Roshni dety gumanon ki tarah hota hai


روشنی دیتے گمانوں کی طرح ہوتا ہے
حسن بھی آئینہ خانوں کی طرح ہوتا ہے

ہجر وہ موسمِ ویرانیِ دل ہے جس میں
آدمی اجڑے مکانوں کی طرح ہوتا ہے

مات ہو سکتی ہے چالوں میں کسی بھی لمحے
عشق شطرنج کے خانوں کی طرح ہوتا ہے

وہ جو آتا ہے تیری یاد کے رخسار تلک
اشک تسبیح کے دانوں کی طرح ہوتا ہے

تجھ کو ہاتھوں سے گنوایا تو یہ محسوس ہوا
پیار بھی جھوٹے فسانوں کی طرح ہوتا ہے

بعض اوقات محبت کے دنوں میں اعجازؔ
ایک لمحہ بھی زمانوں کی طرح ہوتا ہے