nafs ki zad pe har ek shola tamanna hai


نفس کی زد پہ ہر اک شعلہ تمنا ہے
ہوا کے سامنے کس کا چراغ جلتا ہے

ترا وصال تو کس کو نصیب ہے، لیکن
ترے فراق کا عالم بھی کس نے دیکھا ہے

ابھی ہیں قرب کے کچھ اور مرحلے باقی
کہ تجھ کو پا کے ہمیں پھر تری تمنا ہے