Hawaon ke tevar badalty rahein gay


ہوائوں کے تیور بدلتے رہیں گے
چراغ اُن کی یادوں کے جلتے رہیں گے

تغیّر کے خواہاں ہیں جو اہل دانش وہی دیکھ لینا 
نئی تاب و تب دے کے دنیائے فن کو بدلتے رہیں گے

ظفر یاب ہوں گے وہ اک دن
جو کانٹوں پہ چلتے رہیں گے

وہی قابلِ فخر کہلائیں گے اس جہاں میں
جو دشوار راہوں میں گر کرسنبھلتے رہیں گے

نشیمن وہ محفوظ ہوگا جو اب بجلیوں سے سجے گا
مگر پھوس کے گھر ہمیشہ جلے اور جلتے رہیں گے

حنیفؔ اپنا ذوق تجسس سلامت رہا تو
فن و فکر اور رستے نکلتے رہیں گے