Raat bhar soi to kabhi jagi hoi aankhein


رات بھر سویی تو کبھی جاگی ہوئی آنکھیں 
ریشمی خوابوں میں لپٹی ہوئی آنکھیں 

شب بھر یہ خواب کی مے پتی رہی
دیں کے ہنگاموں سے تھکی ہوئی آنکھیں 

کر کے آئ ہیں طویل خلاؤں کا سفر 
نیند کے پر لئے ادتی ہوئی آنکھیں 

حقیقت کے دھوپ سے چندیا رہی ہیں 
صحن خواب میں کھیلت ہوئی آنکھیں 

آہٹ سہر پا کے چونک  پدی  ہیں 
کرنوں کے لو سے پگلتی ہوئ