Nama bar unn se yeh kehna zara tafseer se sath


نامہ بر اُن سے یہ کہنا ذرا تفسیر کے ساتھ
اک دھڑکتی ہوئی شے ہے مری تحریر کے ساتھ

جاوداں کرب کو میرے ، اے مصور کردے
کھینچ دے درد بھی میرا ، مری تصویر کے ساتھ

ہوں اندھیرا ، ہے مرے حلقۂ آغوش میں نور
میں نہیں رکھتا عداوت کوئی تنویر کے ساتھ

ایک جھونکے کی ضرورت ہے بکھر جانے کو
بندشِ دست و ہنر ہے کوئی تعمیر کے ساتھ

دل کی تسکین کی خاطر ہے لبوں پر اے دعا
ورنہ معلوم ہے نسبت تری تاثیر کے ساتھ

دوست ، دشمن کی نہیں اُس کو ہے پہچان کوئی
کھیل اتنا نہیں اچھا کبھی شمشیر کے ساتھ

ہے غزل میری حسن ، طرزِ سخن میرا ہے
کب ہے دعویٰ کہ تقابل میں ہوئی میر کے ساتھ