Showing posts with label Abdul Bari Aasi. Show all posts
Showing posts with label Abdul Bari Aasi. Show all posts

Hazaron tarha apna dard hum isko sunate hein

ہزاروں طرح اپنا درد ہم اس کو سناتے ہیں
مگر تصویر کو ہر حال میں تصویر پاتے ہیں

بجھا دے اے ہوائے تند مدفن کے چراغوں کو
سیہ بختی میں یہ اک بد نما دھبا لگاتے ہیں

مرتب کر گیا اک عشق کا قانون دنیا میں
وہ دیوانے ہیں جو مجنوں کو دیوانہ بتاتے ہیں

اسی محفل سے میں روتا ہوا آیا ہوں اے آسی
اشاروں میں جہاں لاکھوں مقدر بدلے جاتے ہیں

Rang-e-nishat dekh kar magar mutmaeen na ho

٭رنگ نشاط دیکھ کر مگر مطمئن نہ ہو
شاید کہ یہ بھی ہو کوئی صورت ملال کی

گلشن بہار پر ہے ہنسو اے گلو ہنسو
جب تک خبر نہ ہو تمہیں اپنے مآل کی

احساس اب نہیں ہے مگر اتنا یاد ہے
شکلیں جُدا جُدای تھیں عروج و زوال کی
٭

Rafta rafta yeh zamane ka sitam hota hai

رفتہ رفتہ یہ زمانے کا ستم ہوتا ہے
ایک دن روز مری عمر کا کم ہوتا ہے

باغ روتا ہے اسیرانِ قفس کو شاید
دامن سبزہ و گل صبح کو نم ہوتا ہے

ہاتھ رکھے ہے دم نزع جر پر کوئی
اب نہ بڑھتا ہے مرا درد نہ کمہوتا ہے

Hashar kya hai wohi iqrar khudai karna

 حشر کیا ہے وہی اقرار خدائی کرنا
اک نئے بھیس میں پھر روز الست آتا ہے

کتنی پر تو طلب حسن ازل ہے دنیا
اس میں جو آتا ہے آئینہ بدست آتا ہے

نامرادی نے مٹایا مری ہمت کا غرور
جو خیال آتا ہے اب دل میں وہ پست آتا ہے

yeh janta hoon keh khak aashian nahin hoti

یہ جانتا ہوں کہ خاک آشیاں نہیں ہوتی
مگر جلے ہوئے تنکو کو چن رہا ہوں میں

مٹا کے صفحہ ہستی سے اپنا نام و نشاں
زمانے بھر میں ترا نام لکھ چکا ہوں میں

ٹھہر گیا اسی مرکز پہ انقلاب آسی
شکست دل کی صدا بن کے رہ گیا ہوں میں