Koi hijar mere visaal se hai bindha hua

کوئی ہجر میرے وصال سے ہے بندھا ہوا
کہ یہ سلسلہ مہ و سال سے ہے بندھا ہوا

تیرا کل بھی ہو گا میری وفاؤں کی قید میں
تیرا ماضی بھی ہے میرے حال سے ہے بندھا ہوا

میری جیت بھی کسی ہار سے ہے جڑی ہوئی
سو عرو ج میر ا زوال سے ہے بندھا ہوا

تیرے خد و خال کی نزاکتوں سے خبر ہوئی
کہ تو آپ اپنی مثال سے ہے بندھا ہوا

میرا دل بھی ہے تیری چاہتوں کے حصار میں
میرا عشق بھی تیری شال سے ہے بندھا ہوا

وہ غرو ر کرتی ہے کتنا اپنے جمال پر
کہ شکاری اپنے ہی جال سے ہے بندھا ہوا

مجھے بے سبب تو پکارتی نہیں نیند میں
تیرا خواب میرے خیال سے ہے بندھا ہوا
۔