Bicharnay per mujhe uksa rahi hai


بچھڑنے پر مجھے اکسا رہی ہے
وہ اب کتنا بدلتی جا رہی ہے

کسی کی یا د میری چشم تر کو
مسلسل رتجگے پہنا رہی ہے

سنبھالوں کیسے اس ریشم بدن کو
وہ ہاتھوں سے پھسلتی جا رہی ہے

محبت میں خسارے کر رہا ہوں
مجھے تاریخ پھر دہرا رہی ہے

میری تصویر اس کے سامنے ہے
وہ لڑکی کس قدر شرما رہی ہے

ہوائے سرد دل کے ساحلوں پر
محبت کے ترانے گا رہی ہے

بچایا تھا جسے مشکل سے میں نے
وہی تصویر اب دھندلا رہی ہے