Skip to main content

گزرے جفا کے دن محبت کی راتیں آئیں


گزرے جفا کے دن محبت کی راتیں آئیں
زندانِ محبت میں کم ہی ملاقاتیں آئیں
اک نادر آبگینہ تھا وہ اک پل میں لٹ گیا
رہِ عشق میں ایسی کئی دلفریب شامیں آئیں
آتش عشق ہے یہ بجھانے سے نہیں بجھتی
بجھانے کو مگر کئی ناکام برساتیں آئیں
دل تو اک ستارہ تھا سو بجھ کے رہ گیا
گردشِ افلاک میں ایسی کئی قباحتیں آئیں
وہ آتشیں آنکھیں بجھتی نہیں اک پل سرمئی آگ
ردائے کا جل پھر اور شعلے بھر کا نیں آئیں
لاکھ اشعار مگر کہاں اک غزل عاشقانہ
کئی افسانے ہوئے ہزار داستانیں آئیں