Tang aa gaye hein kya karin is zindagi se hum


تنگ آگئے ہیں کیا کریں اس زندگی سے ہم
گھبرا کے پوچھتے ہیں اکیلے میں جی سے ہم

مجبوریوں کو اپنی کہیں کیا کسی سے ہم
لائے گئے ہیں ، آئے نہیں ہیں خوشی سے ہم

کمبخت دل کی مان گئے ، بیٹھنا پڑا
یوں تو ہزار بار اُٹھے اس گلی سے ہم

یارب! بُرا بھی ہو دلِ خانہ خراب کا
شرما رہے ہیں اس کی بدولت کسی سے ہم

دن ہی پہاڑ ہے شب غم کیا ہوکیا نہ ہو
گھبرا رہے ہیں آج سرِ شام ہی سے ہم

دیکھا نہ تم نے آنکھ اٹھا کر بھی ایک بار
گزرے ہزار بار تمہاری گلی سے ہم

مطلب یہی نہیں ہے دلِ خانہ خراب کا
کہنے میں اس کے آئیں گذر جائیں جی سے ہم

چھیڑا عدو نے روٹھ گئے ساری بزم سے
بولے کہ اب نہ بات کریں گے کسی سے ہم

تم سن کے کیا کرو گے کہانی غریب کی
جو سب کی سن رہا ہے کہیں گے اُسی سے ہم

محفل میں اس نے غیر کو پہلو میں دی جگہ
گزری جو دل پہ کیا کہیں بسمل کسی سے ہم