Her ada-e-insani aaj qatilana hai


ہر ادائے انسانی آج قاتلانہ ہے
بات جو زباں پر ہے وہ منافقانہ ہے
وقت کے صحیفے میں
ہر سخن پرانا ہے
زندگی کے قاتل ہیں زندگی کے سوداگر
ہم کو اس المیے پر قہقہہ لگانا ہے
ہاتھ پائوں شَل ہوں تو غم نہیں کہ منزل تک
جس طرح بھی ممکن ہو مسکراکے جانا ہے
کون کہتا ہے ہستی
وہم کا خزانہ ہے
جس کی مٹھیوں میں ہے آج وقت کی گردش
اس کے سامنے دیکھو سرنگوں زمانہ ہے
بے خودی حنیف اپنی
اذن شاعرانہ ہے