Jo bhok se larty raein woh shad kya abad kia


جو بھوک سے لڑتے رہیں وہ شاد کیا آباد کیا
ان کے لئے اس دہر میں ہے داد کیا فریاد کیا
کہتی ہیں میری فکر کی نا داریاں 
ان کے بنا ہو زندگی اب شاد کیا
معتوب دنیا میں ہوئے
فرعون کیا شداد کیا
دنیا مری تخلیق کی بے مثل ہے
اپنے شعورِ فن سے لوں میں داد کیا
جو دائروں میں بند ہیں ان سے یہ کہہ دو حنیف
ہے شاعری بس شاعری ، پابند کیا آزاد کیا