Adhoory Loog


کشادہ مگر خوبصورتی سے سجا کمرا گہرے اندھکشادہ مگر خوبصورتی سے سجا کمرا گہرے اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ۔ وہ  ٹھنڈے 
فرش پر گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹے دروازے سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔شدت گریہ سے پورا چہرہ سرخ ہوگیا تھا۔پپوٹے بے تحاشہ سوج گئے تھے مگر آنکھیں اب بھی مسلسل بہہ رہی تھی۔ کچھ دیر پہلے ہی اسکے بہت اپنوں کی کی گئی زہریلی باتیں اب بڑے بڑے اژدھے بنکر اسکے نازک اور کمزور وجود کے گرد لپٹ کر اسکی ہڈیاں توڑ رہے تھے۔ یہ ٹوٹنے کا عمل کئی گھنٹوں سے جاری تھامگر پھر بھی روح اسکے جسم سے آزاد نہ ہوئی تھی۔وجود کے کسی کونے میں چھپی 
بیٹھی تھی۔
جب کہ وہ خود سوچوں کے گرداب میں بری طرح پھنسی تھی، چند گھنٹے پہلے کی ہی بات ہے جب سیاہ آسمان کے دامن پر روشنی کی پہلی لکیر نے قدم دھرے تو انہی لمحوں میں وہ تخلیق کے پر اذیت مرحلے سے گزرنے کے بعد ننھے فرشتے کو 
جنم دیکر سکون کا سانس بھی خارج نہ کر پائی تھی کہ دل دہلانے والے انکشاف نے اس کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی۔



ی آمد نے تو جیسے تہلکہ مچادیاتھا۔ قیامت سے پہلے قیامت برپا کرنے والا اپنی ننھی آ نکھیں کھولنے کی کوشش میں مگن تھا۔

اسے تو خبر بھی نہیں تھی کہ اس نے کن طوفانوں کو گھر کا راستہ دکھلادیا ہے۔

وہ عورت جسے کچھ دیر قبل ہی پہلی بارماں بننے کا درجہ ملا تھا جسکے قدموں تلے جنت بچھا دی گئی تھی وہ یوں رورہی تھی جیسے کوئی ماتم ہوگیا ہو۔ اسکی آہ وزاریوں اور آنسوؤں میں سب کچھ لٹ جانے کا درد تھا۔وہ اسے چومتی جا رہی تھی اور روتی جا رہی تھی ۔

اسے معلوم تھا کہ اب کیا ہوگا۔ اسکا شوہر اور اسکے سسرال والے کیا فیصلہ کریں گے وہ جانتی تھی کہ انکا ظرف اتنا بلند ہرگز نھیں کہ وہ ادھورے بچے کو اپنائیں۔۔ مگر وہ بھی فیصلہ کر چکی تھی کہ کسی صورت بھی وہ اپنے بچے کو خواجہ سراوؤں کے حوالے نہیں کرنے دے گی۔

اگر حمزہ مجھے طلاق بھی دے دیں تب بھی میں اس بچے کو خود سے الگ نہیں کرونگی۔صوفیہ نے دل میں پختہ ارادہ کرلیا تھا۔اس کے نزدیک آخری حد طلاق ہی تھی اور وہ اس کے لئے خود کو ذہنی طور پر تیار بھی کرچکی تھی۔ اسکی آنکھیں دروازے پر لگی تھیں ۔ اسکی ساس ،سسر،نند،دیور ،اسکی دیورانی جو اسکی بہن بھی تھی اور اسکا شوہر سب آگے پیچھے کمرے میں داخل ہوئے تھے۔ اس نے خوفزدہ ہو کر بچے کے گرد اپنی گرفت مزید مضبوط کرلی۔ اسکی آنکھوں میں حراس پھیلا ہوا تھا۔

آپ سب لوگ یہاں سے چلے جائیں میں اپنا بچہ کسی کے حوالے نہیں کرونگی ۔کسی کے کچھ بولنے سے پہلے ہی وہ چیخ اٹھی۔ ایسی عورت جو کچھ وقت پہلے ہی تخلیق کے کڑے مرحلے سے گزری تھی اس لمحے زرا بھی کمزور محسوس نہ ہوئی۔سب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔سب سے پہلے اسکی بہن اسکے قریب آئی ۔

دیکھئے آپا یہ صدمہ صرف آپ کے لئے ہی نہیں ہمارے لئے بھی بہت گہرا ہے، ہم سب جانتے ہیں کہ بچے کو خود سے الگ کرنا دنیا کا مشکل ترین اور اذیت بھرا عمل ہے مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسکی آواز بھرا گئی اور وہ اپنا جملہ بھی مکمل نہ کرسکی۔

دفع ہو جاؤ میری نظروں سے تمھیں کیا لگتا ہے کے تمہاری اس تقریر کا مجھ پے کوئی اثر ہوجائیگا؟ ہرگز نہیں تم سب چاہے جتنے بھی حربے استعمال کرلو میں اپنا بچہ نہیں دونگی۔ وہ ضدی اور غصیلے لہجے میں بولی۔

تو پھر ٹھیک ہے اس ہجٹرے کو تم اپنے سینے سے لگا کر رکھو مگر طلاق کے بعد۔ تم سے ایک مکمل بچہ بھی پیدا نھیں کیا گیا۔اور خود کو عورت کہتی ہو لعنت ہے تم پر۔ اسکی کم عمر نند نے بھی اپنا حصہ ڈالنا ضروری سمجھا۔

ہاں چلی جاؤ گی میں۔وہ بستر سے اٹھنے کی کوشش کرنے لگی

؂کہاں جاوگی۔اپنے ماں باپ کے گھر ؟ ا ن سے پہلے ہی ہماری بات ہوچکی ہے۔ وہ ہمارے اس فیصلے میں ہمارے ساتھ ہیں۔ اوراگر تم گھر چھوڑتی ہو تو وہ بھی تمھیں قبول نہیں کریں گے۔ ساس کی بات سن کر ساتوں آسمان جیسے اس کے سر پر گرے تھے۔ وہ بری طرح چکرا کر رہ گئی۔

ہاں آپی،اماں ابا کا بھی یہی فئصلہ ہے کہ اس مصیبت سے جلد از جلد چھٹکارا پا لیا جائے۔ اگر محلے میں کسی کو خبر ہو گئی کہ صوفیہ کا بچہ۔۔۔ کسقدر بے عزتی ہوگی اففف۔ جو بھی کرنا ہے آج ہی کرنا ہے۔ اسکی ماں جائی بھی ا سکے غم میں شریک نہ ہوئی۔ کتنی تیزی سے سب نے مشترکہ فیصلہ کر کہ اس معصوم کی زندگی کو برزخ میں دھکیلنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔کتنے ہی لمحے وہ ششدر سی اسے دیکھتی رہی۔اورپھر جب بولی تو اسکے لہجے میں چٹانوں کی سی سختی تھی،

مجھے کسی کا سہارا نھیں چاہئے ۔ خدا کی زمین بہت بڑی ہے میں کہیں بھی چلی جاؤں گی، اسکی تربیت کر کہ اسے حلال رزق کمانے کے قابل بنا سکتی ھوں ۔ مجھ میں اتنی ہمت ہر گز نھیں کہ اپنی پیدا کردہ اولاد کو خود اپنے ہاتھوں اس حال میں پہنچاؤں کہ وہ اپنا پیٹ پالنے کہ لیے زنانہ لباس پہن کر ، میک اپ سے لتھڑاچہرہ لے کر دردر جائے اور بھیک مانگے ، روٹی کے حصول کہ لئے جسم فروشی کا کام کرے۔

حمزہ اگر مجھے طلاق دینا چاہتے ہیں تو وہ یہ بھی کر کے دیکھ لیں ۔ مین کسی دھمکی سے ڈرنے والی نہیں۔ آخر میں اسکی نگاہیں حمزہ کے چہرے پر ٹہر گئیں۔جواسکے آخری جملے پر ٓاگ بگولہ ہو گیا۔

تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں اتمہیں اتنی آسانی سے طلاق دیدونگا؟؟ اپنی اور اپنے خاندان کی بے عزتی کروانے کے لئے آزاد چھوڑ دوں گا؟؟ ہر گز نہیں ۔ میں تمہیں آزاد چھوڑ دوں تاکہ تم اس ہیجڑے کی پرورش کر کہ ایک مہان عورت کا روپ دھار لو اور لوگوں سے ہمدریاں وصولتی پھرو۔ لوگ تمھیں پوجنے لگیں کہ تم نے اس نامکمل بچے کی خاطراپنا بسا بسایا گھر چھوڑ دیا؟؟ اب وہ اس پر نفساتی دباؤ ڈال رہا تھا۔ وہ حق دق رہ گئی۔

تم اسی گھر میں رہو گی میری بیوی بن کر۔اور اس منحوس کا بندوبست بھی ہوجائے گا کچھ ہی دیر میں ۔ تمہارے پاس صرف ایک گھنٹہ ہے۔ اس سے جتنا پیار کرنا ہے کرلو۔ آج کے بعد بھول جانا کہ تم نے کسی کو جنم دیا تھا۔ وہ سفاکی کی انتہاؤں کو پار کر گیا۔ صوفیہ کے کانوں میں جیسے کسی نے پگھلا ہوا سیسہ انڈیل دیا تھا۔ حمزہ نے تو اسے ایک بند گلی میں لاکھڑا کیا تھا۔اسکی خالی التجا آمیز نگاہیں اپنے شریک حیات کے چہرے سے لپٹ گئیں۔ مگر اسے کوئی فرق نہ پڑا۔ سب ایک ایک کر کے کمرے سے نکل گئے۔

حمزہ۔ اس نے پھر سے اسے پکارا ۔ حمزہ نفی میں سر ہلاتا کمرے سے باہر جانے لگا۔

حمزہ ۔ تم تو اس بچے کے باپ ہو۔ تم ہی۔۔۔ بات درمیاں میں ہی رہ گئی حمزہ نے اچانک ہی اپناآخری قدم بھی کمرے سے باہر نکال کر دروازے کو ایک جھٹکے سے بند کردیا۔کمرے کا دروازہ بند ہونے پر اسے ہوش ٓایا تھا۔ اپنی تمام ہمت مجتمع کرکے وہ بستر سے اٹھی اور لڑکھڑاتے ہوئے وہ دروازے تک آئی ۔ یہ احساس ہی روح فرساں تھا کہ اسے قید کردیا گیا ہے۔کیا اب و ہ اپنے بچے کہلئے کچھ کر پائیگی؟؟ایک بڑا سوالیہ نشان آنکھوں کے سامنے ناچنے لگا۔۔

مت کرواتنا ظلم میرے بچے کو جانے دو۔۔۔ تمہیں خدا کا واسطہ ہے رحم کرو۔۔۔۔

میں مر جاؤں گی اسکے بغیر۔۔۔۔

اسے برباد مت کرو۔۔۔۔

وہ زورزور سے چلا کر کہ رہی تھی ۔اسکی ٓاہ و زاریاں دیواروں سے ٹکرا کراپنآ اپ بے مول کر چکی تھیں۔وہ زور زور سے دروازہ پیٹنے لگی۔ اسکے کمزور ہاتھوں میں بے پناہ طاقت آگئی تھی۔ بہت دیر تک وہ اپنے ٹوٹے وجود کو جوڑ کر احتجاج کرتی رہی۔ پھر وہ کسی کانچ کی طرح ٹوٹ کر فرش پر بکھرتی چلی گئی۔ ساری توانائی نچڑ کر رہ گئی تھی۔ وہ وہیں بیٹھ کر زار زار رونے لگی۔

اے اللہ میری مدد کر ۔۔۔۔ اس نے آنکھیں بند کر کے اپنے تخلیق کار کو شدت سے پکارا تھا۔ میرے بچے کو اس ظالم دنیا سے بچالے۔ وہ ہولے ہولے بڑبڑانے لگی۔ بہت سی کہانیاں اسکے دماغ میں جھکڑوں کی مانند چل رہی تھیں ۔

کل کو میرا بچہ بھی ایسے ہی کسی گھٹیہ کردار کے ساتھ ذلت بھری زندگی گذار ے گا۔ وہ مستقبل کی اذیتوں کو اپنی انگلیوں کی پوروں میں اترتے محسوس کر رہی تھی۔ اپنے بچے کی رونے کی ٓاواز سن کر وہ حال میں لوٹی۔ اپنی جگہ سے بمشکل اٹھ کر اس نے بند دروازے کی چٹخنی چڑھائی۔ اس ذرا سے فاصلے کو طے کرنے میں ہی ہزاروں برس کی تھکن سے اسکا وجود ٓاشنا ہوا تھا۔

صوفیہ نے بچے کو اپنی گود میں بھرا اور اسے دیکھنے لگی۔ اسکی نگاہوں میں محبت کی گہرائی سات سمندر وں جیسی تھی۔اسکے وجود کا معصوم اور پاک حصہ اس سے الگ ہو کر بے یارومددگار ہوگیا تھا۔ وہ اسے تڑپتی نگاہوں سے دیکھتی رہی۔ ٓانکھیں تھیں کہ اسکے دیدار سے سیراب نہ ہوتی تھیں ۔ کب وقت گزر گیا اسے خبر بھی نا ہوئی۔وہ تو بس اس معصوم کے چہرے کے ایک ایک نقش پر اپنی محبت کی مہر ثبت کر رہی تھی۔کوئی اسے دیکھ لیتا تو پاگل سمجھتا۔ دروازے کے پار قدموں کی چاپ ابھری۔ چاپ سن کر وہ سہمی ہرنی کی طرح چوکنا ہو گئی۔

صوفیہ دروازہ کھولو۔ بہت دیر تک دروازہ بجانے کے بعد بھی جب کوئی جواب نہ ملا تو حمزہ دھاڑ کر بولا۔

میں دروازہ نہیں کھولوں گی۔ وہ روتے ہوئے بولی ۔اور بچے کو اور زور سے خود میں بھینچ لیا۔دروازہ دھڑدھڑانے اور دھمکیوں سے بھرے جملے کسی پتھر کی طرح اسکی سماعتوں پر برس رہے تھے۔

میں کیا کروں میرے مالک۔ مجھے کوئی راستہ دکھا میری مدد فرما۔ بچہ اسکی پرزور گرفت میں مچل رہا تھا۔ اسکے مچلنے کااسے احساس ھی نھیں ہوا جبکہ وہ خود خوفزدہ نگاہوں سے دروازے کو دیکھ رہی تھی۔

دروازے پر جیسے مکوں کی بارش ہوگئی تھی۔ لگتا تھا کسی بھی آن دروازہ ٹوٹ کر نیچے گر جایے گا اور یہی ہوا۔ دو مردوں کی طاقت سے دروازہ ٹوٹ گیا تھا ۔ انہیں اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر صوفیہ بجلی کی سی تیزی سے اٹھی تھی۔

صوفیہ اس تماشے کا کوئی فائیدہ نہیں ۔ بچہ میرے حوالے کردو۔ حمزہ ٓاہستگی سے اسکے قریب ٓاتے ہوئے بولا وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے پیچھے ہوتی گئی۔ بچے کو اب بھی اس نے خود میں بھینچ رکھا تھا۔ حمزہ کے بڑھتے قدم اسکی سانسیں روک رہے تھے۔ وہ زور زور سے چیخنے لگی

میں اسے کسی صورت تمھارے حوالے نہیں کروں گی ۔ چاہے کچھ بھی ہو جائے ۔ حمزہ اسکے سرپر پہنچ گیا ۔ اور بچہ چھیننے لگا ۔

صوفیہ نے اپنی پوری طاقت لگا کر اسے دھکا دیا اور بھاگنے کی کوشش کرنے لگی مگر حمزہ نے اسکا بازوپکڑ کر اسے اپنی جانب جیسے ہی کھنچا تو بچہ صوفیہ کے ہاتھ سے پھسل کرپلک جھپکتے فرش پر گر گیا۔ صوفیہ کے حلق سے بیساختہ چیخ بلند ہوئی تھی۔حمزہ بھی لمحے بھر کے لئے ٹھٹھک گیا۔

دونوں تیزی سے بچے کے پآس آئے تھے۔

حمزہ حیرت سے ششدر رہ گیا تھا۔ بچہ فرش پر گرا تھا مگر اسکے حلق سے ایک آواز بھی نہ نکلی ۔ اس نے ایک نگاہ ساکت کھڑی صوفیہ پر ڈالی جو کسی انہونی کے ہو جانے کے خوف سے ایک قدم بھی آگے نہ بڑھا پائی۔ اسنے بے حس پڑے بچے کو گود میں بھرا۔

بچہ فرش پر گرنے سے پہلے کا مرچکا ہے۔ اسکی حیرت میں ڈوبی ٓاواز صوفیہ کے کانوں میں اتری تھی۔بچہ دم گھٹنے سے مرا تھا۔اس بات کا احساس ہوتے ہی وہ بیجا ن ہوتے وجود کے ساتھ فرش پر بیٹھتی چلی گئی۔اسکے بہتے ٓانسوں تھم گئے تھے۔خدا نے اسکے بچے کو اس ظالم دنیا سے بچا لیا تھا۔۔

ختم شُد