Roti hoi aankhon ki rawani mein maray hein


روتی ہوئی آنکھوں کی روانی میں مرے ہیں
کچھ خواب میرے عین جوانی میں مرے ہیں

روتا ہوں میں ان لفظوں کی قبروں پہ کئی بار
جو لفظ میری شعلہ بیانی میں مرے ہیں

کچھ تجھ سے یہ دوری بھی مجھے مار گئی ہے
کچھ جذبے میرے نقل مکانی میں مرے ہیں

اس عشق نے آخر ہمیں برباد کیا ہے
ہم لوگ اسی کھولتے پانی میں مرے ہیں

کچھ حد سے زیادہ تھا ہمیں شوق محبت
اور ہم ہی محبت کی گرانی میں مرے ہیں

قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اتارو
ہم لوگ محبت کی کہانی ہیں مرے ہیں