ab ghabra ke yeh kahty hein ke mar jayenge


اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مرجائیں گے
مرکے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

تم نے ٹھہرائی اگر غیر کے گھر جانے کی
تو ارادے یہاں کچھ اور ٹھہر جائیں گے

ہم نہیں وہ جو کریں خون کا دعویٰ تجھ پر
بلکہ پوچھے گا خدا بھی تو مُکر جائیں گے

آگ دوزخ کی بھی ہو جائے گی پانی پانی
جب یہ عاصی عرقِ شرم سے تر جائیں گے

نہیں پائے گا نشاں کوئی ہمارا ہر گز
ہم جہاں سے روشِ تیر نظر جائیں گے

ذوقؔ جو مدرسے کے بگڑے ہوئے ہیں مُلاّ
ان کو مے خانے میں لے آئو، سنور جائیں گے