Is chaman ko bahar di humne

اس چمن کو بہاردی ہم نے
پتی پتی نکھار دی ہم نے
اپنے خونِ جگر کے چھینٹوں سے
زینتِ لالہ زار دی ہم نے
یاں کسے ذوق چاک دامانی
دادِ فصلِ بہار دی ہم نے
نہ گئیں بے قرار یاں نہ گئیں
دل کو تسکیں ہزار دی ہم نے
بار ہا ان کو بھی شبِ فرقت
رحمتِ انتظار دی ہم نے
حسن کے بس کی بات کب تھی یہ
زلف گیتی سنواردی ہم نے
جسے کہتے ہیں کائناتِ سرور
ان کی آنکھوں پہ واردی ہم نے
زندگی کی سیہ پہاڑ سی رات
مہ رُخوں میں گزاردی ہم نے
خونِ ناحق بھی کام آہی گیا
ْخاک مستقبل نکھاردی ہم نے
اپنے ہی گھر میں اجنبی ہو کر
شامِ غربت گذاردی ہم نے
زندگی کی نزاکتوں کی قسم
پتھروں میں گزاردی ہم نے
قیس و فرہاد کو بھی حسرت ہو
آج تک عاشقی روایت تھی
اب حقیقت قرار دی ہم نے
ہم سے پہلے کہاں تھا یہ عالم
تیری دنیا سنواردی ہم نے
زندگی دورِ جام تھی ساغر
گردشوں میں گزار دی ہم نے