Skip to main content

saans lena bhi saza lagta hai



احمد ندیم قاسمی مرحوم کی ایک خوبصورت غزل

سانس لینا بھی سزا لگتا ہے
اب تو مرنا بھی روا لگتا ہے

موسمِ گُل میں سرِ شاخِ گلاب
شعلہ بھڑکے تو بجا لگتا ہے

مُسکراتا ہے جو اِس عالم میں
بخدا، مجھ کو خُدا لگتا ہے

اتنا مانوس ہوُں سناّٹے سے
کوئی بولے تو بُرا لگتا ہے

کوہِ غم پر سے جو دیکھوں، تو مجھے
دشت، آغوشِ فنا لگتا ہے

سرِ بازار ہے یاروں کی تلاش
جو گزرتا ہے، خفا لگتا ہے

اُن سے مِل کر بھی نہ کافور ہوُا
درد یہ سب سے جُدا لگتا ہے

نطق کا ساتھ نہیں دیتا ذہن
شُکر کرتا ہوُں، گِلہ لگتا ہے

اِس قدَر تُند ہے رفتارِ حیات
وقت بھی رشتہ بپا لگتا ہے