے اس شخص کو شہر میں آسرا دیا تھا‘ اس خاندان سے اُس نے وفا نہ کی تھی۔ شکیل سے قربت کی وجہ سے میں جانتا ہوں کہ صفیہ نے اَپنی ذات مٹا کر اُس کی خدمت اور محافظت کی تھی ۔ جس طرح مائیں اَپنی اولاد کے عیب چھپا کر اور اُن کی خطاﺅں کو بھول کر اُنہیں اَپنی محبت کی چادر سے باہر نہیں نکالتیں ؛بالکل اسی طرح کی مسلسل اور بے ریامحبت اُسے صفیہ سے ملی تھی ۔ جب کئی روز بعد شکیل کے یوں شہر چھوڑنے کی خبر ملی تو میں بھابی کا دُکھ بانٹنے اُس کے گھر پہنچ گیا؛ اس خدشے کے باوجود کہ مجھے وہاں جاکر اَپنے دوست کے حوالے سے ناحق خجالت کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ وہاں پہنچ کر مجھے اَندازہ ہوا کہ شکیل کی ساری حرکتوں کا اَندازہ صفیہ کو تھا۔ دونوں بچیاں مجھے دیکھتے ہی دھاڑیں مار مار کر رونے لگ گئیں؛ تاہم صفیہ یوں حوصلے میں تھی جیسے وہ شکیل سے جدائی اور بے وفائی کا وار سہہ گئی تھی۔ میں نے اَندازہ لگایا کہ ہو نہ ہو اس کا سبب کچھ اور تھا ۔ شاید دونوں کی عمر کا وہ تفاوت جس نے عین آغاز ہی سے دونوں کے بیچ شدید اور تندجذبوں والا تعلق قائم نہ ہونے دیا تھا۔ تاہم وہ پریشان تھی ‘ اتنا کہ جتنا کوئی اَپنی بے اِنتہا قیمتی شے کے کھو جانے پر پریشان ہو سکتا تھا۔ اب ماں کے پیار والا سارا احساس مجھے تب محسوس ہوا تھا جب اُس نے اَپنے بیٹے شہباز کو دِیکھا تھا ۔ شہباز لگ بھگ اس عمر کوپہنچ گیا تھا جس عمر میں شکیل اس شہر آیا تھا۔ جب اُس کی ماں نے یہ بتایا کہ شہباز نے کالج جانا چھوڑ دیا تھا اور کسی دکان پر کام کرکے اس گھر کی ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں تو میں نے دیکھا ‘شکیل کے دِل گرفتہ بیٹے کا چہرہ غصے سے تمتمانے لگا تھااور اُس نے اَپنی مٹھیاں اور ہونٹ سختی سے بھینچ لیے تھے ۔
مارکیز نے آخری پیراگراف لکھتے ہوے بوڑھے اسکالر کے گھر کے باورچی خانے میں دیلگدینہ کو اَپنی پوری آواز سے گاتا دِکھا کر اَپنی کَہانی کورومانوی جہت دِے دِی تھی۔ مگر میری اس کَہانی کا المیہ یہ ہے کہ َاپنے خاتمے پر اس سے سارا رومان اور ساری لذّت منہا ہو گئی ہے۔ شکیل اَپنے ساتھ بھاگ جانے والی لڑکی سے بھی اُوب چکا ہے ۔ جس عمر میں اُسے یہ سیکھنا تھا کہ شدید اور الہڑ جذبوں کو طول کیسے دِیا جاتا ہے‘ وہ سدھائے ہوے جذبوں سے نبٹتا رہا تھا۔ وہ واپس آیا تو سیدھا گھر نہیں گیا میرے پاس آیا؛ شاید وہ اپنے گھر کی دہلیز ایک ہی ہلے میں پار کرنے کا حوصلہ نہیں رَکھتا تھا۔ میں اُسے رات بھر حوصلہ دِیتا رہا اور سمجھاتا رہا کہ اُس کے بیوی بچوں کو اُس کی ضرورت تھی اور یہ کہ اُس کے اَپنے گھر میں اُس کا اِنتظار ہو رہا تھا مگر اَگلے روز جب میں اُس کے ساتھ اُس کے گھر گیا تو اُس کے بیٹے نے اُس پر پستول تان لیا تھا ۔ صفیہ نے واقعی اَپنے شکیل کو معاف کر دیا تھا؛ تب ہی تواُس نے یوں پستول تاننے پر اَپنے بیٹے کی چھاتی پیٹ ڈالی تھی۔ شہباز نڈھال ہو کر دہلیز پر ہی بیٹھ گیا۔ صفیہ نے اُس کی طرف دِیکھے بغیر اُسے اُلانگھا اور اَپنے شوہر کی طرف لپکی۔ دہلیز پر بیٹھے نوجوان کے ہاتھ میں جنبش ہوئی اور اگلے ہی لمحہ گولی چلنے کی آواز کے ساتھ ایک کربناک چیخ میرا وجود چیر گئی تھی۔


RUKI HOI ZINDGI


وہ کھانے پر ٹوٹ پڑا - ندیدہ ہو کر۔
عاطف اُسے دِیکھ رہا تھا - ہک دَک ۔ کراہت کاگولا پیٹ کے وسط سے اُچھل اُچھل کر اُس کے حلقوم میں گھونسے مار رہا تھا - یوں کہ اُسے ہر نئے وار سے خود کو بچانے کے لیے دِھیان اِدھر اُدھر بہکانا اور بہلانا پڑتا۔ 
وہ بھوکا تھا۔
شاید بہت ہی بھوکا‘ کہ سالن کی رکابی اور روٹیوں کی چنگیر پر پوری طرح اوندھا ہو گیا تھا۔
جتنی دیر وہ چپڑ چیک چپڑ چپاک کر کے کھاتا رہا - عاطف اُس کے پراگندہ بالوں کے نیچے اور پیچھے چھپ جانے والے چہرے کو ڈھنگ سے دیکھنے کے جتن کرتا رہا اور اُن معصوم لکیروں کو تلاش کرتا رہا جو کبھی تھیں - اَب کہیں نہیں تھیں۔ وقت کی سفاکی نے سب کچھ مِٹا کر ایک نئی تحریر لکھ دی تھی ۔
ایسی تحریر جو پورے بَد ن میں اِضمحلال بھر رہی تھی۔ 
وہ پوری طرح جھکا ہوا تھا۔
اور اُس کے جبڑوں اورہونٹوں کے باہم ٹکرانے کی آوازیں مسلسل آ رہی تھیں۔
وہ بہاول پور سے عاطف کے ہاں پہنچا تھا ۔ کیوں؟ یہ اُس نے نہیں بتایا تھا۔
شاید اس کا ابھی موقع بھی نہیں آیا تھا کہ وہ تو دفتر سے گھر واپسی پر اُسے گیٹ پر ہی مل گیا تھا۔
عاطف جس دفتر میں کام کرتا تھا وہاں کوئی اور اَصول ضابطہ ہو نہ ہو - چھٹی وقت پرمِل جایا کرتی۔ وہ سیدھا گھر پہنچتا کہ شائستہ اُس کی منتظر رہتی تھی۔
شروع شروع میں عاطف کو یقین تھا کہ یہ سچ مچ کا اِنتظار تھا - اَندر سے اُٹھتی تاہنگ والا - تبھی تو اُسے سیدھا گھر آنے کی عادت ہو گئی تھی مگر بعد اَزاں یہ ہوا کہ سب کچھ اُس کے معمولات کا حصہ ہو گیا۔
شائستہ کو بھی پہلے پہل اِنتظار میں لطف آتا تھا ۔ کھٹا میٹھا لطف۔
اگرچہ اوجھ جیسے وجود نے پہلے ہی دِن اُس کے اَندر کراہت کی ایسی گولی سی رکھ دی تھی جو اُسے دیکھتے ہی خود بخود دُھواں چھوڑنے لگتی مگر کہیں نہ کہیں سے لذت کی مہک بھی اٹھتی رہتی۔ دوسرے بَد ن کو چھو لینے کی لذت یا پھر اُسے دِیکھنے اور دِیکھے چلے جانے کی لذّت۔
وہ جیسا بھی تھا؛ اُس پر نظر ڈالتا تھا۔ ایک تار نہ سہی؛ جھجک جھجک کر سہی اور لُکنت زدہ لفظوں سے اتنی پھسلن بنا ہی لیتا کہ وہ اُس پر کوشش کر کے ہی سہی - پہروں پھسل سکتی تھی اور دُور تک‘ بہت دُور تک جا سکتی تھی۔ 
مگر رَفتہ رَفتہ عجب اُفتاد آن پڑی کہ پہر سُکڑنے لگے ۔
اور یُوں لگتا تھا کہ وہ دونوں لذّت کے زور سے جتنی دُور جا سکتے تھے - جا چکے‘ کہ اَب تو بَد ن میں کساوٹ اُترنے لگتی اور شائستہ کو کوفت ہوتی تھی۔
جب اُس نے آ ہی جانا ہوتا تو اِنتظار کیوں؟ اور اضطراب کیسا؟؟
غیر مانے - عادت نہ مانے۔ عادت نہ کہیں بَد ن کَہ لیں۔ 
عادت کی ڈوری میں بندھا بَد ن دُکھتا تھا ۔ دُکھتا تھااور ٹوٹتا تھا۔ 
اس ٹوٹتے بَد ن کو پھر بھی اِنتظار کی گرہ دِی جاتی رہی حتّی کہ عادت معمول ہو گئی۔
دونوں میں ہمت نہ تھی کہ وہ معمول کے اِس دائرے کو توڑ ڈالیں۔
یوں نہیں تھا کہ عاطف گھر آتا تو پھر باہر نکلتا ہی نہیںتھا۔ لاہور ایسا شہر تھا جو کئی کئی گھنٹوں کے لیے مصروف رَکھ سکتا تھا ۔ بے تکلف دوستوں سے ملتا۔ اِحباب کی مہذب مجالس میں بیٹھتا یا پھر اُس سے ملتا جو سارے فاصلے ختم کر ڈالنے کے ہنر جانتی تھی۔
وہ فاصلے یوں ختم کرتی تھی‘ جیسے کہ وہ ہوتے ہی نہیں تھے۔
پہلے وہ اُن موضوعات کو چھیڑتی جو عاطف کی کم زوری تھے یا پھر عاطف جن پر سہولت اور رغبت سے کچھ کَہ سکتا تھا۔ وہ اَپنی بات کَہ رہا ہوتا تو وہ چپکے سے اَپنے جذبوں کے دھاگے کا سرا‘ اُس کی چلتی بات کے ساتھ باندھ دِیتی اور پھرگِرہ پرگِرہ دِیے چلی جاتی۔
یہ جذبے اُس فتنے کی خیزش سے بندھے ہوتے جو عاطف کو گھر پلٹنے تک برف کا تودہ بنا دیا کرتے تھے۔
اکثر یوں ہوتا کہ عاطف گھر لوٹتا تو شائستہ کا بَد ن خفگی کے تناﺅ کی لہریں چھوڑ رہا ہوتا۔
بَد ن کی کوسوں کے اُوپر ہی اُوپر تیرتی یہ لہریں ایسے لمس کی تھپکی مانگتی تھیں جو عاطف کے اَندر رُوبی نے باتوں کے کھانچے میں کہیں یخ بستہ کر دِی تھی۔
جب کہ شائستہ غصے سے کھولتی تھی۔ کھولتی تھی اور کچھ نہ بولتی تھی۔
کہ وہ پہل کر کے بولے چلے جانے کی عادِی نہیں ہوئی تھی۔
عاطف کبھی کبھی چاہتا کہ وہ اُس پر برس پڑے - لڑے جھگڑے اور جو کچھ اُس کے بَد ن کی سطح مرتفع پر لہریں سی چھوڑ رہا تھا اُسے چیختے چنگھاڑتے لفظوں میں ڈال دِے۔ یوں کہ عاطف کے لیے اَپنی بات کہنے کی گنجائش پیدا ہو۔
وہ بات جس سے خیزش کی تانت بندھی ہوتی ہے۔
مگر اس کا بَد ن سمندر کی بھوکی بپھری لہروں کی طرح اُوپر نیچے ہوتا رہتا اور ایسا شور چھوڑتا - جوماحول کا حصہ ہو کر سکوت میں ڈَھل جاتا ہے یا پھر ایسا شور جواَپنی دہشت سے پَرے دھکیل دِیتا ہے اور سماعتوں کو بند کر دیتا ہے۔
وہ سننا چاہتا مگر کچھ بھی سُن نہ پاتا تھا کہ ایک سکوت تنا ہوا تھا۔ گاڑھا - گھمبیر اورگھمس والا سکوت۔ یا پھر شاید ایک دہشت کاتناﺅ تھا - دِل کھینچ لینے والی دِہشت کا طالح تناﺅ۔
معمول کبھی کبھار ٹوٹ بھی جاتا تھا ۔ ایسے کہ جیسے کوئی بے دِھیانی میں ایک ہاتھ دُوسرے ہاتھ کی طرف لے جاتا ہے۔ دائیں ہاتھ کی اُنگلیاں بائیں کی اُنگلیوں میں بٹھاتا ہے - ہتھیلیوں کو سامنے کر کے دونوں کہنیوں کوتان لیتا ہے اور پھر عین انگلیوں اور ہتھیلیوں کے جوڑ سے چٹخارے نکال دِیتا ہے۔
احباب کے دَائرے میں وہ ایک مثالی جوڑا جانے جاتے تھے۔ جب کبھی تقاریب میں اُنہیں اکٹھے شریک ہونا پڑتا - تو وہ ایک دوسرے کے آس پاس ہی رہتے۔ 
شاید اُس فاصلے کو پرے دھکیلنے کے لیے - جو دونوں کے بیچ تھا۔
وہ ایک دوسرے کو احتیاطاً دِیکھ لیا کرتے - کھسیانے ہوتے - ہنس دِیتے اور لوگ اُن کا یوں مسکرا کر ایک دوسرے کو دِیکھنا حسرت اور لطف سے دیکھا کرتے تھے۔
مگر کچھ تو تھا - جو دُونوں کے بیچ تھا اور کچھ اَیسا بھی تھا - جو دونوں کے بیچ نہیں تھا۔
مرد اَپنی عورت سے چھپ چھپا کر باہر جو کچھ کرتا ہے - عورت اُسے جان لیا کرتی ہے۔
شاید اِس لیے کہ باہر کی ساری کارگزاری وہ بے خبری میں اَپنے تن پر لکھ لایا کرتا ہے‘ یوں کہ وہ خود تو اُس تحریر سے بے خبر ہوتا ہے مگر عورت اُسے پڑھ لیتی ہے ۔ ایک ایک لفظ کو۔ ایک ایک شوشے اور نقطے کو اور اُن وقفوں کو بھی جو اِن لفظوں اور سطروں کے بیچ پڑتے ہیں۔
شائستہ نے عاطف کے بَد ن کے اوراق پر لکھے متن کو جب پڑھا تھا تو وہ رُوبی کی خُوشبو تک سے آگاہ ہو گئی تھی۔ 
اس کی جگہ کوئی بھی اور ہوتی تو وہ بِپھر جاتی مگر وہ ایسی عورتوں میں سے تھی ہی نہیں - جو کسی بھی بات کو خود ہی آغاز دِے لیا کرتی ہیں۔ 
اُسے تو خود آغاز چاہیے تھا۔ بھیگا ہوا آغاز۔
ایسا کہ جس کا اَنجام بھی بھیگا ہوا ہو۔
عاطف کے پاس اَیسے الفاظ کہاں تھے جو پہل قدمی کاہنر جانتے ہوں کہ ایسے اَلفاظ تو ہر بار اُس کے بَد ن کی جھولی میں رُوبی ڈالا کرتی تھی۔ 
اور وہ اسی کا عادی تھا۔
اِس عادت نے شائستہ کے بَد ن میں کسمساہٹ - بے قراری اور اِضطراب کی موجیں رَکھ دِی تھیں۔ وہ سارے گھر میں اِدھر اُدھر بکھرے تعطل کو باہر دھکیلتی رہتی - شاور لیتی تو پانی کی پھوار تلے سے نکلنا جیسے بھول ہی جاتی - حتیٰ کہ اُسے یوں لگنے لگتا جیسے جسم کے اُوپر ایک جِھلی سی نمودار ہو گئی ہو۔ وہ لرزتے ہاتھوں کی لمبی پوروں سے اُس جِھلی کو چھوتی تو لمس بَد ن کے اُوپر ہی اُوپر تیرتا رہتا۔ اِدھر سے اُوب کر باہر نکلتی تو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھ کر آئینے میں خود کو دِیکھے جاتی۔ پورا کمرا‘ اِمپورٹیڈ باڈی لوشنز اور پرفیومز سے مہکنے لگتا ۔ اِسی مہک میں کپڑوں کی سرسراہٹیں جاگتیں ‘ ویکسنگ اور پفنگ کے بعد بلش آن اور کاسمیٹکس کے اِنتخاب میں ایک مُدّت گزر جاتی۔ جب وہ اَپنے اطمینان کی آخری حد تک سنور چکی ہوتی - تو وہ آئینے میں خود کو پہلو بَد ل بَد ل کر دیکھتی ۔ دیکھتی اوردیکھے چلے جاتی - حتیٰ کہ آئینہ وہ منظر دکھانے لگتا تھا جِس میں وہ نہیں ہوتی تھی۔ 
اِسی اَثنا میں کام کاج میں ہاتھ بٹانے والی آ جاتی تو اُسے کئی کام سوجھ جاتے۔ جلدی جلدی ٹشو پیپرز سے چہرے پر جمی میک اَپ کی تہیں اُتار دِیتی۔ جب ٹشو پیپرز کا ڈھیر لگ جاتا تو اُس کی مصروفیت کا ڈھنگ بَد ل جاتا۔ گھر کو خوب چمکایا لشکایاجاتا ۔ صاف ستھری چادروں کو پھر سے بَد لا جاتا۔ اِدھر اُدھر دیواروں پر چھینٹے ڈھونڈ ڈھونڈ کر صاف کیے جاتے۔
یہاں تک کہ وہ نڈھال ہو جا تی ۔
ایک اِنتظار کے لیے موزوں حد تک نڈھال۔
پھر وہ آ جاتا تو اُس کے بَد ن پر لہریں سی اُٹھتیں ۔ 
لہریں اُٹھتی رہتیں اور اُس کا بَد ن ٹوٹ جاتا ؛ اُن لفظوں کی چاہ میں جو آگے بڑھ کر اُس کی ساری تھکن چُوس سکتے تھے ۔
مگر عاطف تو خود پہل قدمی والے الفاظ کہیں سے مُستَعار لینے کا عادی تھا۔
رُوبی سے اور رُوبی سے پہلے ایک اور لڑکی تھی فرحانہ - اُس سے۔
وہ بھی تو رُوبی جیسی ہی تھی۔
شائستہ بہت بعد میں اُس کی زِندگی میں آئی۔ تب جب دونوں نے اُس کا بَد ن اوجھ جیسا بنا دیا تھا۔
کچوکوں سے بیدار ہونے والا۔
یوں جیسے اس کا بَد ن نہ ہو مٹی میں مٹی ہو کر اور مکر مار کر پڑ رہنے والا وہ لسلسا کیڑا ہو جسے پھل سنگھی اَپنی لمبی چونچ کے ٹھونگوں سے جگاتی ہے۔
جب بہاولپور سے آنے والا میلا کچیلا شخص اُسے دروازے پر ملا - تب تک شائستہ کا ساتھ ہوتے ہوے بھی کچوکوں سے بیدار ہونے کی عادت کو ساتواں برس لگ چکا تھا۔
اِس سارے عرصے میں وہ دو سے تین ہو چکے تھے ۔ ڈیڑھ برس پہلے ہی اُن کے ہاں ننھے فرخ نے جنم لیا تھا جو اَب پوری طرح شائستہ کو اَپنی جانب متوجہ کیے رَکھتا۔
بہ ظاہر گھر مکمل تھا۔ مکمل اور پرسکون دِکھنے والا۔
سب کچھ ایک ڈَھنگ سے ہوتا نظر آتا تھا۔
مگر وقت کی ڈِھینگلی کے سرے سے بندھا معمولات کا بوکا جو پانی باہر پھینکتا تھا - وہ دونوں کی زبانوں پر پڑتے ہی کھولتا رَصاص ہو جاتا تھا - آبلے بنا دینے والا۔
ایساکیوں ہوتا ہے ؟
یہ سوال دونوں کے سامنے آتا رہا مگر وہ اِس کا صحیح صحیح ادراک کر سکنے اور اِس پر قابو پا لینے کی صلاحیت نہ رَکھتے تھے۔ وہ تو شاید اِس ساری صورتحال کے مقابل ہونے کو تیار ہی نہ تھے۔ تب ہی تو عاطف کے ہوتے ہوے بھی شائستہ ننھے فرخ ہی سے مصروف رہے چلے جانے کو ترجیح دِیا کرتی۔
وہ جانتا تھا کہ وہ کیوں فرخ کو گھٹنوں پر اوندھا کیے مالش کیے جاتی ہے؟ کس لیے اُس کے پاﺅں کے تلووں پر گال رَگڑ رہی ہے؟ اُس کے پیٹ پر منھ رکھ کر پھوکڑے مارتی ہے تو کیوں؟ اُس سے باتوں میں مگن رہنا - لاڈ سے ہونٹوں میں لوچ ڈال لینا اور وہ کہے جانا جس میں کوئی ربط نہ ہو - عاطف کی سماعت سے ٹکرا کر مربوط ہو جاتا مگر عاطف تو صرف اپنے اوجھ بَد ن پر کچوے چاہتا تھا لہذا ننھے وجود کی نازک جلد پر نرم نرم چکنے ہاتھوں کا یوں پھسلنا - اُسے گیلے ہونٹوں کی لرزش دَبا کر بوسے دینا - ہونٹ جما کر اور پٹاخ کی آواز پیدا کرتے ہوئے - ماتھے پر‘ ہونٹوں‘ گردن‘ ناف اور رانوں پر‘ حتیٰ کہ دائیں یا بائیں پاﺅں کے انگوٹھے کے گرد ہونٹوں کو رَکھ کر گھما لینا - سب کچھ رائیگاں چلا جا رہا تھا۔
تاہم فرخ اِس پیار کی بوچھاڑ سے کھل کھل ہنستا - غوں غوں کرتا اور زور زور سے اَپنے پاﺅں مارنے لگتا تھا۔
جس روز بہاولپور سے اُن کے ہاں مہمان آیا - اس روز شائستہ پروگرام بنائے بیٹھی تھی کہ عاطف کے آتے ہی وہ ننھے فرخ کو نیم گرم پانی سے نہلائے گی کہ وہ اُسے قدرے مَیلامَیلا لگ رہا تھا مگر جب وہ مہمان ڈرائنگ روم میں داخل ہوتا نظر آیا جو اَزحدمَیلا تھا تو وہ اَپنا پروگرام بھول چکی تھی۔
اُس کے وجود میں لسلسلے وجود کی پہلے سے موجود کراہت کے ساتھ عجب طرح کی باسی گِھن بھی گُھس بیٹھی تھی۔
عاطف اَپنے مہمان کو بٹھا کر ذرا فاصلے پر کھڑی شائستہ کے پاس آیا - بوکھلایا ہوا۔ 
جب اُسے کچھ کہنا ہوتا اور شائستہ کسی دوسری کیفیت کو چہرے پر سجائے ہوتی تو وہ یوں ہی بوکھلا جایا کرتا تھا۔
شائستہ کچھ سننے کے مُوڈ میں نہ تھی ۔ اُس نے مہمان کے سلام کا بھی کوئی نوٹس نہ لیا تھا کہ اِس نئے وجود سے اُمنڈتی گھِن کو اپنے بَد ن میں موجود کراہت کے پہلو میں بٹھا چکی تھی‘ حتیٰ کہ سب کچھ نفرت میں ڈَھل کر اُس کے چہرے سے چھلکنے لگا۔ شائستہ کے لیے اَپنے اِن شدید جذبوں کے ساتھ وہاں رُکنا ممکن نہ رہا تو وہ اَپنے قدموں پر گھومی اور ڈرائنگ روم سے باہر نکل گئی۔ اِسی اثنا میں عاطف کچن میں خود کو معمول پر لاتا رہا۔ اگرچہ وہ مہمان کے لیے پانی لینے آیا تھا مگر ریفریجریٹر سے بوتل نکالنے کے بہانے اُسے پوری طرح کھول رکھا تھا۔ یوں کہ اُس کاسینہ اور چہرہ - دونوں یخ جھونکوں کے سامنے رہیں۔
اُسے معلوم ہی نہ ہو سکا کہ کب شائستہ اُس کے عقب میں آ کر کھڑی ہو گئی تھی۔ وہ تو تب بَدحواس ہو کر ایک طرف ہو گیا - جب اُس نے اَپنے دائیں ہاتھ سے اُس کے بائیں کندھے کو قصداًذرا زور سے دبا کر اُسے ایک جانب دھکیلا تھا۔
وہ وہیں کھڑا دیکھتا رہا جہاں بوکھلا کر پہنچا تھا۔ شائستہ نے پانی کی بوتل نکالتے ہی قدرے جَھٹکے سے ریفریجریٹر کا دروازہ بند کیاتھا۔
پھر اُس نے سینک کے کونے میں پڑا وہ گلاس نکالا جو دونوں کے اِستعمال میں نہیں آتا تھا اور اس چنگیر کی جانب لپکی جس میں پہلے سے روٹیاں لپٹی ہوئی پڑی تھیں ۔ شائستہ بچ جانے والی روٹیوں کو اِسی چنگیر میں رَکھتی تھی کہ صفائی والی ماسی آتی تو لے جایا کرتی۔
رکابی میں سالن بھی پہلے سے موجود تھا - شوربا - جس کی سطح پر ایک جھلی سی بن گئی تھی۔ شوربے کے بیچ میں پڑا ہوا اکلوتا آلو اَپنی رنگت بَد ل کر گہرا بھورا ہو گیا تھا۔ یقینا ماسی آج نہیں آئی تھی۔ اُس نے اَپنے یقین کے استحکام کے لیے اِدھر اُدھر دیکھا۔ اِس سے پہلے کہ وہ کوئی اور نشانی تلاش کر لیتا - شائستہ نے اُسے پھر چونکا دیا۔ وہ ایک ٹرے میں پانی کی بوتل - گلاس - چنگیر اور رکابی رکھ کر اُس کی سمت بڑھانے کے بعد لفظوں کو چبا چبا کر کَہ رہی تھی ۔
”جب وہ کھانا کھا چکیں تو اصرار کر کے انہیں روک نہ لیجئے گا۔“
اُس نے اُسے نہیں روکا تھا مگر وہ خود ہی رُک گیا تھا۔
شائستہ سارا وقت اَپنے بیڈ روم میں اُوندھی پڑی رہی اور بہت دیر بعد جب عاطف کمرے میں آ کر آنے والے مہمان کی بابت اُسے بتا رہا تھا تو اس کی سانسیں دھونکنی کی طرح چل رہی تھیں ۔ اُسے کچھ بھی سنائی نہ دے رہا تھا۔ ”ضرورت مند“۔ ”پرانا کلاس فیلو “ اور ”مدد“ جیسے الفاظ اُس کے کانوں میں پڑے تھے۔ ایک میلے کچیلے شخص کی اوقات کے لیے یہ کافی تھے لہذا اُس نے اَپنی سماعتوں کو بند کرلیا - پہلو بَد ل کر لیٹ گئی اور سارے بَد ن کو موج دَر موج اُچھل جانے دیا۔
اَگلے روز ناشتے تک وہ نہیں اُٹھا تھا۔ دفتر کے لیے تیار ہونے کے بعد اور ناشتے کے لیے بیٹھنے سے پہلے - عاطف نے ڈرائنگ روم میں جھانکا ۔ وہ وہیں صوفے پر - عین اُسی رُخ لیٹا ہوا تھا ؛ رات اصرار کر کے جس رخ لیٹ گیا تھا۔ مہمانوں کے لیے بیڈ روم اوپر تھا مگر وہ وہیں صوفے پر لیٹنا چاہتا تھا۔ لیٹ گیا اور اَب اُٹھنے کا نام ہی نہ لے رہا تھا۔ عاطف نے دِل ہی دِل میں اسے وہی گالی دِی جو اُسے بچپن میں دِیا کرتا تھا او ر ناشتے میں مگن ہو گیا۔
جب وہ دفتر کے لیے نکلنے لگا تو عاطف میں ہمت نہ تھی کہ وہ شائستہ کو مہمان کے حوالے سے کوئی ہدایت دِیتا یا فرمائش کرتا۔ کوٹ کی جیبوں کو ٹٹول کر اپنا چرمی پرس نکالا - اُس میں سے اَپنا وزیٹنگ کارڈ الگ کیا اور اُس میز پر رَکھ دِیا جس کے قریب پڑے صوفے پر وہ یوں بے خبر سو رہا تھا کہ سارا ڈرائنگ رُوم اُس کے خراٹوں سے گونجتا تھا۔
بے اِختیار وہی گالی عاطف کے ہونٹوں پر پھر سے گدگدی کرنے لگی ۔
اُس کے ہونٹ بے اختیار پھیلتے چلے گئے۔ وہ منھ ہی منھ میںبڑبڑایا اور باہر نکل گیا۔
دفتر میں وقفے وقفے سے اُسے مہمان کا خیال آتا رہا۔
رات اُس نے جو دلچسپ باتیں کی تھیں - اُنہیں یاد کرتا تو مسکرانے لگتا۔ شائستہ کے روّیے کے باعث اُسے جو خفت اُٹھانی پڑی تھی وہ اُسے ملول کرتی تھی لہذا اُس نے اپنے تئیں طے بھی کر لیا تھاکہ وہ اُس کی کیا مدد کرے گا۔
جب بھی ٹیلی فون کی گھنٹی بجتی - اُسے گماں گزرتا کہ گھر سے کال ہو گی حتیٰ کہ اُسے تشویش ہونے لگی۔ پھر وہ چاہنے لگا کہ خود فون کر کے مہمان کی بابت پتا کرے۔ اُس نے دوبار نمبر گھمایا بھی - مگر اِس خیال سے کہ فون شائستہ اُٹھائے گی - اُس نے اِرادہ ملتوی کر دیا ۔ تیسری بار وہ گھر کا نمبر ملاتے ملاتے نہ جانے کیوں رُوبی کو ڈائل کر بیٹھا۔
وہ تو جیسے اُسی کے فون کی منتظر تھی۔
پہلے تو باتوں میں اُلجھا لیا - پھر جذبوں کی ڈوری سے اُسے یوں باندھا کہ وہ دفتر سے غائب ہو کر سیدھا اُس کے پاس پہنچ گیا۔ حتیٰ کہ چھٹی کا وقت ہو گیا۔
جب وہ گھر میں داخل ہو رہا تھا تونہ جانے کیوں اُسے یقین سا ہو چلا تھا کہ مہمان جا چکا ہو گا مگر وہ تو وہیں تھا۔
اُس نے مدھم مدھم آواز کو سنا تو اُسے یقین نہ آتا تھا۔
شوخ سی آواز - مسلسل بولنے کی ۔ تھوڑے تھوڑے وقفے دے کر۔ اور الفاظ یوں شباہت بناتے تھے کہ جیسے انہیں اَدا کرنے والے ہونٹ لوچ دَار ہو گئے ہوں۔ باتوں کے وقفوں میں قہقہے اُمنڈتے تھے۔ شائستہ کے شیریں حلقوم سے۔ اس جھلی کو توڑتے ہوے جو ایسے قہقہوں سے الگ رہنے کے سبب اُس کی آواز کے اوپر بن گئی تھی۔
یہی قہقہے سننے کی اُسے حسرت رہی تھی۔ اُسے اَچنبھا ہوا کہ شائستہ ایسے رسیلے قہقہے اُچھال سکتی تھی اور اُچھال رہی تھی۔
وہ تقریباً بھاگتا ہوا ڈرائنگ روم کے دَروازے تک پہنچا اور اُسے لگا کہ جیسے سارا ڈرائنگ روم مہمان کی دھیمی ‘مسلسل باتوں سے اور شائستہ کے بے اختیار قہقہوں سے کناروں تک بھر چکا تھا اور اَب چھلکنے کو تھا۔
مہمان نے اَپنے گیلے کھچڑی بالوں کو سلیقے سے یوں پیچھے سنوارا ہوا تھا کہ کنپٹیوں کی سفیدی دَب گئی تھی اور اُس کی آنکھوں میں چمک تھی جو اُس کے سارے چہرے پر ظاہر ہو رہی تھی۔ - یہاں تک کہ جبڑوں کی مسلسل نمایاں نظر آنے والی ہڈیاں بھی اِسی چمک میں کہیں معدوم ہو گئی تھیں۔
جو شخص بول رہا تھا اس کے بَد ن پر عاطف کا پسندیدہ لباس تھا جو اگرچہ اُس پر چست نہ بیٹھا تھا مگر اُسے بارعب بنا گیا تھا۔
دُھلا دُھلایا صاف ستھرا شخص - اُس شخص سے بالکل مختلف ہو گیا تھا جسے وہ صبح صوفے پر خراٹے بھرتا چھوڑ گیا تھا۔ 
وہ مسلسل بول رہا تھا اور اُس کے ہونٹ ایک طرف دائرہ سا بنا رہے تھے ۔
وہ عاطف کی نظر آنے تک بولتا رہا۔
شائستہ کے قہقہے اُچھلتے رہے۔ 
عاطف کے نظر آنے پر بھی وہ کسی رَخنے کے بغیر اُچھلتے رہے - حالاں کہ بولنے والا شخص خاموش ہو چکا تھا۔ عاطف کو لگا - شائستہ قہقہے نہیں اُچھال رہی تھی - ننھا فرخ اُس کے گھٹنوں پر اُوندھا پڑا کلکاریاں مار رہا تھا جب کہ نرم ملائم جلد پر مخروطی اُنگلیاں پھسل رِہی تھیں اور پھسلے ہی جاتی تھیں۔ 
ٍ

Nai Electra


وہ کہتی ہے‘ وہ یوری پیڈیرز کی الیکڑا جیسی ہے۔
فر ق ہے تو اِتنا سا کہ پرانے والی الیکٹرا کو اُس کی بے وفا ماں اور اُس کے بَد طینت عاشق کی وجہ سے سب کچھ چھوڑنا پڑا‘ جب کہ اُسے یعنی نئی الیکٹرا کو‘ جن لوگوںکی وجہ سے گھر بَد ری پر مجبور ہونا پڑا اُن میں ایسے لوگوں کے نام آتے ہیں جن کا وہ بتانا نہیں چاہتی۔
لوگ کہتے ہیں۔
وہ الیکٹرا نہیں خود کلائٹمنسٹرا ہے۔
شاطرہ‘ بے وفا‘ بَد کردار....
گھر بَد ری محض ایک ڈرامہ تھا.... اور جب وہ یہ کہتی ہے کہ وہ لوگوں کے نام بتانا نہیں چاہتی تو دراصل اُس کے ذِہن میں اِیک نام بھی نہیں ہوتا.... وہ تو محض ڈرامے کا جملہ بولتی ہے۔
لوگ یہ بھی کہتے ہیں۔
پرانے والی کائٹمنسٹرا نے اپنے شوہر ایگمنان کو اَپنے عاشق سے مل کر قتل کرایا تھا جب کہ اِس شاطرہ نے اَپنے بَد طینت شوہر سے مل کر اُن سب کو تلوار کی دَھار پر رَکھا ہوا ہے جو اُس کی طرف نظر اُٹھانے کا جرم کرتے ہیں۔
وہ بتاتی ہے۔
جب نئے والے ایگمنان کو قتل ہوے زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا تو اُس نے چال چلی تھی ویسی ہی چال جیسی پرانی والی الیکٹرا نے چلی تھی۔
بس فرق اِتنا تھا....
پرانی والی الیکٹرا نے یہ پیغام بھیجا تھا کہ اُس کے ہاں بچہ ہو چکا ہے جب کہ اُس نے‘ یعنی نئی الیکٹرا نے‘ ڈھونگ رچایا تھا کہ اُس کے پیٹ میں بچہ ہے اور بچہ اس قدر نیچے کھسک آیا ہے کہ وہ چلنے پھرنے سے معذور ہے۔
لوگ کہتے ہیں:
وہ الیکٹرا نہیں‘ کلائٹمنسٹرا ہے۔
دغا باز‘ فریبی‘ مکار....
یوں بھی حمل کسی قسم کا ڈھونگ رَچانے سے بھلا کب باز رکھ سکتا ہے۔ عمرریوابیلا کے ناول ”ری کوئیم فار اے وومین ‘زسول“ میں ریاستی جبر کا شکار ہونے والی سوزانا کی بے ربط یادداشتوں میں جس اَیلیشیا کا ذکر ملتا ہے وہ بھی حاملہ تھی۔
وہ پاگل نہیں تھی‘ مگر خود کو پاگل ظاہر کرتی تھی۔ اِس لےے کہ اس کے ساتھ جو کچھ ہو چکا تھا اس کے نتیجے میں اُسے پاگل ہو جانا چاہیے تھا۔
جب وہ عجیب وغریب حرکتیں کرتی تھی تو اُس پر تشدد کرنے والے یقین کر لیتے تھے کہ وہ دیوانگی میں ایسا کر رہی ہے۔ جب کہ سوزانا اَپنی بے ربط یادداشتوں میں لکھتی ہے کہ وہ اِس طرح کوئی اَہم پیغام اُن تک منتقل کیا کرتی تھی۔
اُس نے بچے کا ڈھونگ نہیں رچایا تھا بچہ اس کے پیٹ میں تھا۔
پھر یوں ہوا‘ کہ وہ آگئی۔
جب وہ آئی تو اس کے ہونٹوں پر گئے دنوں کے عذاب لمحوں کے تذکرے تھے۔
وہ کہتی .... 
اُس نے ایک ایک لمحہ رَو رَو کرگزاراہے کیوں کہ اُسے اَپنے باپ یعنی نئے والے ایگمنان کے قتل کا دُکھ سہنا پڑا تھا اور اُسے ساری آسائشیں چھوڑنا پڑی تھیں جو اُس کے بَد ن میں حرارت ‘ جلد میں چمک اور گالوں پر سرخی لا سکتی تھیں۔
جب وہ یہ کہتی تو لوگ اُس کے حُسن کی تعریف کرتے اور کہتے.... نام نہاد سختیوں نے تو اُس کے بَد ن کو گداز ‘ ہونٹوں اور گالوں کو سُرخ جب کہ جلد کو مزید شفاف بنا دیا ہے۔
وہ کہتی ....
جہاں وہ گھر بَد ری کے دن کاٹتی رہی تھی وہاں کے لوگ بہت اچھے تھے۔
پرانے والی الیکٹرا کا قصہ بھی ملتا جلتا ہے۔
جس کے ساتھ اُس کی شادی ہوئی تھی اُس نے اُسے چھوا تک نہ تھا۔
اور جس نے نہیں چھوا تھا؛ وہ چاہتا تھا الیکٹرا آرام سے رہے مگر وہ پرانی آسائشوں کو نہ بھول پائی تھی.... وہ روتی رہتی تھی۔
وہ جو خود کو نئی الیکٹرا کہتی ہے وہ گھر بَد ری کے دنوں کو یاد کر کے دُکھی ہو جاتی ہے.... اور کہتی ہے کہ....
وہ بہت اَچھے لوگ تھے.... مگر پھر بھی وہ روتی رہتی تھی۔
لوگ کہتے ہیں۔
وہ الیکٹرا نہیں‘ کلائٹمنسٹرا ہے.... 
دغاباز‘ فریبی‘ عیار‘ مکار....
کچھ اور لوگ بھی ہیں ‘ جو ذرا پرے کھڑے سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔
یہ اِدھر ہیں نہ اُدھر ۔
اِن میں سے ایک کہتا ہے۔
وہ کالی دَاس کی شکنتلاہے۔ 
ایسی شکنتلا کہ جسے کوئی راجہ دَشینت نہیں ملا۔
وہ ‘جو خود کو راجہ دَشینت سمجھتا ہے‘ اُس کے ہاتھ میں کوئی انگوٹھی نہیں ہے۔
خود کو راجہ دَشینت کہنے والا دعویٰ کرتا ہے۔
اُس کی انگوٹھی مچھلی کے پیٹ میں ہے۔
وہ لوگ جو نہ اِدھر ہیں نہ اُدھر.... اُن میں سے ایک اور کہتا ہے.... 
یہی دعویٰ اس کے راجہ دَشینت نہ ہونے کا ثبوت ہے۔
وہ مزید کہتا ہے۔
نہ تو مدعی دَشینت ہے نہ اُس کے بازوﺅں میں بازو ڈالنے والی شکنتلا.... وہ تو بس رَاسین کی فَیدرا جیسی ہے۔
جوانی ‘ حسن اور جذبات سے بھری ہوئی۔
جو جذبات سے آگ بھڑکاتی ہے اور سب کو رَاکھ بنا ڈالتی ہے۔
وہ لوگ جو اُدھر ہیں‘ نہ اِدھر ‘ اُن میں سے تیسرا کہتا ہے۔
وہ سارے لوگ جو اِدھر بھی ہیں اور اُدھر بھی بالزاک کے اُس بوڑھے گوریو جیسے ہیں‘ جو کامیڈی ہیوسن میں اَپنی بیٹیوں کے لےے سب کچھ قربان کر سکتا ہے۔
وہ کہتی ہے۔
وہ تو سب کی بیٹی ہے۔
لوگ کہتے ہیں۔
وہ چھنال ہے۔
وہ ہنستی ہے اور تکرار کرتی ہے کہ
وہ تو سب کی بیٹی ہے۔
تیسرا آدمی اَپنی بات آگے بڑھاتا ہے۔
لوگ بوڑھے گوریو کی طرح ہیں اُسے اَپنی بیٹی نہ سمجھتے ہوے بھی اُس پر سب کچھ قربان کرتے چلے جارہے ہیں۔
وہ اُسے جھوٹا کہتے ہوے بھی اُس سے محبت کرتے ہیںکیوں کہ وہ کہتی ہے کہ وہ ان کی بیٹی ہے۔
لوگ چوں کہ بوڑھے گوریو جیسے ہیں لہٰذا چھنال کے عاشقوں کو بھی دعا دے رہے ہیں۔ وہ دعا کے لےے اٹھے ان ہاتھوں سے لمبی مہلت کے دانے اٹھا کر نفاست سے بٹے ہوے دھاگے میں ڈال لیتی ہے۔
یہ دانے اس کی انگلیوں سے پھسلتے ہیں اور ہونٹوں پر عجب سی مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔
لوگ اُس وقت سے دعا کرنے کے عادی ہو گئے ہیں جب سے اس نے مظلومیت کا سوانگ بھرا ہوا تھا۔
لوگ کہتے ہیں۔
اس کی گھر بَد ری محض ڈھونگ تھا‘ آنکھوں میں دھول تھی‘ ایک فریب تھا‘ ڈرامہ تھا وہ چاہتی تو واپس آسکتی تھی۔
لیکن لوگ پھر بھی دُعا کرتے آتے رہے ؛اس لےے کہ لوگ بوڑھے گوریو جیسے ہیں۔
وہ جو نہ اِدھر ہیں نہ اُدھر ‘ وہ کہتے ہیں۔
لوگوں کی یہی سادگی کبھی کبھی بے وقوفی کی حدوں کو بھی چھونے لگتی ہے۔
لوگ کہتے ہیں۔
اُس نے الہ دین کا جادوئی چراغ رگڑا تھا اور اَپنی ساری آسائشیں وہاں منتقل کر دی تھیں جہاں وہ گھر بَد ری کے دِن گزر رہی تھی۔ وہیں وہ خُون اور پیپ کے پیالے لنڈھاتی تھی ؛یہ پیالے اُسے اُس کے چاہنے والے فراہم کرتے تھے۔
الہ دن کاچراغ الیکٹرا والے اصل قصے میں نہیں ہے .... مگر حیرت ہے کہ وہ خود سارے قصوں میں ہے اور سارے ہی قصے اُس کے آگے بے بس ہیں کہ اس کے تذکرے کے بغیر نامکمل رہ جاتے ہیں۔
پھر یوں ہوا کہ ایگمنان قتل ہو گیا۔
وہ کہتی ہے۔
اَب قتل ہونے والا ایگمنان نہیں بل کہ ایجس تھیس تھا ۔ 
غاصب ‘ ظالم اور اصل ایگمنان کا قاتل ۔
اَصل ایگمنان سے اُس کی مراد یوری پیڈیز والا نہیں بل کہ اُس کا اپنا باپ ہے۔
مگر کچھ لوگوں کا اصرار ہے۔
اِس بار قتل ہونے والا ایگمنان ہی تھا۔
وہ کہتی ہے۔
جو قتل ہوا ہے اُسے قتل ہوجانا چاہئے تھا؛ا گرچہ ِاس قتل میں اُس کے بھائی یعنی نئے والے لیسٹس کا کوئی ہاتھ نہیں ‘مگر جو ہوا اچھا ہوا اور ایسا ہی ہونا چاہئے تھا۔
لوگ کہتے ہیں۔
بہت ظلم ہوا اور اِس ظلم کے پیچھے اُس شاطرہ‘ اُس کے بھائی اور اُن چالیس چوروں کا بھی ہاتھ ہے جو مرجینا والے نئے قصے میں اَپنے دروازے مرجینا کے لےے کھلے چھوڑ دیتے ہیں۔
الیکٹرا اور کلائٹمنسٹرا کے قصے میں چور نہیں ہیں۔
مگر اِس قصے میں چوروں کا تذکرہ تواتر سے آتا ہے۔
وہ کہتی ہے۔
اگر اُسے چوروں والے قصے کی مرجینا سمجھ لیا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں۔ 
وہی مرجینا جو بے حد حسین تھی اور عقل مند بھی۔
لوگ کہتے ہیں۔
وہ چوروں والے نئے قصے کی دغا باز اور فریبی مرجینا ہے ؛ایسی مکار ار حرافہ کہ اپنے ہی مالک کی آنکھوں میں دُھول جھونکتی ہے۔
جب ہنہناتے گھوڑے بندھ چکتے ہیں اور اُس کا مالک اِعتماد کے نشے میں لڑھک چکتا ہے تو چپکے سے اٹھتی ہے۔
اور باری باری اُن چوروں کے بستروں میں جا گھستی ہے جو اُس کے مالک کے جاگتے ہوے اُسے دیکھنے کا حوصلہ بھی نہ کر پاتے تھے۔
مگر جوں ہی اُس کا مالک جاگتا ہے۔
وہ پاک دامن اور عفیفہ بن جاتی ہے۔
اُس کے ہاتھوں میں مضبوط بٹے ہوے دھاگے میں پروئے ہوے دانے ہوتے ہیں۔
یہ دانے اس نے دعا کے لےے اُٹھے ہاتھوں سے اُچکے تھے۔
دُعا کے لےے اٹھے ہاتھ اُن لوگوں کے تھے جو اَپنی نہیں بل کہ بوڑھے گوریو کی جون میں تھے۔
لوگ کہتے ہیں؛ وہ جھوٹی ہے۔
مگر وہ دانے گن گن کر اسم اعظم کا ورد کرتی ہے۔
اور جب وہ ورد کرتی ہے تو چالیس کے چالیس چور اس کے لےے کھل جا سم سم کہتے ہیں۔
وہ لوگوں کی طرف مسکرا کر دیکھتی ہے اور کہتی ہے۔
وہ الیکٹرا ہے۔
نظروں کے سامنے جتنی بھی تصویریں متحرک ہیں سب ایک ہی جاپ جپ رہی ہیں۔
وہ الیکٹراہے۔
گلیوں کا خُون پکارتا ہے۔
وہ کلائٹمنسٹرا ہے۔
دغاباز‘ فریبی‘ مکار....
مگر لوگ اسے دیکھنے اور سننے پر مجبور ہیں۔
اِس لےے کہ اس کے پاس مرجینا والی چمکتی جلد‘ فیدرا جیسے بھڑکتے جذبات‘ الیکٹرا جیسی بلند ہمتی کلائٹمنسٹرا جیسی عیاری‘ ایلیشیا جیسا ڈھونگ‘ شکنتلا جیسا حسن اور چالیس چوروں کی طاقت ہے۔

Margzaar


وہ دھند میں ڈوبی ہوئی ایک صبح تھی ۔
مری میں میری پوسٹنگ کو چند ہی روز گزرے تھے اور جتنی صبحیں میں نے اس وقت تک دیکھی تھیں سب ہی دھند میں لپٹی ہوئی تھیں ۔
کلڈنہ روڈ پر ہمارا دفتر تھا ۔ ابھی مجھے گھر نہیں ملا تھا لہذا میں روزانہ پنڈی سے یہاں آیا کرتا تھا گذشتہ ہفتے کے آخری تین روز تو مناظر اَپنی طرف کھینچتے اور جی لبھاتے رہے مگر اگلے ہفتے کے پڑتے ہی دل پر عجب بے کلی کی دھند چھانے لگی تھی‘ بالکل ویسی دھند جو گذشتہ ہفتے مری کی صبحوں کو آغوش میں لے کرسہلاتی رہی تھی اور اب تیور بدل کراس کی چھاتی بھینچے جاتی تھی ۔
وہ صبح میری چھاتی بھی بھینچ رہی تھی۔ 
میں ابھی دفتر پہنچا ہی تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی چیخ اٹھی ۔ دوسری جانب سے ایک مانوس آواز لرز رہی تھی جو یک بہ یک سسکیوں میں ڈھل گئی۔ نواز کَہ رہا تھا تمہارا بھائی مصعب شہید ہو گیا۔ مزید ایک لفظ بھی اس کی زبان سے ادا نہ ہو سکا کہ اس کی ا ٓواز سسکیوں میں ڈوب گئی تھی۔
شدید دُکھ میرے پورے وجود میں تیر گیا اور لفظ شہادت کی تکرار میرے اندر گونجنے لگی۔
”دعا کرنا امی اللہ مجھے شہادت نصیب کرے“
”دعا کرنا بھائی میں خدا کی راہ میں شہید ہو جاﺅں“
”باجی دعا کرنا اللہ مجھے شہدا کے قافلے میں شریک کرے“
امی کے نام ‘ بھائیوں کے نام اور بہن کے نام اس نے جتنے خطوط لکھے وہ بس اسی تکرار پر تمام ہوتے تھے ۔ لفظ شہادت کے ساتھ جو تقدس وابستہ تھا اس کے باعث میں بغیر سوچے سمجھے آمین کہتا رہا مگر ہر باریوں ہوتا تھا کہ یہ لفظ میرے ہونٹوں سے پھسلتے ہی مجھے بوکھلا دیتا پورے بدن میں سنسنی سی دوڑ جاتی اور میں بوکھلا کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگ جاتا۔حتی کہ پچھتاوا مجھے جکڑ لیتا اور میں خلوص دل اور گہرے تاسف سے سوچتاکہ جسے میرے ہونٹوں سے لڑھکتی آمین کو سننا تھا وہ تو سن کر کوئی فیصلہ دے بھی چکا ہوگا ۔
نواز میرا قریبی عزیز تھا اس تک جو خبر پہنچ چکی تھی وہ اسے مجھ تک منتقل کرنے میں دِقت محسوس کر رہا تھا کہ سسکیاں لفظوں کو راہ ہی نہ دے رہی تھیں ۔ کسی اور نے اس سے ٹیلی فون لے لیا اور پشاور کا ایک نمبر دیتے ہوے کہا آپ مزید تفصیلات اس پر معلوم کر سکتے ہیں ۔میں نے پشاور والے نمبر پر فون کیا اور جوں ہی اپنا نام بتایا ‘دوسری طرف سے کہا گیا
”آپ سے رابطہ کرتے کرتے بہت دیر ہو چکی ہے آپ کو مبارک ہو آپ کا اور ہمارا بھائی مصعب شہادت کی منزل پاگیا۔ “ 
مبارک....مبارک ....مبارک ‘ایک گونج تھی جو سیدھی چھاتی پر پڑتی تھی اور ایک بوچھاڑ تھی کہ آنکھوں سے برس پڑی تھی ۔
اطلاع دینے والی آواز جیسے چابی سے چل رہی تھی ‘بغیر کسی وقفے کے آتی چلی گئی ۔
”زِندگی میں مصعب نے جس سعادت کی موت کی تمنا کی تھی وہ اسے نصیب ہوئی۔“
میں تو پہلے ہی چپ تھا اب اُدھر کی چابی بھی ختم ہو گئی تھی ‘ دونوں طرف خاموشی چھا گئی۔ بس ایک میرے سینے کی دھمک تھی جو سارے میں دندناتی پھرتی تھی ۔
میں نے چھاتی کو دبایا اور خود کو کچھ کہنے کے لیے مجتمع کیا‘بہ مشکل کہا :
” بھائی کی لاش....“ 
ترت جواب آیا:
” جی لاش ہمارے پاس ہے ‘ مگر ....“
میں بے حوصلہ ہو گیا اور لگ بھگ چیخ کر کہا :
”جو کچھ کہنا ہے ایک ہی دفعہ بک کیوں نہیں دیتے “ 
چابی والی آواز رک رک کر آنے لگی جیسے جس کَل سے آواز آہی تھی اسے چلانے والی گراریاں پھنسنے لگی تھیں ۔ 
وہ جو کچھ کَہ رہا تھا مجھے پوری طرح سمجھ نہیں آرہا تھا تاہم جب اس نے یہ کہا کہ تابوت ہمارے پاس پڑا ہے تو اس کی آواز پھر سے صاف اور واضح ہو گئی تھی ۔وہ کَہ رہا تھا:
”کوئی ساڑھے پانچ بجے جلال آباد کے اگلے مورچوں پر شہادت کا واقعہ ہوا ۔ ہمیں دو تین گھنٹے لاش اکٹھا کرنے میں لگ گئے اور....“
میں ایک دفعہ پھر چیخ رہا تھا:
’ ’ کیا کَہ رہے ہو .... یہ لاش اکٹھا کرنے سے کیا مراد ہے تمہاری؟ “
وہ چپ ہو گیا ‘ اتنا چپ جیسے ادھر دوسری جانب کوئی تھا ہی نہیں ۔ حتی کہ مجھے ”ہیلو ‘ہیلو“ چلا کر اسے بولنے پر مجبور کرنا پڑا ۔ 
”دیکھیں ہمیں آپ کا تعاون درکار ہے ۔“ 
”تعاون ؟“
”جی اور اجازت بھی“
”کس بات کی اجازت؟“
”ہمیں شہید بھائی کی وصیت پر عمل کرنا ہے ‘ آپ تعاون کریں گے اور اجازت دیں گے تو ایسا ممکن ہو پائے گا ۔ پہلے ہی بہت تاخیر ہو چکی ہے ۔“
”کیا وصیت کی تھی بھائی نے.... اور.... کب ؟“
”دیکھیں جی ظاہر ہے وصیت اس نے شہادت سے پہلے کی تھی اور وصیت کے مطابق اسے دوبارہ جلال آباد لے جانا ہے ۔“
”دوبارہ جلال آباد .... مگر کیوں ؟“
” اس لیے کہ اس کی وصیت یہ تھی کہ شہید ہونے کی صورت میں اسے جلال آباد کے شہداءکے قبرستان میں دفن کیا جائے ۔“ 
”پھر لاش ....“
”خدارا زیادہ بحث مباحثہ نہ کریں ۔ ہمیں اجازت دیں کہ شہید کی وصیت پر عمل کر سکیں۔“
میں بے بس ہوتا جارہا تھا کہا : 
”میں کیسے اجازت دے سکتا ہوں....وہ.... امی جان سے ....“
”جی ان سے رابطہ کی کو شش کی گئی مگر ان سے بات نہ ہو سکی ‘بس پیغام دیا جا سکا ہے ۔“
”میں بڑ بڑایا ‘ میں کیسے اجازت....؟“
شاید میری بڑبڑاہٹ اس تک پہنچ گئی تھی تبھی تو اس نے فوراً کہا تھا:
”جی مجبوری ہے ؟“
”گویا میں اجازت دوں نہ دوں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ‘ ‘
میں روہانسا ہو کر چیخا۔ میری آواز پھٹ گئی تھی اور پھٹی آواز کے دندانے میرے حلقوم کوبھی پھاڑ گئے تھے ۔

(نوٹ: اب مجھے کَہانی روک کر یہاں وضاحت کر ہی دینی چاہیے کہ یہ کَہانی میں انور کی اصرار پر لکھ رہا ہوں ۔ انور آج کل موت کے کنول پر منڈلاتی کَہانیوں کا اسیر ہے خود بھی زِندگی کی بہ جائے موت کی کَہانیاں لکھتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ مجھے بھی اپنے پاس موجود کسی بھی ایسی کَہانی کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے ۔اس کا خیال ہے کہ آج کل کی زِندگی کی کَہانیوں سے کہیں زیادہ جَوہر موت کی اِن کَہانیوں میں ہوتا ہے ۔ میں اس کی بات سے متفق نہیں تھا لہذا اس کَہانی کو اسے سنانے کے باوصف لکھنے سے احتراز کرتا رہا اور جس قدر کتراتا رہا اتنا ہی اس کا اصرار بڑھتا گیا یہاںتک کہ اوپر کی سطور قلم زد ہوگئیں ۔ یہاں پہنچ کر مجھے بہت سی وضاحتوں کی ضرورت محسوس ہونے لگی ہے مگرمیں سمجھتا ہوں کہ جب کَہانی اپنے زور سے بہہ رہی ہو تو وضاحتوں کو موخر کر دینا چاہیے۔لہذا کَہانی کا سرا وہیں سے جوڑتے ہیں جہاں سے یہ ٹوٹی تھی۔ اس کے لیے مجھے کَہانی کے راوی کی کھال میں گھسنا ہے ‘ وضاحتوں کے لیے مناسب مَقام تلاش کرتے ہی پھر حاضر ہو جاﺅں گا۔)

میں منت سماجت کرنے پر مجبور ہو گیا تھا گھگھیا گھگھیا کر کہنے لگا:
” مجھے بھائی کا چہرہ دیکھنا ہے“ 
ادھر سے بالکل سپاٹ آواز میں کہا گیا:
”آپ کے آتے آتے تو بہت دیر ہو جائے گی۔“
میں ہتھے سے اُکھڑ گیا ‘پھٹی ہوئی آواز کو اور لیر لیر کرتے ہوے چلایا:
” تم جھوٹ بولتے ہو تمہارے پاس لاش ہے ہی نہیں ورنہ تم ....“
میں نے اَپنی بات قصداً نامکمل چھوڑ دی ۔ سارے میں سناٹا چھا گیا۔ پورا دفتر میرے کمرے میں جمع ہو گیا تھا اور کوئی بھی کچھ نہ کَہ رہا تھا۔ ٹیلی فون کے دوسری طرف بھی کچھ دیر کا سکوت اتنا دبیز تھا کہ چھاتی پر بھاری سل کی طرح اپنا دباﺅ بڑھا تا چلا گیا‘ حتی کہ مجھے گماں گزرنے لگاکہ میری پسلیاں چٹخ جائیں گی۔ دفعتاًریسیور میں سے چابی بھری آواز نے آکر بھاری سل سرکادی :
” آپ آجائیں‘.... ....ابھی“
میں نے لمبا سانس لیا اور فورا کہا :
”جی میں آتا ہوں ‘ میرا انتظار کیجئے .... اور امی کو بھی ساتھ لیتا آﺅں گا“
”نہیں اس طرح تو بہت دیر ہو جائے گی “
اس نے رٹا رٹایا جملہ دہرادیا اور ساتھ ہی تاکید بھی کردی: 
”بس آپ خود ہی آجائیے مگر دیر نہ کیجئے گا“
اس خدشے کے پیش نظر کہ میں پھر سے نہ بول پڑوں اس نے حیات آباد کے ایک مکان کا نمبر مجھے دیا اور کہا: 
”ہم اس پتے پرآپ کا دو اڑھائی گھنٹے ہی انتظار کر پائیں گے “
فون بند ہو گیا ۔ ساتھ ہی میرا دل بھی جیسے دھڑکنا بند ہو گیا تھا۔ میں جہاں تھا‘ وہیں کھڑا رہا اور دوسری طرف سے کچھ سننے کے لیے سماعت کو پوری طرح حاضر رکھا‘یہاں تک کہ لائن کٹ گئی ۔ میں دونوں ہاتھوں کو میز پر رکھ کر کرسی پر یوں ڈھے گیا تھا جیسے بدن عین وسط سے کٹ گیا تھا۔ میں رودینا چاہتا تھا‘دھاڑیں مار مار کر ‘ اَپنی چھاتی پیٹ ڈالنا چاہتا تھا ....عین وہاں سے جہاں دل پسلیوں میں گھونسے مار رہا تھا مگر میرے اردگرد سارا دفتر جمع ہو گیا تھا ۔ 
(وضاحت نمبر ۱:
کہانی کے راوی نے اَپنی ماں کو ساتھ لانے کی بات کی اور باپ کا تذکرہ نہیں کیا ۔ ممکن ہے یہ بات کسی قاری کو الجھائے لہذا یہاں وضاحت ضروری ہو گئی ہے کہ راوی کا باپ پہلے ہی فوت ہو چکا تھا ۔ 
وضاحت نمبر ۲: 
راوی کے بھائی کی شہادت کا واقعہ ہمسایہ ملک افغانستان میں ہوا جب کہ حیات آباد اس کے اپنے ملک کے ایک شہر پشاور میں واقع ہے ۔ 
وضاحت نمبر ۳:
اس خدشے کے پیش نظر کہ اسے ایک دہشت پسند کی کَہانی نہ سمجھ لیا جائے یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہو گیا ہے کہ یہ واقعہ قدرے پرانا ہے‘ اتنا پرانا کہ ابھی آزادی اور خود مختیاری کی جدوجہد کرنے والے دہشت گرد قرار نہیں پائے تھے انہیں فلسطین میں فدائی‘ کشمیر‘ چیچنیا میں حریت پسند اور افغانستان میں مجاہدین کہاجاتا تھااور ان کی حمایت اورباقاعدہ سر پرستی ہماری قومی ترجیحات کا لازمی جزو تھا۔ 
وضاحت نمبر ۴:
ابھی دو میں سے ایک بڑی قوت یعنی روس کو ٹوٹنا تھا تاہم وہ آخری دموں پر تھاجب کہ ہمیں امداد دے کر اَپنی جنگ کو ہمارے لیے جہاد بنانے والے امریکہ نے ہمیں یقین دلایا ہوا تھا کہ پڑوسی ملک میں ہونے والی جد و جہد دراصل ہمارے اپنے ملک کی بقا کے لیے جہاد کا درجہ رَکھتی ہے۔
وضاحت نمبر ۵: 
راوی کا خاندان ایمان اور زمین دونوں سے جڑا ہوا تھا ۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد جب یہ خاندان ایک قافلے کے ساتھ یہاں آرہا تھا تو راوی کا تایا بلوائیوں کے ہاتھوں مارا گیا تھا جبکہ اس کی ایک جوان پھوپھی اٹھا لی گئی تھی ۔ اس خاندان نے اس قربانی کو اللہ کی منشا جان کر قبول کر لیا تھا۔
وضاحت نمبر ۶:
راوی خود تقسیم کے معاملے کو ایمان سے زیادہ معاشی آزادی کی جدوجہد قرار دیتا تھا۔ راوی کا باپ اَپنی زِندگی میں اپنے اس بڑے بیٹے کی ان باتوں سے بہت نالاں رہتا تھا ۔وہ اس پر بہت برہم ہوتا اور کہتا کہ اس طرح تو تقسیم میں جان قربان کرنے والے شہید کہلائے جا سکیں گے نہ اٹھا لی جانے والی عورتیں اپنے وجود کے گرد تقدس کا ہالہ بنا کر نئے ملک میں آ کر بسنے والوں کے لیے محترم ہو پائیں گی ۔ مگر باپ کے مرنے کے بعد راوی کو یوں محسوس ہوا جیسے ایمان اور زمین سے جڑنے والی ساری نسل مر مرا چکی تھی۔
وضاحت نمبر ۷: 
چوں کہ وہ شروع ہی سے اپنے خاندان سے الگ سوچتا تھا اور اپنے پورے خاندان کو سادہ فہم اور جذباتی سمجھتا تھا لہذا اس شہادت پر بھی اس کا ردعمل ایک ایسے آدمی کاتھا جو اس ساری جنگ کو ایمان اور زمین سے نہیں جوڑتا۔ وہ صرف اتنا ہی سوچ پایا تھا کہ مارا جانے والا اس کا اپنابھائی تھا ‘ وہ بھائی ‘جس سے وہ بہت محبت کرتا تھا۔
وضاحت نمبر ۸:
راوی ماں کے ساتھ بھی بہت محبت کرتا تھا اور چاہتا تھا کہ بیٹے کی لاش ماں اَپنی آنکھوں سے دیکھے۔ اگر چہ وہ اس کو ضروری نہیں سمجھتا تھا کہ اس وصیت پر عمل بھی کیا جائے جو اَپنی ہی دھن میں مگن اس کا بھائی کر گیا تھااور اگراس پر عمل کرنابہت ضروری ہے تب بھی ماں اس کی لاش کو خود جلال آباد کے لیے رخصت کر ے مگر اس کے لیے اسے اپنے قصبے جانا پڑتا جو ایک سو پچھتر کلو میٹر دوسری سمت واقع تھا۔ یوں دیا گیا وقت وہاں پہنچنے میں ہی صرف ہو جا نے کا احتمال تھا اور اسے خدشہ تھا کہ وہ انتظار کئے بغیربھائی کی لاش واپس جلال آباد لے جائیں گے۔ )
میںگاڑی جتنی تیزی سے مری کے پہاڑوں سے اتار سکتا‘ اُتار لی ۔اسلام آباد‘ترنول ‘ ٹیکسلا‘ حسن ابدال ‘اٹک کا پل‘ نوشہرہ غرض سب کو روندتا آگے بڑھتا رہا۔ مجھے خد شہ تھا کہ میرے پہنچنے سے پہلے کہیں وہ بھائی کی لاش واپس جلال آباد نہ لے جائیں ۔دو تین مَقامات پر گاڑی بے قابو ہو کر ٹکراتے ٹکراتے بچی تاہم میں کسی بھی صورت دیئے گئے وقت کے اندر اندر پہنچ جانا چاہتا تھا۔ 
اور میں واقعی اتنے کم وقت میں وہاں پہنچ گیا تھا۔
وہ میرا بے چینی سے انتظار کر رہے تھے یوں جیسے میں نے بہت دیر کر دی تھی ۔
وہ تعداد میں بہت زیادہ تھے ان سب کاعجب طرح کا سفاک استقلال میرے احساسات کی شدت کو پچھاڑ رہا تھا۔
وہ باری باری مجھ سے بغل گیر ہو رہے تھے اور مجھے بھائی کی شہادت کی مبارک باد دہے تھے 
میں بھائی کو دیکھنا چاہتا تھا اور اس کی لاش سے لپٹ کر رونا چاہتا تھا ۔زور زور سے منھ پھاڑ کر اور سینہ پیٹ پیٹ کر ۔ میرا اندر دکھ سے ابل رہا تھا مگر وہ سب بھیگی داڑھیوں والے مجھے مبارکباد دے ہے تھے اور کَہ رہے تھے کہ میں خُوِش نصیب تھا کہ میں ایک شہید کا بھائی تھا ۔
وہ ختم ہونے میں ہی نہ آتے تھے مجھے لگا میری چھاتی پھٹ گئی تھی اور آنکھیں پھوٹ گئی تھیں‘ سماعتیں بند ہو گئی تھیں اور میں ان میں سے کسی کی بانہوں میں جھول گیا تھا ۔
میں فوری طور پر اندازہ نہیں کر پایا کہ مجھے کتنی دیر بعد ہو ش آیا تھا تاہم جب ہو ش آیا تو میں نے خود کو ایک نیم تاریک کمرے میں قالین پر پڑا پایا۔ مجھے یہ جان لینے میں زیادہ دیر نہ لگی کہ میں کہاں تھا ۔ وہ کمرا گلاب کی خو شبو سے کناروں تک بھرا ہوا تھا۔ بہت جلد مجھے یہ باور ہو گیا کہ لاش کہیں پاس ہی تھی ۔ مجھے ہوش میں آتے دیکھتے ہی ان میں سے کئی ایک مجھ پر جھک گئے تھے اور یوں میں آزادی سے گردن گھماکر کمرے کا جائزہ نہ لے سکتا تھا ۔ ان میں سے ایک ‘جوکچھ زیادہ ہی گٹھے ہوے جسم کا مالک تھا‘ دوسروں کو پیچھے دھکیلتا میرے چہرے پر جھک گیا اورکہا کہ مجھے اٹھ کر وضو کر لینا چاہییے کہ پہلے نماز جنازہ ادا کی جائے گی ۔ میں ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا ۔ بے قراری سے اِدھر اُدھر دیکھا ۔ کمرا خالی تھا.... بالکل خالی بھی نہ تھا....اس میں بچھے اس ایرانی قالین پر وہ سب ننگے قدموں سے کھڑے تھے ‘ جس پر کچھ دیر پہلے میں لیٹا پڑا تھا ۔ سارے میں ایک بوجھل خُوِشبو پھیلی ہوئی تھی جو نتھنوں میں گھسے آتی تھی۔ میں نے اپنے پاس کھڑے ہونے والوں کی ٹانگوں کے بیچ سے دائیں دیوار کے پاس پڑا ایک تابوت بھی دیکھ لیا جوگلاب کی پتیوں سے لدا ہوا تھا۔
دل میری چھاتی کے شکنجے سے نکلا اور حلق کی سمت اچھلا ۔ میں تابوت کے پاس جانا چاہتا تھا اور اس کا تختہ اکھیڑ کر اندر پڑی لاش کی چھاتی سے لگ جانا چاہتا تھا مگر ان .... 
( نوٹ: یہاں پہنچ کر راوی نفرت یا پھر غصے کے سبب خاموش ہوجاتا ہے لہذا کچھ اندازے لگانا پڑتے ہیں :
اندازہ نمبر ۱ :
کَہانی کے اس مرحلے پرراوی کی عقل ماری گئی ہوگی تب ہی تو اس نے بے قابو ہوکر گالی بک دینا چاہی تاہم وہ تہذیب یافتہ شخص تھا لہذا کسی اور احساس یا پھر اَپنی آپ کو ناحق برہم پاتے پا کر ندامت سے دوچار ہوااور گالی کو ہونٹوں میں دبالیا ہوگا ۔
اندازہ نمبر ۲ :
راوی نے یہ نہیں بتایا کہ ان سب کی داڑھیاں کیوں گیلی تھیں لیکن اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس کا سبب ان کی آنسو نہیں ہو سکتے تھے ۔ وہ سب یقینا وضو کرکے اس کا انتظار کررہے ہوں گے۔ انہیں بارڈر پار جانا تھا وہ روشنی میں سرحد پار کرنا چاہتے تھے اس کے پہنچنے اور جنازے میں شامل ہونے کے بعد ہی لاش کو واپس لے جایا جا سکتا تھا مگر راوی اتنے کمزور ایمان اور بودے دل والا نکلا کہ اس عظیم وقوعے کو صبرواستقامت سے برداشت کرنے اور وقار سے اپنے شہید بھائی کو رخصت کرنے کی بہ جائے بے ہوش ہو گیا تھا۔
اندازہ نمبر۳ :
وہ غالبا روشنی میں اس لیے سرحد تک پہنچ جانا چاہتے تھے کہ ادھر سے انہیں پوری محافظت دینے والوں کا یہی حکم ہوگا۔ جب کہ رات کو کچھ اور خطروں کے جاگ اٹھنے کا احتمال بھی ہوگا۔
اندازہ نمبر۴: 
ہو ش میں آنے کے بعد بھی انہیں اسے وضو کرنے اور جنازہ پڑھنے تک شہید کی لاش سے قدرے فاصلے پر رکھنے میں بہت دِقت کا سامنا کرنا پڑا ہوگا۔
ان اندازوں کے بعد کَہانی راوی کے بیان سے جڑ جاتی ہے۔ ) 

خدا خدا کرکے نماز جنازہ ہوچکی تو میں بھاگ کر تابوت تک پہنچا میں اتنی تیزی سے تابوت کی طرف لپکا تھا کہ اوپر کا تختہ الٹنے تک وہ مجھ تک نہ پہنچ پائے تھے ۔
تختہ الٹ دینے کے بعد وہاں کوئی بھی نہیں تھا ۔ 
وہ سب جو مجھے قدم قدم پر روک رہے تھے‘ وہ بھی نہیں ۔
میں جو تابوت پر جھکا ہوا تھا ‘میں بھی نہیں۔
وہ لاش جسے تابوت میں ہونا چاہیے تھا حتی کہ وہ بھی نہیں۔
میں نے کفن کی اس جانب کو ٹٹولا جہاں سر ہونا چاہیے تھا ....وہاں سر نہیں تھا۔ میں نے کفن الٹ دیا وہاں سرخ سرخ بوٹیوں کا ڈھیر پڑا تھا ۔ میں نے وہاں ہاتھ سرکایا جہاں کندھے ہوتے ہیں وہاں کندھے بھی نہ تھے چھاتی بھی گوشت کا ڈھیر تھی خُون کی پھٹکیوں اور مہک میں بسا ہوا گوشت کا ڈھیر ۔
مجھے گمان گزرا ایک لمحے کے لیے کہ وہ میرے بھائی لاشہ نہیں تھا اس سے پہلے کہ میں انہیں جھوٹا کَہ کر ان پر چڑھ دوڑتا میری انگلیاں ایک جگہ سلامت جلد کا لمس پاکر رک گئیں۔ میں نے وہاں سے کفن الٹ ڈالا لہو میں ڈوبا بازو میرے سامنے تھا ۔ میںنے پہچان لیا وہ سب جھوٹے نہیں تھے ‘یہ بازو میرے بھائی ہی کا تھا۔ اس کی دو انگلیاں اندر کو مڑی ہوئی انگوٹھے کو چھو رہی تھیںجبکہ دوسری دو اوپر کو اٹھی ہوئی تھیں ‘ جیسے کوئی تتلی اڑان بھر رہی ہو۔ میں نے بازو کو وارفتگی میں اٹھا کر بو سہ دینا چاہا تو وہ کہنی سے کٹا بازو میرے ہاتھوں میں جھولنے لگا یوں کہ میں بو سہ دینا بھول گیا اور ڈھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔وہ مجھے سنبھال رہے تھے اورمیں روتے روتے ایک بار پھر بے ہوش ہو گیا تھا ۔ 
( نوٹ : راوی یہاں پہنچ کر چپ ہو جاتا ہے اور کچھ وقفے کے بعد کَہانی سے بر گشتہ باتیں کرنے لگتا ہے یوں‘ جیسے وہ سننے والوں کو نظر انداز کرکے خود سے کلام کر رہا ہو ۔ یہ وہ باتیں ہیں جنہیں کَہانی سے جوڑنے میں مجھے دِقت ہو رہی ہے لہذا قوسین کے بعد اس نوٹ کی ذیل میں ان کو صرف اشاروں کی صورت دے رہا ہوں تاکہ راوی کی ذہنی کیفیت کا دُرُست دُرُست اندازہ لگایاجا سکے ۔ 

پہلی بر گشتہ بات کا اشارہ : 
راوی نے مٹھیاں بھینچیں اور کہا اب سارے بھیگی داڑھیوں والے اور خود کو ملت واحد کہنے والے بھیگی بلیاں بنے ہوے ہیں ۔

دوسری بر گشتہ بات کا اشارہ :
اب کون ہے جو اس زمین پر ٹکنا چاہتا ہے ۔ ایسی زمین پر جہاں قربانی حماقت ہو گئی ہے ‘ نیکی بے وقوفی اور ایمان سے وابستگی تنگ نظری ۔ ایسا کہتے ہوے راوی کے ہونٹوں سے سسکی نکلی تھی (جب راوی کی سسکی نکلی تو میرا گمان ہے کہ راوی نے اپنے اس تایا کو یاد کیاہوگا جو ہجرت کرتے ہوے مارا گیا تھا اور اس پھوپھی کی بابت بھی سوچا ہوگا جو اٹھالی گئی تھی۔)

تیسری بر گشتہ بات کا اشارہ : 
راوی نے ایک پرانا اخبار جیب سے نکالا تھا جس میں اس ہیرو کی تصویر چھپی ہوئی تھی جو اب ہیرو نہیں رہا تھا اور قہقہہ لگاتے ہوے الفاظ چبا چبا کر کہا تھا وہ جس کی ہم جوتیاں چاٹتے ہیں وہ جب چاہتا ہے ہمارے ہاتھوں سے ہمارے ہیرو کو زیرو بناتا ہے جب چاہتا زیرو کو ہیرو بنوالیتا ہے ۔ہم اپنے پیاروں کو خود رسوا کرتے ہیں اور اپنے غداروں کو خود کندھا دیتے ہیں۔ اس کے بعد راوی کئی روز کے لیے خاموش ہو جاتا ہے ۔اس کی خاموشی بھی کَہانی سے برگشتہ باتوں پر عین محرم کی دسویں کو ٹوٹی تھی۔ 

چوتھی برگشتہ بات کا اشارہ: 
راوی یہ بات بتاتے ہوے خود رونے لگا تھا کہ ماں اب مصعب کو یاد کرکر کے روتی تھی اور زور زور سے بین کرتے ہوے انہیں بھی یاد کرتی تھی جن سے کوفے والوں نے غداری کی تھی اورجنہیں کربلا میں شہید ہونا پڑا تھا ۔ وہ ان مقدس ہستیوں کو روتے روتے تقسیم کے دوران اپنے بچھڑے ہوے پیاروں کو یاد کرنے لگتی تھی اور وہ سارے آنسو بہا دینا چاہتی تھی جو بیٹے کی شہادت کی خبر سن کر اس نے روک لیے تھے)
۔۔۔۔۔
( پیارے انور ایک نوٹ تمہارے لیے :یہاں موت کی کَہانی ختم ہونے کے قریب ہے ۔ وہ کَہانی جو تم لکھوانا چاہتے تھے اس کَہانی کے اندر ہی کہیں تحلیل ہوگئی ہے اب چاہے کوئی ماں کی کوکھ سے جنم لیتے لیتے سانسیں توڑ بیٹھے ‘ اپنے بستر پر طویل عمر پاکر بے بسی کی موت مرے‘ سڑک پر چلتے چلتے کسی ٹرک تلے کچلا جائے یا کسی اعلی آدرش کے لیے جان دے دے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ بعد میں سب موتوںکے معنی بدل جانے ہوتے ہیں ۔ اب تو کَہانیوں کاوہ متن بھی بے وفا ہو گیا ہے ‘جسے تم نے یا میں نے لکھا ہوتا ہے کہ پڑھنے والا اس پر زیادہ استحاق رکھنے لگا ہے۔ بالکل اسی طرح‘جس طرح ہم جس کے تصرف میںہیں ‘ اکیلے اکیلے یا ایک گلے کی صورت میں‘وہ جس طرف چاہتا ہے ہماری زِندگیوں کو ہانک لے جاتا ہے اور جب چاہتا ہے ہماری شہادتوں کو تہمت بنادیتا ہے ۔ لو میں بھی بہک گیا ہوں راوی اِدھر ہی کو آرہا ہے لہذا میں اَپنی بات موقوف کرتا ہوں راوی کے آخری جملے سن لو کہ کَہانی تکمیل کو پہنچے )
۔۔۔۔۔ 
ماں اس وقت بالکل نہ روئی تھی جب میں گھر پہنچا تھا ‘ ہاں ماسی جو پاس ہی بیٹھی تھی ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا اٹھا کر بین کرنے لگی تھی ۔ ماں نے ماسی کے اٹھے ہوے ہاتھ جھٹک کر گرا دیئے اور اسے رونے سے منع کر تے ہوے کہا تھا کہ شہیدوں پر رویا نہیں کرتے ۔ میں ماں کے حوصلے پر دنگ اور اس کی سادگی پر برہم تھا....لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ تب ایمان کے معاملے میں وہ اندر سے اتنی مضبوط تھی کہ میں اندر سے کافر ہوتے ہوے بھی اسے ٹوک نہ پاتا تھا ....مگر یہ تو تب کی بات ہے جب ایمان اور زمین کی کوئی وقعت تھی اب تو ماں روتی ہے اور رلاتی بھی ہے ۔ اتنا زیادہ ‘اور اتنے تسلسل سے ‘کہ میں بھی رونے لگتا ہوں اور بچھڑے ہوﺅں کو یاد کر نے بیٹھ جاتا ہوں۔ میں بچھڑے ہوﺅں کواتنا یاد کرتا ہوں کہ اندر کا کافردل پسیج کرایمان اورزمین سے وابستہ ان جذبوں کو اپنے ہی اندر سے ڈھونڈنکالتا ہے‘ جو وہاں کبھی تھے ہی نہیں ۔