Tu kis ke liye maghmom hai



تو کس لئے مغموم ہے
منزل مجھے معلوم ہے
جو کچھ لکھا ہے آج تک اس کی جہاں میں دھوم ہے
ہر قصۂ دنیا مرا، اک منظرِ منظوم ہے
مٹی میں ملنا ہے تو پھر
کیوں آدمی مغموم ہے
کمزور ملکوں کے لئے جو ایک خطرہ بن گیا
اس حکم نامے کے سبب دنیا بہت مغموم ہے
اپنی اَنا کو بیچ کر
حاکم خود اک محکوم ہے
جس پر فدا کون و مکاں
مومن ہے وہ معصوم ہے