مرحلہ سخت سہی ہم سفراں اور بھی ہیں
چڑھتے دریا میں سر آب رواں اور بھی ہیں
ایک ہم ہی تو نہیں ہیں تری وحشت کے اسیر
دیکھ اے موج بلا ! رقص کناں اور بھی ہیں
ختم ہوگا نہ ابھی سلسلہ مکر و فریب
ناخدا اور بھی ہیں، راہبراں اور بھی ہیں
آ گئے ہیں ترے در پر تو بہت ناز نہ کر
کوچہ اہل صنم ، کوے بتاں اور بھی ہیں
عشق اب ایک ہی معشوق سے منسوب نہیں
خوش بدن اور بھی ہیں ، ماہ رخاں اور بھی ہیں
صرف تجھ کو نہیں قامت کی بلندی کا گماں
خود ستاں شہر می کوتاہ قداں اور بھی ہیں
شرگوئی بھی عبادت ہے ہماری 'عالم
ورنہ دنیا میں کی کارزیاں اور بھی ہیں