surkharo nazroon mein Hone Ka Bahana chahoon


سرخرو نظروں میں ہونے کا بہانہ چاہوں
جو میرے پاس ہے سب تجھ پہ گنوانا چاہوں

پاس ہی چشمہ اُبلتا ہے یہ معلوم نہ تھا
تشنگی چل کہ تری پیاس بجھانا چاہوں

لہریں ساحل سے لپٹنے کو مچل جاتی تھیں
تجھ کو منظر میں وہی یاد دلانا چاہوں

وہ کہ ہر لمحہ مری روح کو سیراب کرے
میں کہ ہر رات بچھڑنے کا بہانہ چاہوں

تم تو زر خیز زمیں پاکے بھی مایوس ہوئے
میں تو صحرائوں میں بھی خواب اگانا چاہوں

کوچ کر جائوں گا پوپھٹتے ہی منزل کی طرف
آج کی رات مسافر ہوں ٹھکانہ چاہوں