Din ki fitrat mein inayat aur Masihai hai


دن کی فطرت میں عنایت نہ مسیحائی ہے
رات آئے تو سمجھئے کہ پری آئی ہے

ہجر ہے یاد کی خوشبو میں بکھرتے رہنا
وصل اک تازہ گلستاں سے شناسائی ہے

اُن کی آنکھوں سے منور ہے جہانِ امکاں
اُن کی زلفوں سے معطر میری تنہائی ہے

اپنے داغوں کو تکا کرتے ہیں تارے شب بھر
چاند بھی اپنے ہی صحرا کا تماشائی ہے

حسن کیوں ایک ہی خلوت میں گرفتار رہے
عشق جب اپنی روایات میں ہر جائی ہے

نقش ایسے ہیں کہ شرمائے صنم خانہ چیں
میری غزلوں میں حسنؔ ہند کی رعنائی ہے