Mashrqi Khirki


اس نے صبح کے دھندلکے
 میں اپنے گھر کی مشرقی کھڑکی کے پٹ کھول کر باہر 
دیکھنے کی کوشش کی تو اسے حد نظر سمندر اپنی وسعت میں سفید دھواں دار دھند کو اپنی لپیٹ میں لیئے ہوئےمحسوس ہوا ۔ گہری دھند کے باعث اسے سمندر کی سطح پر آبی پرندے بھی اڑتے دیکھائی نہیں دے رہے تھے ۔ صبا نے اپنے چہرے پر سمندر کی نمی ذدہ ہوا کومحسوس کیا تو اس نے ہوا کے نرم اور سرد احساس کو اپنے اندر جذب کرنے کے لیئے اپنی آنکھوں کو بند کرلیا اور کچھ دیر تک کھڑکی پر کھڑے رہ کر اس ہوا سے لطف اندوز ہوتی رہی ۔ گو کہ اسکا گھر گو نا گوں جمالیاتی پہلووں کو اپنے دامن میں سمیٹے سرد اور بے ضمیر انسانی رویوں کی چغلی کھارہا تھا مگر اپنی شان اور تعمیراتی فن کے باعث وہ اھل مکین کی خوشحالی اور مسرتوں کو اپنی ساخت اور بناوٹ کے حوالے سے بھی بہت کچھ کہ رہا تھا ۔ جبکہ تمام دنیاوی آسائشات کے باوجود صبا کا دکھ کم ہونے کا نام نا لیتا تھا ۔وہ ماضی کے دھندلکوں میں کھوئی ناصر سے اپنی آخری ملاقات شدت اور کرب کے ساتھ یاد کرنے لگی ۔ ٹھیک تین برس قبل اسی مقام پر اسکا ناصر سے عقد طے پایا تھا ۔ سرخ جوڑے، پھولوں کے گہنوں اور نوادرات سے سجی صبا خوشبو سے معطر اپنے کمرے میں زندگی کی انمول حسرت کو حقیقت کا روپ دھارتے ہوئے دیکھ کر حیا سے سرخ ہوئی جارہی تھی ۔ ایک طویل اور صبر آزما زندگی کے بعد راحت و سکون کے یہ قیمتی لمحات اس کی زندگی کے کل اثاثہ تھے ۔ اور وہ چاہتی تھی کہ یہ لمحے جو اسے ناصر کی رفاقت میں نصیب ہوئے ھیں کبھی مدھم نا ہوں ۔ دونوں نے ملکر زندگی کو حسین بتانے کے وعدے کیئے ۔ بچوں کی تعداد پر خوشگور تکرار نے ماحول کو اور پرفریب بنادیا تھا ناصر بضد تھے کہ چار ہونے چاہئے صبا کا اسرار تھا کہ دو بہتر ہیں پھرمتفقہ طور پر طے یہ پایا کہ تین عمدہ رہینگے یعنی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ۔ زندگی کے تین برسوں میں صبا کے ناصر سے تعلقات قابل دید تھے، رفاقت کے یہ برس لمحہ بہ لمحہ اسے یاد آتے رہے اور آنسووں کی لڑیاں اس کے دامن کو گیلا کرتی رہیں ۔ پھر وقت کی سیاہ آندھیوں نے پوری بساط پلٹ کر رکھدی ۔ موسم کہر ایسا چھایا کہ زندگی کے کئی برس اجلی دھوپ کو ترس کے رہ گئے ۔ نینوں میں کرب اور اذیت کے آنسووں نے ہمیشہ کے لئے بسیرا کرلیا ۔ اور موسم گل پر خزاں غالب رہی ۔ صبا فصل گل لالہ کی منتظر رہی اور خزاں کا جمود ایسا طاری رہا کہ اجڑے گلستاں نے بہار کا پلٹ کر منہ نا دیکھا ۔ اس کڑے پیچیدہ، اور تناو کے ماحول سے نکلنے کے لیئے صبا نے ایک نئے عزم اور ولولے سے اپنی زندگی کا آغاز کرنا چاہا مگر درد ایسا سنگین اور بے رحم تھا کہ اپنے حصار سے اسے نکلنے نا دیا ۔ اور وہ اس درد کی اسیر ہوکر بالکل محصور ہوکر رہ گئی ۔ آخر کارصبا گھر سے نکل کر باہر آئی اور سمندر کے کنارے پہنچ کر دیر تک لہروں کو دیکھتی رہی ۔ اسی اثنا صبا نے محسوس کیا کہ ایک اجنبی خوبرو فوٹوگرافرناریل کے درختوں کی اوٹ سے اسے مسلسل دیکھ رہا ہے ۔ دوںوں آہستہ آہستہ ایک دوسرے کے قریب آنے لگے اور انتہائی قریب پہینچ کر دونوں نے ایک دوسرے کو اپنی آنکھوں میں دیکھنا شروع کیا ۔ اور اس طرح بات چیت کے دور کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ دونوں دور تک ساتھ ساتھ سمندر کے کنارے چہل قدمی کرتے رہے۔ صبا اپنے سراپے، گھنے سیاہ بالوں، سفید رنگت، کے باعث اتنی پرکشش تھی کہ ہر آنکھ اب بھی اس کی طرف اٹھتی تھی ۔ وہ دونوں دور تک ایک دوسرے کے ساتھ چہل قدمی کرتے رہے ۔ اس اثنا میں دونوں نے ایک دوسرے کی تنہائی کے بارے میں دریافت کیا ۔ صبا نے اپنی تنہائی کا زکر کرتے ہوئے اس نوجوان کو بتایا کہ کس کرب میں اس نے یہ تین سال جدائی کے سہے ہیں اور اپنی بیٹی کی وفات پر اس کے کیا تاثرات تھے ۔ وہ چھ مہینے کی حاملہ تھی اور پہلے دردوں پر وہ کس قدر خوش تھی جسکا بیان اس کے بس سے باہر تھا ۔ اس دوران وہ اپنی ماں کے گھر پر مقیم تھی کیونکہ ناصرگھر سے کافی دور اپنی پیشہ وارانہ ذمے داریاں نبھاریے تھے ۔ ناصر اس کڑے وقت پر اس کے پاس نہیں تھے اور صبا کے کہنے کے باوجود وہ اس تک نا پہنچ سکے ۔ ڈاکٹرز کے مطابق ان لمحات میں اس کے شوہر کا صبا کے پاس ہونا بہت ضروری تھا ۔ تکلیف کے یہ مراحل ناصر کی آنکھوں میں دیکھ کر باآسانی گذر سکتے تھے ۔ زندگی میں یہ وہ لمحہ تھا جب صبا کو ناصر سے نفرت سی محسوس ہوئی اور یہ نفرت اس وقت حقارت میں بدل گئی جب اسکی بیٹی مردہ حالت میں پیدا ہوئی ۔ ناصر کی بعد میں آمد پر صبا نے ناصر سے ملنے سے انکار کردیا اور اسکا گھر چھوڑ کر اپنے آبائی گھر واپس آگئی ۔ صبا نے سرگوشی کے انداز میں نوجوان کو کہا کہ آج شام ناصر یہاں آرہے ہیں تاکہ طلاق کے معاملات اپنے انجام کو پہنچیں ۔ یہ کہہ کر صبا نے اس اجنبی سے رخصت لی اور گھر کی راہ ہولی ۔ ناصرشام کو تاخیر سے صبا کے پاس پہنچے اور ان سے تنہائی میں ایک ملاقات کی اجازت چاہی ۔ جس پر صبا نے اثبات میں جواب دیا ۔ ناصر کی آنکھیں غمزدہ تھیں وہ نحیف اور کمزور دیکھائی دے رہے تھے ۔ صبا میں بہت شرمندہ ہوں اور انتہائی تکلیف کے عالم میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں اور جو بدگمنایاں تمھارے دل میں میرے لیے ہیں اسے میں دور کرنا چاہتا ہوں ۔ صبا نے ناصر کی آنکھوں میں دیکھا تو اسے اپنا درد تیرتا ہوا نظر آیا اسے تین سالوں میں پہلی بار اپنا درد کم ہوتے محسوس ہوا اسے ایسا لگا کہ اس پر ڈھویا ہوا منوں وزن اتر چکا ہے ۔ صبا نے رندھی ہوئی آواز میں ناصر سے تمام گلے شکوے کردئے اور اپنے آپکو ہلکا محسوس کرنے لگی ۔ اسی دوران ناصر نے پوری سچائی سے اپنی پریشانیاں اور مجبوریاں صبا کے گوش گزار کردیں اور یوں وہ بھی اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرچکے ۔ کہر، دھند چھٹ چکی تھی ، اجلی دھوپ نے سارے منظر واضح، صاف، شفاف کردیے تھے، آبی پرندے اور انکی مدھر آوازیں صاف دیکھائی اور سنائی دے رہی تھیں ۔ صبا نے کمرے میں پھیلی خوشبو کو باہر نا نکلنے کے سہم سے کھڑکی کے پٹ مضبوطی سے بند کردئے ۔