Koi to rashak o raqabat ka qayda ho ga


کوئی تو رشک و رقابت کا قاعدہ ہوگا
مرے حبیب کا بھی جس میں فائدہ ہوگا

یہ کون پوچھے رسولوں سے کیوں ہے سچ رسوا
خدا سے کوئی تو ان کا معاہدہ ہوگا

شہید ہوگی نہ سیفِ ستم سے جاں اپنی
ہر اک نفس سرِ مقتل مجاہدہ ہوگا

الگ ہوئے بھی اگر تم کسی بہانے سے 
مراوجود نہ تم سے علاحدہ ہوگا

مجھے نعیمؔ خبر ہے گئے جو اس در تک
گلے کا طوق کوئی حکم عائدہ ہوگا