Soonay walon ko jagaya jaye ga



سونے والوں کو جگایا جائے گا
 ان کو سولی پر چڑھایا جائے گا
 جو بھی رکھتا ہے صداقت کی زباں 
دوستو ان کو ستایا جائے گا
 تیرگی بڑھ جائے گی جس سے کچھ اور
اک چراغ ایسا جلایا جائے گا
جس میں خود بھائی ہو دشمن بھائی کا
اب سبق ایسا پڑھایا جائے گا
جو وطن پر جان دینے کو کہے
ملک سے ان کو بھگایا جائے گا
باندھ کر بارود سارے جسم میں

آدمی کو بم بنایا جائے گا
جو فساد و ظلم کے بانی ہیں قدرؔ
 جشن اب ان کا منایا جائے گا