woh peesh rubaru hai magar rasta nahi deta



وہ پیش رو ہے مگر راستا نہیں دیتا
بزرگ ہو کے بھی دیکھو دعا نہیں دیتا

مجھے یہ کیسا سمندر صدائیں دیتا ہے
جو مجھ کو ڈوبنے کا حوصلہ نہیں دیتا

کسی کسی کو تھماتا ہے چابیاں گھر کی
خدا ہر ایک کو اپنا پتا نہیں دیتا

وہ میرے پھول مری تتلیاں کہاں دے گا
جو ننگی شاخ کو پتہ ہرا نہیں دیتا

وہ اپنا روپ مجھ کس طرح عطا کردے
کہ جب تلک میری صورت مٹا نہیں دیتا

جدید کپڑے اُسے کیا جوانیاں دیں گے
جو بوڑھی سوچ کو چہرہ نیانہیں دیتا

مکان کاسۂ غربت میں ہو گئے تبدیل
دروں پر اب کوئی سائل صدا نہیں دیتا

میان میں کہاں رکھے گا تیغ وہ جب تک
زمیں کو خون کا دریا بنا نہیں دیتا

دکھائی دے گا ہمیں کیسے اشک عید کا چاند
ہماری آنکھوں کو جب تک بجھا نہیں دیتا