Ankhon mein bas raha hai ada ke bagher bhi


آنکھوں میں بس رہا ہے ادا کے بغیر بھی
دل اس کو سن رہا ہے صدا کے بغیر بھی

کھلتے ہیں چند پھول بیاباں میں بے سبب
گرتے ہیں کچھ درخت ہوا کے بغیر بھی

میں ہوں وہ شاہ بخت کہ درباِ حُسن میں
چلتا ہے اپنا کام وفا کے بغیر بھی

منصف کو سب خبر ہے مگر بولتا نہیں
مجھ پر ہوا جو ظلم، سزا کے بغیر بھی

بندوں نے جب سے کام سنبھالا ہے دہر کا
نازل ہے روز قہر خدا کے بغیر بھی