dil ki tabahiyon ka tujhe kyun malal hai


دل کی تباہیوں کا تجھے کیوں ملال ہے
جس کی یہ انجمن ہے اسے خود خیال ہے

چہرہ اداس اداس ہے دل بھی نڈھال ہے
جو میرا حال تھا وہی اب ان کا حال ہے

طوفاں کی زد سے بچ کے گذر نا نہیں کمال
موجوں میں�غرق ہو کے ابھر نا کمال ہے

ان کو جفا پہ فخر ہے ہم کو وفا پہ ناز
ان کی مثال ہے نہ ہماری مثال ہے

راتوں کی کروٹوں سے تو دنیا ہے بیخبر
آنکھوں کا رنگ سب سے چھپا نا محال ہے

نظریں نہ ہوں تو حسن بھی بے کار ہے صبا
گویا بہار میری نظر کا جمال ہے