Phir intazar ki lazzat naseeb ho ke na ho


پھر انتظار کی لذت نصیب ہو کہ نہ ہو
خدا کرے کوئی خط کا جواب رہنے دے

تصورات کی دنیا ہے اپنے مطلب کی
کچھ اور دن ابھی رخ پر نقاب رہنے دے

تمہیں کہو غم فردا کا ہوش ہے کس کو
جو کل کے واسطے تھوڑی شراب رہنے دے

خیال اور کسی کا اگر نہیں نہ سہی
تجھے تو چین سے تیرا شاب رہنے دے

جواب ریختہ انوری نہ لکھ امید
یہ لا جواب غزل ہے جواب رہنے دے