Dety hein wafaon hi se jafaon ka sila hum


دیتے ہیں وفا ہی سے جفائوں کا صلہ ہم
کیا دل کے تڑپنے کا اٹھاتے ہیں مزا ہم

مضراب ہر اک سانس ہے سازینۂ دل پر
دل سوز ترانے ہی سناتے ہیں سدا ہم

اس میں نہ کوئی جیت ، نہ ہے ہار کسی کی
آئو گلے مل جائیں محبت سے یاں باہم

دل عشق سے جو زندہ ہو، مرتا نہیں ہرگز
اس راہ میں مٹنے کو سمجھتے ہیں بقا ہم

ہم لائے ہیں اے دوستو! تنویرِ محبت
محفل میں اسی نور سے کرتے ہیں ضیا ہم

ہم یوں تو طلبگارِ عنایت ہیں شب و روز
کیا حکمِ خدا دہر میں لاتے ہیں بجا ہم

گلشن میں کہا پھول نے کھلتے ہی صبا سے
اک دن کے لئے آئے ہیں اے بادِ صبا ہم