Narazgi bharay yeh sawal choriye


 ناراضگی بھرے یہ سوالات چھوڑئیے
 یا مجھ سے بد گماں ہیں تو پھر بات چھوڑئے
دکھائیں جو دل مرا
 وہ عادات چھوڑئیے
 آج کل کی خرافات کم نہیں
 آپ لکھنا مقالات چھوڑئیے
بیساکھیوں کے ساتھ کہاں تک چلیں گے آپ
 منزل ہے میری دور مرا ہات چھوڑئیے
 نہیں دیتے جو ثمر
 وہ باغات چھوڑئیے
 کوشش کے باوجود نہ جب مسئلے ہوں حل
 تو وقت ہی کے ہاتھ میں حالات چھوڑ ئیے
 ہر شعرمیں ضرور اک بات چھوڑ ئیے
 حیرانیوں کا نام نہیں شاعری حنیف
 جو منتشر کریں وہ خیالات چھوڑئیے