yeh janta hoon keh khak aashian nahin hoti

یہ جانتا ہوں کہ خاک آشیاں نہیں ہوتی
مگر جلے ہوئے تنکو کو چن رہا ہوں میں

مٹا کے صفحہ ہستی سے اپنا نام و نشاں
زمانے بھر میں ترا نام لکھ چکا ہوں میں

ٹھہر گیا اسی مرکز پہ انقلاب آسی
شکست دل کی صدا بن کے رہ گیا ہوں میں